جرمن شہزادہ گھڑ سواری کے دوران حادثے میں ہلاک | معاشرہ | DW | 14.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن شہزادہ گھڑ سواری کے دوران حادثے میں ہلاک

ہاؤس آف ویٹِن کے جانشین، سیکسنی، وائیمار اور آئسناخ کے شہزادہ گیورگ کونسٹانٹِن گھڑ سواری کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق یورپ کے کئی اہم شاہی خاندانوں کے ساتھ ہے۔

اکتالیس سالہ شہزادہ گیورگ کونسٹانٹِن کے خاندانی ذرائع کے مطابق وہ ہفتہ نو جون کی شب برطانیہ کے علاقے نارتھ ہیمپٹنشائر میں گھڑ سواری کر رہے تھے۔ اس دوران پیش آنے والے حادثے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

 

شہزادہ کونسٹانٹن ہاؤس آف سیکسنی، وائیمار اور آئسناخ کے ولی عہد تھے جو ہاؤس آف ویٹن کی قدیم ترین شاخ ہے۔ جرمن میگزین ’بُنٹے‘ کے مطابق بظاہر یہ ایک گھڑ سواری کے دوران پیش آنے والا 'المناک حادثہ‘ تھا۔

ہاؤس آف ویٹن کی تاریخ ایک ہزار برس سے بھی زیادہ طویل ہے۔ پندرہویں صدی عیسویں میں یہ خاندان ارنسٹائن اور البرٹائن شاخوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ برطانوی شاہی خاندان سمیت یورپ کے کئی اہم شاہی خاندانوں کے ساتھ اس خاندان کی رشتہ داریاں ہیں۔ ملکہ برطانیہ اور بلیجیم کے بادشاہ فلپ کا تعلق بھی ارنسٹائن شاخ سے ہے۔

پرنس گیورگ کونسٹانٹن ارنسٹائن شاخ کے موجودہ سربراہ پرنس مشائیل کے بھتیجے ہیں۔ قدیمی روایات کے مطابق پرنس مشائیل کی اکلوتی بیٹی کو جانشین نہیں بنایا جا سکتا تھا اس لیے شہزادہ کونسٹانٹن کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔

شہزادہ کونسٹانٹن نے سن 2015 میں اولیویا ریچل پیج نامی ایک برطانوی خاتون سے شادی کی تھی اور تب سے وہ برطانیہ ہی میں مقیم تھے۔

اکہتر سالہ شہزادہ مشائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جانشین اور بھتیجے کی اس طرح اچانک موت کے سبب ’صدمے کی کیفیت‘ میں ہیں۔

ش ح / ا ب ا (ڈی پی اے، بنٹے)

DW.COM

اشتہار