جسم فروش مسلم خواتین اپنے لیے ’باعزت تدفین‘ کی خواہش مند | معاشرہ | DW | 13.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جسم فروش مسلم خواتین اپنے لیے ’باعزت تدفین‘ کی خواہش مند

اس کا شمار دنیا کے بڑے قحبہ خانوں میں ہوتا ہے اور یہاں زیادہ تر جسم فروش خواتین مسلمان ہیں۔ انہیں زندگی میں کم ہی عزت ملتی ہے لیکن مرنے کے بعد بھی ان کا مقدر بےنام قبریں یا پھر دریاؤں کا گدلا پانی ہی ہوتے ہیں۔

اب تک صورتحال یہی تھی!

حمیدہ بیگم بنگلہ دیش کے سب سے بڑے 'دولتدیا‘ قحبہ خانے سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی سیکس ورکر ہیں، جن کا جنازہ باقاعدہ اسلامی طریقے سے پڑھایا گیا اور ان کی تدفین بھی اسلامی طریقے سے کی گئی۔ مسلم اکثریتی بنگلہ دیش میں اس طرح ایک دیرینہ روایت توڑ دی گئی ہے۔ بہت سے لوگ انتقال کر جانے والی جسم فروش مسلم خواتین کے باقاعدہ جنازے کو 'غیراخلاقی‘ سمجھتے ہیں۔

پینسٹھ سالہ حمیدہ بیگم کی قبر کے قریب سے درجنوں خواتین آنسو بہاتے ہوئے گزر رہی تھیں۔ اس کی ایک وجہ تدفین کے طریقہء کار میں ہونے والی علامتی پیش رفت بھی ہے۔ حمیدہ بیگم کی بیٹی لکشمی کا  کہنا تھا، ''میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری والدہ کی تدفین اس قدر عزت و احترام سے ہو گی۔‘‘ لکشمی فرط جذبات میں بتا رہی تھیں، ''میری والدہ کے ساتھ ایک انسان جیسا سلوک کیا گیا ہے۔‘‘

بنگلہ دیش میں مذہبی رہنما گزشتہ کئی عشروں سے جسم فروش خواتین کے جنازے پڑھانے سے انکار کرتے آئے ہیں کیوں کہ ان کی نظر میں جسم فروشی ممنوع اور غیر اخلاقی ہے۔ اس مرتبہ بھی حمیدہ بیگم کو ایک بے نام قبر میں دفن کرنے کی تیاری ہو رہی تھی جیسا کہ اکثر اوقات کیا جاتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ سیکس ورکرز کی تنظیم نے مقامی پولیس سے اپیل کی کہ وہ مذہبی رہنماؤں سے بات کریں تاکہ حمیدہ بیگم کی تدفین باقاعدہ اسلامی طریقے سے کی جا سکے۔

Prostitution ist in Bangladesch mit muslimischer Mehrheit legal (AFP/M. U. Zaman)

حمیدہ بیگم بنگلہ دیش کے سب سے بڑے 'دولتدیا‘ قحبہ خانے سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی سیکس ورکر ہیں، جن کا جنازہ باقاعدہ اسلامی طریقے سے پڑھایا گیا

مقامی پولیس کے سربراہ عاشق الرحمان اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں پیش پیش تھے۔ وہ بتاتے ہیں، ''امام صاحب پہلے تو نماز جنازہ پڑھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ لیکن ہمارا ان سے سوال یہ تھا کہ آیا اسلام کسی جسم فروش کے جنازے میں شرکت کرنے سے منع کرتا ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔‘‘

بنگلہ دیش کا شمار ان چند مسلمان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں جسم فروشی کو باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اٹھارہ برس یا اس سے زائد کی عمر کے سیکس ورکرز کے پاس اپنے بالغ ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہونا اور ان کی رضامندی لازمی ہوتے ہیں۔ تاہم حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ متعدد فلاحی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق سات سات سال کی لڑکیوں تک کو جسم فروشی کے لیے بیچ دیا جاتا ہے۔ یہ فلاحی تنظیمیں متعدد مرتبہ خبردار کر چکی ہیں کہ بچوں کی تجارت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ پولیس بھی اس میں ملوث ہے۔ پولیس قحبہ خانوں کے مالکان سے رشوت لیتے ہوئے اٹھارہ برس سے کم عمر کی لڑکیوں کو بھی جسم فروشی کے سرٹیفیکیٹ جاری کر دیتی ہے۔  حمیدہ بیگم کی عمر بھی بارہ برس تھی، جب انہوں نے اسی علاقے میں جسم فروشی شروع کی تھی۔ دولتدیا میں بارہ سو سے زائد لڑکیاں اور خواتین جسم فروشی کرتی ہیں اور یہاں روزانہ آنے والے  افراد کی تعداد تقریباﹰ پانچ ہزار ہوتی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکا سے تقریبا ایک سو کلومیٹر مغرب کی طرف واقع اس علاقے کا شمار بنگلہ دیش کے ان بارہ قانونی علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں جسم فروشی کی باقاعدہ اجازت ہے۔ اس کے قریب ہی ایک مصروف ترین شاہراہ اور ایک ریلوے جنکشن بھی ہے۔ نہ صرف مقامی افراد بلکہ مسافر بھی یہاں کثرت سے آتے ہیں۔

جسم فروشی کا یہ اڈہ تقریباﹰ ایک صدی پہلے برطانوی نوآبادیاتی دور میں قائم کیا گیا تھا۔ لیکن اپنی موجودہ جگہ پر یہ انیس سو اٹھاسی میں اس وقت آیا، جب مقامی لوگوں نے پرانے قحبہ خانے کو آگ لگا دی تھی۔ اب دریائے پدما کے کنارے سینکڑوں جسم فروش خواتین اور ان کے بچے سیمنٹ اور ٹین کی چھتوں والے گھروں میں رہتے ہیں۔

گزشتہ کئی عشروں سے یہاں وفات پا جانے والی جسم فروش خواتین کی لاشوں کو یا تو دریا میں پھینک دیا جاتا تھا یا پھر انہیں کسی بے نام قبر میں اتار دیا جاتا تھا۔ سن دو ہزار کے آغاز میں مقامی حکام نے انہیں ایک کوڑا کرکٹ پھینکنے والی جگہ بھی الاٹ کر دی تھی تاکہ وہاں ایسی پیشہ ور خواتین کی تدفین ہو سکے۔ سوگوار خاندان ایسی خواتین کے جنازوں کے لیے وہاں موجود نشے کے عادی افراد کو پیسے دیتے اور وہ رات کی تاریکی میں بغیر کسی باقاعدہ نماز جنازہ کے ان کی تدفین کر دیتے۔

جھومر بیگم ایک چھ رکنی جسم فروش گروپ کی سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''ہم جب بھی دن کے وقت تدفین کی کوشش کرتے تھے، تب گاؤں والے بانسوں اور لاٹھیوں سے ہمارا پیچھا کرتے تھے۔‘‘ وہیں اپنی بیٹی کے ہمراہ جسم فروشی کرنے والی نیلی بیگم کا کہنا تھا، ''یہ بالکل ایسا ہی تھا، جیسے کوئی کتا مر گیا ہو۔‘‘

Prostitution ist in Bangladesch mit muslimischer Mehrheit legal (AFP/M. U. Zaman)

پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں تقریباﹰ چار سو افراد شریک ہوئے

لیکن اب حمیدہ بیگم کی تدفین کے بعد یہاں کی تمام خواتین میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ ان کی تدفین بھی 'باعزت طریقے‘ سے ممکن ہو سکے گی۔ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں تقریباﹰ چار سو افراد شریک ہوئے، ''یہ ایک بے مثال منظر تھا۔ لوگ رات تک جنازے میں شرکت کے لیے انتظار کرتے رہے۔ تمام جسم فروش خواتین کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔‘‘

یہاں کے مقامی حکام اور پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ جنازے میں شرکت کرنے والے مقامی کونسلر جلیل فخر کا کہنا  تھا کہ جسم فروش خواتین کی بہتر تدفین ان کا حق ہے، ''موت کے بعد تو ان سے منصفانہ سلوک روا رکھا جائے۔ اور میں کون ہوتا ہوں، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے والا؟ اگر کسی نے کوئی گناہ کیا بھی ہے، تو یہ اس کا اور اس کے اللہ کا معاملہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے خود فیصلہ کرنا ہے۔ آپ اور میں فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟‘‘

ا ا / م م ( اے ایف پی)