اے ایف ڈی کو انتہا پسند قرار دینے سے متعلق جرمن عدالتی فیصلہ
26 فروری 2026
شہر کولون کی ایک انتطامی عدالت نے یہ فیصلہ ملک میں تارکین وطن کی آمد اور اسلام کی مخالفت کے لیے مشہور، دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) یا 'متبادل برائے جرمنی‘ نامی سیاسی جماعت کی طرف سے دائر کردہ ایک فوری مقدمے کی سماعت کے بعد جمعرات 26 فروری کے روز سنایا۔
جرمن پارلیمان میں ہٹلر سیلوٹ: اے ایف ڈی کے رکن پر فرد جرم عائد
اس مقدمے میں اے ایف ڈی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملک میں داخلی سلامتی کی ذمے دار انٹیلیجنس ایجنسی، جو وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین کہلاتی ہے، کو پابند بنایا جائے کہ وہ 'متبادل برائے جرمنی‘ کو 'یقینی طور پر دائیں بازو کی ایک انتہاپسند تنظیم‘ قرار دے کر اس کی ایسی کسی تنظیم کے طور پر درجہ بندی نہ کرے۔
اس مقدمے میں کولون کی عدالت نے جرمنی کی داخلی سیکرٹ سروس کو حکم دیا کہ وہ فی الحال اے ایف ڈی کی ایسی کسی باقاعدہ درجہ بندی سے بھی باز رہے۔
جرمنی میں نسل پرستی اور تارکین وطن سے متعلق بحث پر ایک نظر
جرمنی: اے ایف ڈی کو پارٹیز ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر 1.1 ملین یورو کا جرمانہ
نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اس بارے میں اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ اے ایف ڈی کے چند داخلی عناصر کی سوچ ایسے اشارے دیتی ہے کہ وہ ملک کے فری ڈیموکریٹک نظام کے منافی ہے، تاہم اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر اے ایف ڈی کا مجموعی تشخص ایسا ہے کہ اس کی سرگرمیوں کو وفاقی جرمن آئین کے منافی قرار دیا جائے۔
داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کو دیے جانے والے عدالتی حکم میں کولون کی انتظامی عدالت نے کہا کہ اگرچہ اے ایف ڈی کے خلاف یہ شبہات پائے جاتے ہیں کہ اس کی سرگرمیاں وفاقی جرمن آئین کے منافی ہو سکتی ہیں، تاہم فی الحال داخلی سلامتی کی نگران جرمن انٹیلیجنس اس پارٹی کی نہ تو 'لازمی طور پر دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم‘ کے طور پر کوئی درجہ بندی کر سکتی ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے بارے میں ایسا کوئی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اے ایف ڈی کو ’انتہاپسند‘ قرار کیوں دیا؟ امریکہ کی جرمنی پر تنقید
جرمن خفیہ ایجنسی نے اے ایف ڈی کو ’انتہا پسند‘ تنظیم قرار دے دیا
ساتھ ہی عدالت نے داخلی سیکرٹ سروس کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ فی الحال اپنی ایسی کسی کارروائی کا باقاعدہ عوامی اعلان یا اس کی تشہیر بھی نہیں کر سکتی کہ اس نے اے ایف ڈی کو 'یقینی طور پر انتہائی دائیں بازو کی تنظیم‘ قرار دیا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت کا یہ فیصلہ فوری سماعت کے بعد عبوری طور پر سنایا گیا ہے اور یہ مکمل اور تفصیلی سماعت کے بعد سنایا جانے والا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔
ادارت: جاوید اختر