1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
قانون کی بالادستیجرمنی

اے ایف ڈی کو انتہا پسند قرار دینے سے متعلق جرمن عدالتی فیصلہ

مقبول ملک ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ
26 فروری 2026

جرمنی کی ایک انتظامی عدالت نے ایک فوری مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ملک کی داخلی انٹیلیجنس سروس کو انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی کو ایک ’یقینی طور پر انتہا پسند تنظیم‘ قرار دینے سے فی الحال روک دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/59Tv4
اے ایف پی کا پارٹی لوگو
اے ایف پی کا پارٹی لوگوتصویر: Carsten Koall/dpa/picture alliance

شہر کولون کی ایک انتطامی عدالت نے یہ فیصلہ ملک میں تارکین وطن کی آمد اور اسلام کی مخالفت کے لیے مشہور، دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) یا 'متبادل برائے جرمنی‘ نامی سیاسی جماعت کی طرف سے دائر کردہ ایک فوری مقدمے کی سماعت کے بعد جمعرات 26 فروری کے روز سنایا۔

جرمن پارلیمان میں ہٹلر سیلوٹ: اے ایف ڈی کے رکن پر فرد جرم عائد

اس مقدمے میں اے ایف ڈی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملک میں داخلی سلامتی کی ذمے دار انٹیلیجنس ایجنسی، جو وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین کہلاتی ہے، کو پابند بنایا جائے کہ وہ 'متبادل برائے جرمنی‘ کو 'یقینی طور پر دائیں بازو کی ایک انتہاپسند تنظیم‘ قرار دے کر اس کی ایسی کسی تنظیم کے طور پر درجہ بندی نہ کرے۔

اس مقدمے میں کولون کی عدالت نے جرمنی کی داخلی سیکرٹ سروس کو حکم دیا کہ وہ فی الحال اے ایف ڈی کی ایسی کسی باقاعدہ درجہ بندی سے بھی باز رہے۔

جرمنی میں نسل پرستی اور تارکین وطن سے متعلق بحث پر ایک نظر

کولون شہر میں جرمنی کی داخلی سیکرٹ سروس کے دفتر کے عمارت کے باہر لگا ہوا اس ادارے کے نام کا بورڈ
کولون شہر میں جرمنی کی داخلی سیکرٹ سروس کے دفتر کے عمارت کے باہر لگا ہوا اس ادارے کے نام کا بورڈتصویر: Christoph Hardt/Panama Pictures/picture alliance

جرمنی: اے ایف ڈی کو پارٹیز ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر 1.1 ملین یورو کا جرمانہ

نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اس بارے میں اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ اے ایف ڈی کے چند داخلی عناصر کی سوچ ایسے اشارے دیتی ہے کہ وہ ملک کے فری ڈیموکریٹک نظام کے منافی ہے، تاہم اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر اے ایف ڈی کا مجموعی تشخص ایسا ہے کہ اس کی سرگرمیوں کو وفاقی جرمن آئین کے منافی قرار دیا جائے۔

داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کو دیے جانے والے عدالتی حکم میں کولون کی انتظامی عدالت نے کہا کہ اگرچہ اے ایف ڈی کے خلاف یہ شبہات پائے جاتے ہیں کہ اس کی سرگرمیاں وفاقی جرمن آئین کے منافی ہو سکتی ہیں، تاہم فی الحال داخلی سلامتی کی نگران جرمن انٹیلیجنس اس پارٹی کی نہ تو 'لازمی طور پر دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم‘ کے طور پر کوئی درجہ بندی کر سکتی ہے اور نہ ہی اس پارٹی کے بارے میں ایسا کوئی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اے ایف ڈی کو ’انتہاپسند‘ قرار کیوں دیا؟ امریکہ کی جرمنی پر تنقید

اے ایف ڈی کی طرف سے فوری سماعت کے لیے دائر کردہ ایک مقدمے میں یہ فیصلہ کولون کی انتظامی عدالت (تصویر) نے جمعرات کے روز سنایا
اے ایف ڈی کی طرف سے فوری سماعت کے لیے دائر کردہ ایک مقدمے میں یہ فیصلہ کولون کی انتظامی عدالت (تصویر) نے جمعرات کے روز سنایاتصویر: Breuel-Bild/IMAGO

جرمن خفیہ ایجنسی نے اے ایف ڈی کو ’انتہا پسند‘ تنظیم قرار دے دیا

ساتھ ہی عدالت نے داخلی سیکرٹ سروس کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ فی الحال اپنی ایسی کسی کارروائی کا باقاعدہ عوامی اعلان یا اس کی تشہیر بھی نہیں کر سکتی کہ اس نے اے ایف ڈی کو 'یقینی طور پر انتہائی دائیں بازو کی تنظیم‘ قرار دیا ہے۔

اس مقدمے میں عدالت کا یہ فیصلہ فوری سماعت کے بعد عبوری طور پر سنایا گیا ہے اور یہ مکمل اور تفصیلی سماعت کے بعد سنایا جانے والا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔

ادارت: جاوید اختر

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