1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Bundeswehr Feldlazarett Übung
تصویر: Sean Gallup/Getty Images
سیاستجرمنی

جرمن فوج کی نئی ’شاپنگ لسٹ‘

6 جون 2022

جرمنی اپنی فوج کوجدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور اپنے زیر استعمال سازوسامان کو اپ گریڈ کرے گا۔ ان اہم کاموں کے لیے 100 بلین یورو کا خصوصی فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ رقم کن چیزوں پر خرچ ہو گی؟

https://www.dw.com/ur/%D8%AC%D8%B1%D9%85%D9%86-%D9%81%D9%88%D8%AC-100-%D8%A8%D9%84%DB%8C%D9%86-%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%88-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D8%AE%D8%B1%DA%86-%DA%A9%D8%B1%DB%92-%DA%AF%DB%8C/a-62044961

روس اور یوکرین کی جنگ نے جہاں مغربی طاقتوں کو بہت سے خدشات اور خطرات سے دوچار کیا وہاں مغربی اتحاد میں شامل مرکزی اہمیت کے حامل یورپی ملک جرمنی کے لیے بھی یہ جنگ اس کی سیاسی اور عسکری حکمت عملی پر نئی سوچ بچار کے ضمن میں بہت اہم ثابت ہوئی ہے۔ برلن حکومت اس وقت اپنی مسلح افواج کی  صلاحیت اور کارکردگی کا از سر نوجائزہ لینے پر مجبور نظر آ رہی ہے۔ یہ بات گرچہ کافی عرصے سے مشہور تھی کہ جرمن فوج کے پاس ساز و سامان کی کمی پائی جاتی ہے۔ اب عسکری ماہرین اس امر کی طرف نشاندہی کر رہے ہیں کہ جنگ کی صورت میں جرمن فوج کا ایک بھی بریگیڈ پوری طرح ملکی دفاع کے لیے تیار نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نےاس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر آئین میں تبدیلی کے لیے حزب اختلاف کی اہم جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے تاکہ 100 بلین یورو کے اضافی بجٹ کی منظوری کیساتھ جرمن فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔  یہ اقدام وفاقی جمہوریہ جرمنی کی تاریخ کا ایک بے مثال واقعہ ہے۔ رواں  سال 50.4 ارب یورو کے حجم کا دفاعی بجٹ از خود ایک ریکارڈ ہے۔ یہ رقم آئندہ پانچ سالوں کے دوران دفاعی شعبے پر صرف کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس دفاعی بجٹ میں براہ راست یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی یا ترسیل پر آنے والے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ جرمنی نے  یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کا وعدہ کر رکھا ہے۔امریکا جرمنی میں تعینات اپنی کچھ فوج پولینڈ منتقل کرے گا

 

غیرملکی تعلقات کے بارے میں جرمن تنظم سے منسلک سکیورٹی امور کی ایک ماہر آئیلن ماتلے کے بقول،''اضافی 100 بلین یورو کی رقم جرمن فوجی دستوں کے لیے ایک اشارہ ہے۔ اگر جرمنی ایسی فوج رکھنا چاہتا ہے جو تعیناتی کے قابل ہو تو ہمیں انہیں تمام تر ضروری ہتھیاروں سے لیس کرنا ہوگا۔‘‘ آئیلن نے کہا کہ یہ چند چیزیں ہیں جو کئی دہائیوں سے التوا کا شکار ہیں۔

فضائیہ کے لیے غیر متوقع نعمت

جرمن فضائیہ کو اس خصوصی فنڈ میں سے 41 بلین یورو تک کا فنڈ ملنےکی امید ہے۔ جرمن فوج کی خواہشات کی فہرست میں ایک عرصے سے بھاری ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر بوئنگ

CH-47F Chinook شامل رہا ہے۔ اس وقت جرمنی کے پاس تقریباﹰ 50 سال پرانے  3CH-5 ہیلی کاپٹرز ہیں۔اب ان کے اسپیئیر پارٹس ملنا تقریباً ناممکن ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں اور محض چند ابھی قابل استعمال ہیں۔ اپ ڈیٹ کے طور پر CH-47F  ایک وقتی آزمائشی مگر مسلسل بہتر ماڈل کا تازہ ترین اضافہ ہے۔ امریکی فوج  طویل عرصے سے  دوہرے پنکھوں کی خصوصیت والے چِنوک ہیلی کاپٹرز کوخصوصی فوجی دستوں، گاڑیوں اور دیگر آلات کی منتقلی کے لیے استعمال کیا ہے - یہ فوجوں کی بیرون ملک تعیناتی کے لیے ایک مستعد زریعہ ہے  کیونکہ طیاروں کو ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے ہوائی پٹیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

