جرمن چانسلر کا بھارتی دورہ: کئی سمجھوتے متوقع | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر کا بھارتی دورہ: کئی سمجھوتے متوقع

جرمن چانسلر انگیلا میرکل جمعرات سے بھارت کا دورہ شروع کریں گی۔ ان کے تین روزہ دورے میں کئی اہم سمجھوتے متوقع ہیں۔

جرمن رہنما نے اپنے بھارتی دورے سے قبل جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ ملاقاتوں میں پوری توجہ تجارت، اقتصادی معاملات، اختراعی رابطہ کاری، ڈیجیٹل امور اور ماحولیاتی تحفظ پر مرکوز کی جائے گی۔

بھارت کے دورے پر جرمن چانسلر میرکل کے ہمراہ ایک بڑا وفد بھی جائے گا۔ بھارت میں متعین جرمن سفیر والٹر جے لنڈنر نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ چانسلر کے اس وفد میں اُن کی کابینہ کے کئی اراکین بھی شامل ہوں گے۔ وزراء کے علاوہ اہم کاوباری افراد بھی بھارت جانے والے وفد کا حصہ ہیں۔

انگیلا میرکل اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والے ملاقات میں دو طرفہ روابط کو مزید مستحکم کرنے کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کو فوقیت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جرمن رہنما بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر بھی توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

نئی دہلی میں جرمن سفیر نے یہ بھی بتایا کہ چانسلر میرکل کے دورے کے دوران کئی سمجھوتے طے پائیں گے اور ان میں خاص طور پر مصنوعی دانش کے استعمال اور شہروں میں ماحول دوست نقل و حرکت کے سمجھوتوں کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہو گی۔

Wechsel an der EZB Spitze

بھارت کے دورے پر جرمن چانسلر میرکل کے ہمراہ ایک بڑا وفد بھی جائے گا

براعظم یورپ میں جرمنی بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ اس وقت بھارت کے طول و عرض میں قریب سترہ سو کمپنیاں مختلف شعبوں میں اپنی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان ٹریڈنگ کمپنیوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تجارتی روابط میں غیرمعمولی گرمجوشی پائی جاتی ہے۔

جرمنی اور بھارت کی دوطرفہ تجارت کا حجم چوبیس بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ گزشتہ برس یہ حجم بائیس بلین ڈالر کے مساوی تھا۔ رواں برس مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال میں دو طرفہ تجارت کے حجم میں دو بلین ڈالر سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ انیس برسوں کے دوران جرمن کمپنیوں نے بھارت میں بارہ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

ع ح ⁄ ع ا (روئٹرز)

DW.COM