1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Flamme an einem Gasherd
تصویر: Thomas Imo/photothek/IMAGO
اقتصادیاتجرمنی

جرمن حکومت کا گیس صارفین پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ

29 جولائی 2022

نئی گیس لیوی سے جرمن گھرانوں کو سالانہ 1000یورو تک اضافی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’ ضروری‘ ہے۔ روس کی جانب سے گیس کی فراہمی میں کمی کے بعد یورپی ممالک نئے اقدامات لینے پر مجبور ہیں۔

https://p.dw.com/p/4Eq4j

جرمن حکومت کی طرف سے موسم سرما میں گیس پر ایک نیا ٹیکس عائد کرنے کے بعد گھریلو صارفین کے بلوں میں قابل ذکر اضافہ متوقع ہے۔ جرمن وزیر معیشت رابرٹ ہابیک کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں گیس کی قیمتوں میں لیوی متعارف کرانے کے بعد گیس کے بلوں میں کئی سو یورو کا اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس کا مقصد روسی گیس کی ترسیل میں کمی کے بعد اس کے متبادل تلاش کرنے کے لیے کمپنیوں کی مدد کرنا ہے۔

ہابیک نے کہا، ''ہم توقع کر رہے ہیں کہ یہ لیوی فی کلو واٹ ڈیڑھ سے پانچ سینٹ کے درمیان ہو گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ چار افراد پر مشتمل گھرانے کے لیے گیس کے بل میں سالانہ پانچ سو یورو تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم سالانہ اوسطاﹰ بیس ہزار کلو واٹ گیس استعمال کرنے والے گھرانوں پر  اس لیوی کی سب سے زیادہ حد یعنی پانچ سینٹ فی کلو واٹ کا اطلاق کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ انہیں سالانہ ایک ہزار یورو اضافی دینا ہوں گے۔ ہابیک کے مطابق اس لیوی کا مقصد گیس مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کا شکار ہو جانے کے خدشے سے دوچار جرمن شہریوں کی معاونت کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ہابیک نے لیوی کے نفاذ کو ''غیر مستحسن لیکن ایک ضروری قدم ‘‘ قرار دیا۔

Robert Habeck (Bündnis 90/Die Grünen), Bundesminister für Wirtschaft und Klimaschutz
جرمن وزیر معیشت رابرٹ ہابیکتصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

 یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب جرمنی میں صارفین  پہلے ہی تمام شعبوں میں بڑھتے ہوئے افراط زر کی وجہ سے شدید مالی دباؤ میں ہیں۔

لیوی کا نفاذ کیوں کیا جارہ‍ا ہے؟

ماسکو کے یوکرائن پر حملےکے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران روس کی جانب سے  یورپی ممالک کو گیس کی ترسیل میں کمی کے نتیجے میں گیس کی درآمدات کی قیمت میں ڈرامائی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیوی کا مقصد صنعتی صارفین سمیت تمام گیس صارفین کے درمیان اخراجات بانٹنا ہے تاکہ روسی گیس کا متبادل تلاش کرنے کے لیے رقم کی ادائیگی کی جا سکے۔

جرمن وزارت اقتصادیات کے ذرائع کے مطابق اس لیوی کا نفاذ یکم اکتوبر سے کیا جائے گا اور اس کے بعد گیس کے درآمد کنندگان اپنی لاگت کا 90 فیصد صارفین کو منتقل کر سکیں گے، جو انہیں فی الحال کسی بیرونی مدد کے بغیر خود ہی برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ''نیٹڈ پرائس ایڈجسٹمنٹ میکانزم‘‘ ستمبر 2024 ء کے آخر تک نافذ رہے جبکہ گیس کی قیمتوں کی بنیاد پر لیوی کے حجم کا اعلان اگست میں کیا جائے گا۔

ہابیک کا یہ بیان روسی گیس کمپنی گیزپروم کی جانب سے نورڈ اسٹریم ون پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کو معمول کی نسبت 20 فیصد تک لے آنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔

ش ر/ا ب ا (ڈی پی اے، روئٹرز)

جرمن اسٹیل صنعت کو روسی گیس کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan | General Syed Asim Muni

پاکستان کے نئے آرمی چیف کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں