جرمن چانسلر میرکل ایک بار پھر نوبل امن انعام کے لیے نامزد | حالات حاضرہ | DW | 03.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر میرکل ایک بار پھر نوبل امن انعام کے لیے نامزد

انگیلا میرکل کی مہاجر دوست پالیسیوں کے باعث ان کا دوبارہ چانسلر بننا مشکل دکھائی دے رہا ہے، تاہم ان کی بین الاقوامی پزیرائی میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اسی لیے ان کو ایک مرتبہ پھر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

جرمن چانسلر میرکل ایک مرتبہ پھر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کی گئی ہیں، لیکن ان کے مقابلے میں کئی اہم امیدوار بھی ہیں اور جرمنی میں مہاجرین کی آمد کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے باعث ان کے لیے ملکی سیاسی صورت حال نہایت پیچیدہ بھی ہے۔ کیا وہ نوبل انعام جیت پائیں گی؟

مہاجرین کے مسئلے کو انسانی حوالوں سے حل کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر دنیا بھر میں میرکل کی پزیرائی کی جا رہی ہے۔ یورپ کے مالیاتی بحران کو احسن طریقے سے حل کرنا اور یوکرائن میں مبینہ روسی مداخلت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران اور خانہ جنگی میں جرمنی کے عمدہ کردار کی بھی تحسین کی جا رہی ہے۔ تاہم اس برس کے نوبل امن انعام کے لیے اس بار میرکا مقابلہ تین سو چھہتر ریکارڈ امیدواروں سے ہے۔

باسٹھ سالہ میرکل کو نامزد کرتے ہوئے نوبل امن کمیٹی کا کہنا تھا کہ جرمن چانسلر امن کی داعی ہیں، جو ایک پر امن اور متحد دنیا دیکھنا چاہتی ہیں۔

امریکی فوربس میگزین نے سن دو ہزار گیارہ میں میرکل کو دنیا کی طاقت ور ترین خواتین کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ سن دو ہزار پندرہ میں ان کو مؤقر ٹائم میگزین نے سال کی شخصیت قرار دیا تھا۔

کووینٹری سینٹر کے مائیک ہارڈی کا میرکل کی نامزدگی پر کہنا تھا، ’’میرکل کی نامزدگی لازمی تھی۔ ہم انہیں امن کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ ایک منقسم جرمنی میں پیدا ہوئیں اور اب وہ دنیا کے اتحاد کے لیے کام کر رہی ہیں۔‘‘

تاہم میرکل کی بین الاقوامی شہرت ان کے اپنے ملک میں کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔ ان کی مہاجر دوست پالیسیوں کے اثرات ملکی سیاست پر گہرے ہیں اور ان کی قدامت پسند کرسچین ڈیموکریٹک یونین جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس مہاجر مخالف جماعت، آلٹرنیٹیو فار جرمنی کو ریاستی انتخابات میں فائدہ حاصل ہوا ہے۔

اس کے باوجود ناروے سے تعلق رکھنے والے مؤرخ ایزلے سووین پرامید ہیں کہ میرکل اس برس نوبل امن انعام حاصل کر سکتی ہیں۔ ’’پچھلے برس  جب میرکل کو یہ انعام نہیں ملا تھا، صورت حال مختلف تھی۔ اس بار ایسا نہیں ہے۔‘‘

اگر میرکل کو سن دو ہزار سولہ کا امن انعام ملتا ہے تو وہ یہ انعام حاصل کرنے والی تیسری جرمن چانسلر ہوں گی۔ انیس سو چھبیس میں یہ انعام گوستاو اشٹریسمان کو اور انیس سو اکہتر میں ولی برانڈٹ کو دیا گیا تھا۔ دو مزید جرمن امن کارکن بھی یہ انعام جیت چکے ہیں۔

DW.COM

اشتہار