جرمن فٹ بال ٹیم کے نئے کوچ کا پہلا میچ ہی تنقید کی زد میں | کھیل | DW | 03.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

جرمن فٹ بال ٹیم کے نئے کوچ کا پہلا میچ ہی تنقید کی زد میں

جرمن قومی فٹ بال ٹیم کے نئے کوچ ہانزی فلِک کا پہلا میچ کچھ یادگار ثابت نہ ہوا۔ لیشٹن شٹائن کی بظاہر ایک کمزور ٹیم کے خلاف جرمن ٹیم زیادہ گول اسکور کرنے میں ناکام رہی۔

عالمی کپ کوالیفائنگ مقابلوں کے سلسلے میں جمعرات کی رات جرمنی اور لیشٹن شٹائن کے مابین کھیلا گیا گیا میچ اگرچہ جرمنی نے دو صفر سے جیت لیا لیکن یہ سوال برقرار رہا کہ جرمن ٹیم اپنی بھرپور صلاحیتوں کے مطابق میدان میں اترنے سے ناکام کیوں رہی۔

جرمن میڈیا نے اس میچ میں قومی فٹ بال کی ٹیم کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہانزی فلِک کی کوشش ہو گی کہ وہ بہ طور کوچ اپنے اس پہلے میچ کو بھول ہی جائیں۔ سن دو ہزار چودہ میں عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ زوال کا شکار ہے اور اس میں نئی توانائی اور جوش کی کمی دور کرنے کی ضرورت ہے۔

یوآخم لووو کی سبکدوشی کے بعد ہانزی فلِک نے جرمن قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے کابیان پارک میں لیشٹن شٹائن کے خلاف کھیلے جانے والے میچ سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ٹیم زیادہ گول کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم اس میچ میں جرمن کھلاڑی حریف ٹیم کا دفاع توڑنے میں ناکام دکھائی دیے۔

چالیس ہزار آبادی والے چھوٹے سے ملک لیشٹن شٹائن کی ٹیم نے یورپی فٹ بال کی اہم اور سابق عالمی چیمپئن ٹیم کو کڑا وقت دیا۔ حریف ٹیم کی کوشش تھی کہ وہ جرمنوں کو گول نہ کرنے دے اور اس مقصد کی خاطر انہوں نے انتہائی دفاعی کھیل پیش کیا۔ تاہم شائقین نے ایک مرتبہ پھر دیکھا کہ جرمن قومی ٹیم ایک مرتبہ پھر ایسے حریف کے خلاف کامیاب حکمت عملی نہ بنا سکی، جس نے صرف دفاعی کھیل کا سوچ رکھا ہو۔

اگرچہ جرمن سٹرائیکر ٹیمو ویرنر اور لیروئے زانے نے گول کیے لیکن جرمن ٹیم بحیثیت مجموعی حریف ٹیم کا دفاع توڑنے میں ناکام ہی رہی۔ اس تناظر میں لیشٹن شٹائن کے دفاعی کھیل کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ میچ سے قبل اندازہ تھا کہ جرمن ٹیم اس قدرے آسان حریف کے خلاف کم از کم  پانچ گول بھی کر سکتی ہے۔

ورلڈ کپ کے یورپی کوالیفائنگ مقابلوں کے سلسلے میں اب ہانزی فلِک کی قیادت میں جرمن قومی فٹ بال ٹیم اتوار کو آرمینیا اور بدھ کو آئس لینڈ کے خلاف میدان میں اترے گی۔ آرمینیا کی ٹیم اس وقت گروپ میں پہلی پوزیشن پر ہے جبکہ جیت کی صورت میں جرمن ٹیم گروپ میں ٹاپ کر سکتی ہے۔

لیشٹن شٹائن کے خلاف میچ کے بعد فلِک نے کہا، ''ابھی ایک طویل مرحلہ سامنے ہے۔ یہ تو اس سفر کا آغاز ہے۔‘‘ فلِک کا موجودہ کانٹریکٹ سن دو ہزار چوبیس تک کا ہے۔ اس دوران جرمن ٹیم نے آئندہ برس قطر میں ہونے والے عالمی کپ اور سن 2024 کے یورو کپ مقابلوں میں شرکت کرنا ہے۔

جرمن اخبار زود ڈوئچے سائٹنگ نے جمعے کی اشاعت میں ہانزی فلِک کے پہلے میچ کو ان کے لیے باعثِ 'شرمندگی‘ قرار دے دیا۔ اس اخبار نے لکھا کہ 'یہ ایک ایسا پہلا میچ ہے، جو فلِک بھول جانا چاہیں گے‘۔ اسی طرح اسپورٹس میگزین کِکر نے لکھا کہ جرمن ٹیم 'یقینی طور پر پُرجوش نہیں تھی‘ جبکہ اخبار بلٹ نے سرخی لگائی، ''جوش و خروش بہت زیادہ تھا، اب مایوسی ہو رہی ہے‘‘۔

ہانزی فلِک جرمن ٹیم کے لیے ایک نیا معیار قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کام آسان نہیں۔ لیشٹن شٹائن کے خلاف گول سکور کرنے والے جرمن فٹ بالر ٹیمو ویرنر نے میچ کے بعد کہا، ''ہم یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ ان (فلِک) کی توقعات کیا ہیں مگر یہ بہتر آغاز تو نہیں تھا لیکن ایک اچھا قدم ضرور تھا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:05

جرمن قومی فٹ بال ٹیم زوال کا شکار؟

 

ع ب / ع ح (خبر رساں ادارے)