جرمن دارالحکومت بون کے بجائے برلن، فیصلے کو تیس برس ہو گئے | حالات حاضرہ | DW | 20.06.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمن دارالحکومت بون کے بجائے برلن، فیصلے کو تیس برس ہو گئے

جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد وفاقی پارلیمان نے ملکی دارالحکومت کی منتقلی کا فیصلہ کیا تھا۔ 20 جون 1991ء کے روز بنڈس ٹاگ نے فیصلہ کیا تھا کہ جرمن دارالحکومت بون کے بجائے ایک بار پھر برلن ہو گا۔

برلن کے مشہور زمانہ برانڈن برگ گیٹ کے سامنے چند نوجوان جرمن لڑکیاں بون میں پارلیمانی فیصلے کے اگلے روز کثیر الاشاعت اخبار ’بِلڈ‘ پڑھتے ہوئے۔ بعد میں برلن کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد کی اصلاح کر کے اسے 337 سے 338 کر دیا گیا تھا

برلن کے مشہور زمانہ برانڈن برگ گیٹ کے سامنے چند نوجوان جرمن لڑکیاں بون میں پارلیمانی فیصلے کے اگلے روز کثیر الاشاعت اخبار ’بِلڈ‘ پڑھتے ہوئے۔ بعد میں برلن کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد کی اصلاح کر کے اسے 337 سے 338 کر دیا گیا تھا

آج اتوار کے روز سابقہ مغربی جرمنی کے دارالحکومت بون میں بنڈس ٹاگ کے ایک اجلاس میں کیے گئے اس اکثریتی فیصلے کو ٹھیک تین عشرے ہو گئے ہیں۔

تب جرمنی کی دو مختلف سیاسی نظاموں والی حریف اور جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کہلانے والی مشرقی اور مغربی ریاستوں کے 45 سال تک تقسیم کے بعد دوبارہ اتحاد کو ابھی آٹھ ماہ ہی ہوئے تھے۔ مگر دارالحکومت کی برلن منتقلی کوئی یقینی فیصلہ تو بالکل نہیں تھا۔

فوائد بھی، نقصانات بھی: جرمنی کا وفاقی نظام کیسے کام کرتا ہے؟

جرمن اتحاد کی صورت میں سابقہ مشرقی جرمنی کا ریاستی علاقہ اور عوام دونوں (مغربی حصے پر مشتمل ) اس وفاقی جمہوریہ جرمنی میں شامل ہو گئے تھے، جس کا دارالحکومت 1949ء سے دریائے رائن کے کنارے واقع شہر بون چلا آ رہا تھا۔

BdT Einigungsvertrag

دونوں جرمن ریاستوں کے دوبارہ اتحاد کے معاہدے کی دستاویز

پھر 20 جون 1991ء کے روز بون میں بنڈس ٹاگ کے ایک اجلاس میں 660 اراکین پارلیمان کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہا گیا کہ متحدہ جرمنی کا دارالحکومت بون ہی رہنا چاہیے یا اسے برلن منتقل کر دیا جائے: ملک کے مشرق میں واقع واپس اسی شہر میں جو 1871ء میں جرمن رائش کی بنیاد رکھے جانے سے لے کر 1945ء تک ملکی دارالحکومت رہا تھا۔

جرمن اتحاد کے معاہدے کی دوسری شق

سابقہ مشرقی اور مغربی جرمن ریاستوں کے دوبارہ اتحاد سے متعلق جو معاہدہ 31 اگست 1990ء کے دن طے پایا تھا، اس کی دوسری شق میں یہ بات واضح طور پر لکھی گئی تھی کہ جرمنی کا صدر مقام برلن ہے مگر دارالحکومت اور وفاقی پارلیمان سے متعلق فیصلہ جرمن اتحاد کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا۔

جرمنی میں ساڑھے چھ ملین انسانوں کی داخلی نقل مکانی

Wolfgang Schäuble während seiner Rede im Bonner Bundestag am 20.06.1991

بنڈس ٹاگ کے موجودہ اسپیکر وولفگانگ شوئبلے وہیل چیئر پر بیٹھے، بون میں بیس جون 1991ء کے پارلیمانی اجلاس سے بطور رکن اپنا تاریخی خطاب کرتے ہوئے

’رائش ٹاگ‘ میں جرمن پارلیمان کا پہلا اجلاس: 150 برس قبل

پھر ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ بون شہر کو ہی دارالحکومت رکھنے کی حمایت بہت زیادہ ہو گئی اور بنڈس ٹاگ میں رائے دہی سے چار روز پہلے تک برلن کو دوبارہ ملکی دارالحکومت بنانے کی سیاسی مخالفت بہت نمایاں ہو گئی تھی۔

متحدہ جرمنی کے دارالحکومت کے طور پر بون اور برلن میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں 11 گھنٹے تک بحث ہوتی رہی تھی۔

پھر رائے شماری ہوئی تو نتیجہ بالکل واضح تھا: بون کی حمایت میں 320 ووٹ لیکن برلن کے حق میں 338 ارکان کی رائے۔

جرمن اتحاد: گورباچوف کامیاب رہے یا ناکام؟

شوئبلے کی انتھک کوششیں

بنڈس ٹاگ کے موجودہ اسپیکر وولفگانگ شوئبلے اس وقت بھی بنڈس ٹاگ کے رکن تھے اور ان کی عمر 48 برس تھی۔ انہوں نے اراکین پارلیمان کی اکثریت کو برلن کے انتخاب کا قائل کرنے کے لیے انتھک کوششیں کی تھیں۔

جرمن اتحاد کی تیسویں سالگرہ، کورونا نے تقریبات کو دھندلا دیا

تب ان کا کہنا تھا کہ کمیونسٹ جرمنی میں عوامی مزاحمتی تحریک، دیوار برلن کی تعمیر، دیوار کے گرائے جانے سے لے کر جرمنی کے دوبارہ اتحاد تک بھی اگر سب کچھ صرف برلن ہی میں ہوا، تو کوئی دوسرا ایسا شہر ہو ہی نہیں سکتا، جو اتحاد، آزادی، جمہوریت اور پورے جرمنی کی علامت بن سکے۔

اگر دیوار برلن نہ گرتی تو ۔۔۔ انگیلا میرکل کا خواب کیا تھا؟

ولی برانٹ کی طرف سے خاص طور پر اظہار تشکر

بون میں بنڈس ٹاگ کے اس اجلاس میں شوئبلے نے جو تقریر کی تھی، وہ جرمنی کی سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ متاثر کن خطابات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

سابقہ مشرقی جرمنی کی خفیہ فائلوں میں لاکھوں کی دلچسپی

اسی لیے بعد میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سابق چانسلر اور نوبل امن انعام یافتہ سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان ولی برانٹ خاص طور پر اٹھ کر وولف گانگ شوئبلے کے پاس گئے تھے اور انہوں نے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے شوئبلے کا دلی شکریہ ادا کیا تھا۔

آج تین عشرے پہلے کے جرمن پارلیمانی فیصلے کے حوالے سے وولف گانگ شوئبلے کہتے ہیں، ''میری رائے میں تو برلن کا بطور دارالحکومت انتخاب کیے بغیر آج ہم دوبارہ واقعی متحد ہو ہی نہیں سکتے تھے، بالکل نہیں۔‘‘

مارسیل فیُورسٹیناؤ (م م / ب ج)