جرمن ٹرینوں پر حملے کے جرم میں عراقی کو عمر قید کی سزا | حالات حاضرہ | DW | 04.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمن ٹرینوں پر حملے کے جرم میں عراقی کو عمر قید کی سزا

ویانا کی ایک مقامی عدالت نے 2018 میں جرمن ٹرینوں پر حملے کے جرم میں ایک عراقی شہری کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ مجرم کا دعویٰ تھا کہ وہ داعش کے حامی نہیں ہیں تاہم عدالت نے اسے بھی مسترد کر دیا۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کی ایک مقامی عدالت نے جمعرات تین دسمبر کو جرمنی میں تیز رفتار ریل گاڑیوں کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کرنے والے ایک 44 سالہ عراقی شخص کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ عراقی شخص اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ ویانا میں سن 2013 سے پناہ گزین کے طور پر رہ رہا ہے۔

آسٹریا کے خبر رساں ادارے اے پی اے اور نشریاتی ادارے او آر ایف کے مطابق آٹھ رکنی عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مذکورہ شخص نے شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی ایما پر کارروائیاں کیں، مجرم نے تاہم ان الزامات سے انکار کیا تھا۔ ان کی 33 سالہ بیوی پر بھی ان جرائم میں شوہر کی اعانت کا الزام عائد کیا گيا تھا۔ لیکن خاتون نے ان الزامات سے انکار کیا تھا اور عدالت نے بھی ان کی بےگناہی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بری کردیا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران مشتبہ عراقی شخص نے اپنے وکیل کے ذریعے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ عراق سے یورپی ممالک کے فوجیوں کے انخلا کے لیے دباؤ بنانا چاہتے تھے اور اسی لیے انہوں نے حملے کی کوششیں کیں جوایک ’’بہت بڑی غلطی تھی‘‘۔ اطلاعات کے مطابق اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں اب بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

حملے کا نوٹ کاپی کی دکان سے ملا

جس عراقی شخض کو سزا سنائی گئی ہے انہیں دہشت گردانہ کارروائیوں کے تحت قتل کی منصوبہ بندی، بڑی تباہی مچانے اور ایک دہشت گرد تنظیم کے رکن ہونے جیسے الزامات کا سامنا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:36

فٹ بال کے ساتھ ساتھ شدت پسندی کو بھی کک

ان حملوں کے سلسلے میں پولیس کو ویانا میں فوٹو کاپی کرنے کی ایک دکان سے حملے کی دھمکی کے سلسلے میں ایک اصل نوٹ ملا تھا اور پھر اسی کی تفتیش کرتے کرتے پولیس قصوروار شخص تک پہنچ پائی۔ دسمبر 2018 میں جرمنی کی ایک مقامی ٹرین میں چوتھی بار تخریبی کارروائی سے پہلے یہ دھمکی آمیز نوٹ چھوڑا گيا تھا۔ 

سرکاری وکلاء کا کہنا تھا کہ اس سے قبل 44 سالہ مجرم نے اسی برس جنوری، اگست اور اکتوبر میں ریل کے اہم راستے میونخ سے نورم برگ کے پاس واقع شہر الیرس برگ کا سفر بھی کیا تھا اور دو بار اپنے پیچھے اس نے اسلامک اسٹیٹ سے متعلق مواد بھی چھوڑا تھا۔

 حکام کے مطابق مذکورہ شخص نے الیرس برگ میں لوہے کی رسی، لکڑی کے پچر، میٹل اور زنجیر کے استعمال کی مدد سے  تیز رفتار آئی سی ای مسافر ٹرین کو پلٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے پہلے ریلوے ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات حاصل کیں اور پھر ان اشیاء کو مقامی دکانوں سے خریدا تھا۔  ان کوششوں کے دوران وہ ٹرین کو نقصان پہچانے کی اپنی کوششوں میں ناکام رہے اور کوئی بھی شخض زخمی تک نہیں ہوا۔

ٹرین کو نقصان پہنچا

لیکن اکتوبر 2018 میں رات کے وقت ان کی تیسری کوشش کے دوران تقریبا 204 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ایک مسافر آئی سی ای ٹرین لوہے کی رسی سے ٹکرا گئی جس سے فلیش اور سامنے والے حصے کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت اس ٹرین میں 160 مسافر سوار تھے۔ 

ہجرت کر کے آسٹریا پہنچنے کے بعد یہ عراقی شخص ایک سوپر مارکیٹ میں کام کیا کرتا تھا۔ سرکاری وکلا کا کہنا تھا کہ سوئٹزر لینڈ میں اس شخص کے ایک اور عراقی شہری سے تعلقات کے ساتھ ساتھ اسلامک اسٹیٹ جیسی شدت پسند تنظیم سے بھی ان کے  روابط تھے۔

حکام کے مطابق جرمنی کی آئی سی ای ریل گاڑیوں کو نشانہ بنانے سے پہلے انہوں نے اسی طرح کے حملے کے لیے پیرس اور مارسیلی جیسے شہروں کا بھی دورہ کیا تھا۔

ص ز، ع ت (ڈی پی اے، اے ایف پی) 

ویڈیو دیکھیے 00:29

میونخ حملے پر اوباما کا رد عمل

DW.COM