جنرل اسمبلی ميں ايرانی اور مصری صدر کی تقارير
27 ستمبر 2012
ايرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کے عام اجلاس سے اپنے آخری خطاب ميں دنيا ميں غربت کی شکايت کی اور اس کا ذمہ دار ’سرمايہ داری‘ اور ’بعض ممالک‘ کو ٹھہرايا۔ اُنہوں نے ايرانی ايٹمی پروگرام کے تنازعے سے متعلق براہ راست تو کچھ نہيں کہا، ليکن اسرائيل پر الزام لگايا کہ وہ اُن کے ملک کو ايٹمی ہتھياروں سے خوفزدہ کر رہا ہے: ’’غير مہذب صيہونی ہماری عظيم قوم پر فوجی حملے کی جو مسلسل دھمکياں دے رہے ہيں، وہ اس تلخ حقيقت کی ایک واضح نشانی ہے۔‘‘
اسرائيليوں کو يہ اپنی توہين محسوس ہوئی اور ايرانی صدر کی تقرير کے دوران اسرائيلی مندوب کی کرسی خالی رہی۔ اسرائيلی وزير اعظم نيتن ياہو نے اسے ايک سياہ دن قرار ديا۔ امريکی مندوب نے بھی ايرانی صدر کی تقرير کا بائيکاٹ کيا۔
مصر کے نئے صدر محمد مُرسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب ميں کہا کہ عالمی سياست کا اہم ترين مسئلہ فلسطين کا تنازعہ ہے اور فلسطينی قوم کو آزادی اور امن کے ثمرات ملنے چاہئيں۔ انہوں نے کہا: ’’يہ ايک ذلت آميز بات ہے کہ آزاد دنيا بين الاقوامی برادری کے ايک رکن کو ايک خود مختار رياست کے قيام کا حق دينے سے انکار کر رہی ہے۔‘‘
مصری صدر نے شام کے تنازعے کو ’ہمارے دور کا الميہ‘ قرار ديا۔ اُنہوں نے شام کی خانہ جنگی ختم نہ ہونے تک چين سے نہ بيٹھنے کا عہد کيا۔ صدر مُرسی نے شام کے مسئلے کے ايک فوجی حل کی صاف طور پر مخالفت کی اور کہا کہ شامی سالميت کو قائم رکھنے اورکسی امتياز کے بغير تمام عوامی گروپوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شام کو غير ملکی فوجی مداخلت کے خطرے سے بچايا جا سکے۔
محمد مُرسی شام کے بحران کو حل کرنے کے ليے ستمبر کے شروع ميں ايران، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ايک چار ملکی رابطہ گروپ بھی تشکیل دے چکے ہیں۔
عرب ليگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے بھی جرمن وزير خارجہ ويسٹر ويلے سے ايک ملاقات ميں يہ واضح کر ديا کہ وہ شام ميں فوجی مداخلت کے خلاف ہيں۔انہوں سلامتی کونسل سے ايک بار پھر اتحاد کی اپيل کی اور کہا کہ ايک واضح حکمت عملی کے بغير شام کو انتشارکا خطرہ درپیش ہے۔
C. Sarre, sas / C. Hennen, mm