جنرل پیٹریاس آج افغانستان سے رخصت ہو رہے ہیں | حالات حاضرہ | DW | 18.07.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنرل پیٹریاس آج افغانستان سے رخصت ہو رہے ہیں

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس آج پیر کے روز افغانستان سے امریکی افواج کے کمانڈر کا عہدہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ روڈریگیز کو منتقل کر رہے ہیں۔ اتوار کو امریکی افواج کے سربراہ مائک مولن نے افغان صدر سے ملاقات بھی کی۔

جنرل پیٹریاس سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے

جنرل پیٹریاس سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے

افغانستان میں امریکی افواج کی کمان آج پیر کے روز جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ روڈریگیز لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے آج افغانستان میں ایک تقریب منعقد کی جا رہی ہے جس میں امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائک مولن بھی شرکت کر رہے ہیں۔ ایڈمرل مائک مولن افغانستان کے دورے پر ہیں اور انہوں نے گزشتہ روز افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔

NO FLASH Karzai Beerdigung Afghanistan

ایک ہفتے کے اندر افغان صدر حامد کرزئی کے دو قریبی ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے

جنرل پیٹریاس اپنا عہدہ جنرل روڈریگیز کو ایک ایسے وقت سونپ رہے ہیں جب ایک ہفتے کے اندر افغان صدر حامد کرزئی کے دو قریبی ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اتوار کے روز مسلح حملہ آوروں نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے سینئر مشیر جان محمد خان کو ہلاک کردیا۔ قبل ازیں صدر کرزئی کے بھائی کو انہی کے محافظ نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ صورت حال افغان حکومت کے لیے تو پریشانی کا باعث ہے ہی، امریکہ اور نیٹو کے لیے بھی یہ ایک پریشان کن امر ہے، جو افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کے مرحلہ وار عمل کو پر امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ روز صوبہ بامیان کی سکیورٹی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر افغانستان کی مقامی فوج کے حوالے کی گئیں۔ امریکی صدر باراک اوباما کے اعلان کے مطابق اگلے برس موسم گرما تک تینتیس ہزار امریکی افواج کو افغانستان سے واپس بلا لیا جائے گا اور سات علاقوں میں سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فورسز کے حوالے کر دی جائیں گی۔ تاہم مبصرین کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں کی یہ خواہش ہو گی کہ وہ انخلاء کے اس عمل کو سبوتاژ کر کے دنیا کو یہ بتا سکیں کہ امریکہ اور نیٹو کو افغانستان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM