جعلی شادیوں کے خلاف جرمن اور ڈینش پولیس کی کارروائیاں | معاشرہ | DW | 14.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جعلی شادیوں کے خلاف جرمن اور ڈینش پولیس کی کارروائیاں

ایک ہزار سے زائد مبینہ جعلی شادیوں سے ملنے والے ثبوتوں کی روشنی میں جرمنی اور ڈنمارک میں ایسی شادیاں کروانے والے گروہ کے خلاف پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے  جرمن پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ جعلی شادیاں کروانے والا گروہ اُن ایشیائی مہاجرین کی یورپی شہریوں سے کاغذی شادیاں کروانے میں ملوث ہے جو یورپی ممالک میں مستقل رہائش کے خواہش مند ہیں۔ 

اس گروہ کے ارکان تک رسائی کے لیے پولیس نے لائپزگ، ایلین برگ اور ہیٹ شٹیڈ سمیت مشرقی جرمنی کے کئی شہروں میں چھاپے مارے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی اور مغربی جرمنی کے معتدد علاقوں میں بھی ثبوت اکھٹا کرنے کے لیے چھاپے مارے گئے ہیں تاہم اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

جرمنی ميں مہاجرین کی جعلی شادیاں کرانے والا گروہ گرفتار

پولیس کے مطابق مشرقی جرمنی میں اس گروہ کے تین مشتبہ افراد،  پاکستانی اور بھارتی مہاجرین کی یورپی خصوصاﹰ مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ شادیوں کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے میں ملوث ہیں۔ یہ گروہ شادی کے بعد یورپی ممالک میں مستقل رہائش کے ایک اجازت نامے کے کامیاب اجراء پر  22 ہزار یورو یا 25,900  ڈالر وصول کرتے ہیں۔  

ان چھاپوں سے شمالی جرمنی میں موجود اب تک مبینہ طور پر پانچ ایسے جرمن شہریوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں پولیس کامیاب ہوئی ہے جنہوں نے یورپی باشندوں کو جعلی شادیوں کے لیے بھرتی کر رکھا ہے۔ بھرتی شدہ ان افراد کو رہائش کے اجازت نامے کے کامیاب اجرا کے بعد فی اجازت نامہ ایک ہزار یورو کمیشن بھی دیا جاتا ہے۔  

ع ف /ع ب (ڈی پی اے)

DW.COM