Deutschland | Soldaten mit Panzerfaust
جرمنی اپنی بری اور بحری فوج کیساتھ ساتھ فضائیہ کو بھی جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے جا رہا ہےتصویر: Sebastian Gollnow/dpa/picture alliance

 برطانیہ، ہالینڈ اور دیگر اتحادیوں کےزیر استعمالF-35 لڑاکا طیارے بھی جرمنی کی خریداری کی فہرست میں شامل ہیں۔ جرمن فوج امریکی طیارہ ساز امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے بنائے ہوئے بیش قیمت ایف 35 اسٹیلتھ ایئر کرافٹ خریدنا چاہتی ہے۔ یہ جرمنی کے پرانے ٹورناڈو بمبار طیاروں کی جگہ لیں گے۔ جرمن فوج ایک عرصے سے ان کے بعد والی نسل کے بمبار جیٹس کی تلاش میں ہے۔ جرمن وزیر دفاع کسٹین لامبرشٹ کہتی ہیں،'' F-35 ہمارے نیٹو اتحادیوں کیساتھ تعاون کی نفرد صلاحیتوں کا حامل ہے۔ ٹورناڈوکی طرح F-35 کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جرمنی میں ذخیرہ شدہ امریکی جوہری ہتھیاروں کو ان کے اہداف تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری خصوصیات کیساتھ تیار کیا جاتا ہے‘‘۔

یوکرین کو بھاری اسلحے کی فراہمی، جرمن عوام منقسم

تمام سرمایہ کاری امریکی اسلحہ سازوں کے لیے ہی نہیں کی جائے گی بلکہ یورپی ایوی ایشن ایئربس کے لیے بھی ایک بڑی رقم مختص کی گئی ہے۔ ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی کو اپنے یورو فائٹر ماڈل میں مزید جدت لانے کے لیے گرین لائٹ مل رہی ہے تاکہ اسے الیکٹرانک وارفیئر‘ کے لیے موزوں بنایا جا سکے۔ اس جدت کی مدد سے  دشمن کے ریڈار کا پتہ لگانا اور اسے تباہ کرنا ممکن ہوگا۔ ایئربس کا جرمن صوبے باویریا میں موجود پلانٹ جلد ہی اس  اضافی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

مسلح ڈرون، کشتیاں اور جنگی گاڑیاں

یوکرین کی جنگ نے جرمنی میں سیاسی سطح پر ایک عرصے سے چلے آ رہے تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ تنازعہ اس بات پر تھا کہ کیا جرمن فوج کو مسلح ڈرون حاصل کرنے چاہییں یا نہیں؟ موجودہ چانسلراولاف شُولس کی قیادت والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایک طویل عرصے سے مسلح ڈرون کی مخالفت کرتی آئی ہے لیکن اب یوکرینی جنگ کے باعث اس پارٹی نے اپنی مسلح ڈرون سے متعلق مخالفت ترک کر دی ہے۔  یوکرین کی جنگ نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا کہ مسلح ڈرون فوجی کامیابی کا کلیدی جُزو ہو سکتے ہیں۔ جرمن فوج اب  "Heron TP" ڈرون کی تیاری کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کے آرڈر اسرائیل کو دے چُکی ہے۔  جرمن ڈرونز کو اسرائیل سے کریدے گئے ان ہتھیاروں سے  مسلح کیا جائے گا۔افغان جنگ، جرمنی نے 17 ارب یورو سے زائد خرچ کیے

19 بلین یورو جرمن بحریہ کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن سے U12  سب میرین فائٹرز، فریگیٹس اور جنگی بحری جہازوں کے علاوہ ایک چھوٹی مگر انتہائی تیز رفتار کثیرالجہتی لڑاکا کشیاں خریدی جائیں گی۔

جرمنی کی بری فوج کے لیے 17 بلین یورو مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس رقم سے بکتر بند اور دیگر جنگی گاڑیوں کو جدید بنایا جائے گا۔ طویل مدت کے دوران، جرمن فوج  لیپرڈ 2 ٹینک کی اگلی نسل پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے، جسے فرانس کے ساتھ مل کر تیار کیا جانا ہے۔

ک م /  ش ر )نینا ورک ہؤئزر(

 

                                                                                    

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

شہباز گل کی گرفتاری، پاکستانی سیاست میں مزید تناؤ کا خدشہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں