′جرمن جمہوریت کھلے حملوں کی زد میں ہے′ ایس پی ڈی | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

'جرمن جمہوریت کھلے حملوں کی زد میں ہے' ایس پی ڈی

جرمنی میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے قانون وضع کرنے کا مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ملک کے ساٹھ سویلین گرپوں کا کہنا ہے انتہا پسند دائیں بازو کے گروپوں کے خلاف ان کے منصوبوں کو مستحکم فنڈنگ کی بھی ضرورت ہے۔

جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی سرکردہ رہنما ساسکیا اسکین نے پیر 23 نومبر کو ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وفاقی پارلیمان کو ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ایک قانون بنانے کی ضرورت ہے، جس کی مدد سے جرمنی میں معاشرے کا قلع قمہ کرنے کی نیت سے سرگرم دائیں بازو کے انتہا پسند گروپوں کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

ساسکیا اسکین کا کہنا تھا، ’’آج کل ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ دائیں بازور کے انتہا پسند کس طرح ہماری جمہوریت پر کھل کر حملہ کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جمہریت کے فروغ سے متعلق ان کی جماعت کے دو وزیر کافی دنوں سے کابینہ میں ایک بل پيش کرنا چاہتے ہیں لیکن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت میں شامل قدامت پسند دھڑے اس میں رخنہ اندازی کرتا رہا ہے۔

ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے خاندانی معاملات کے وزیر فرانزسکا جیفی اور وزیر انصاف کرسٹین لیمبریچ اس حوالے سے کافی دنوں سے ایک بل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسکین نے آئندہ بدھ کو ہونے والی کابینہ کی میٹنگ سے قبل برلن کے ایک اخبار 'ٹی اے زیڈ‘ سے بات چیت میں کہا کہ یہ رخنہ اندازی، ’’نا قابل فہم ہی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔‘‘

اس برس فروری میں ہاناؤ میں دہشت گردانہ حملے میں ہلاکتوں کے بعد جرمنی میں نسل پرستی کی روک تھام کے اقدامات کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس حوالے سے کمیٹی نے ابھی تک اپنی تجاويز پیش نہیں کی ہیں۔

اسکین کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں جمہوریت کے دشمنوں کا پورے عزم و حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘ گزشتہ جمعے کو میرکل حکومت کے ترجمان اسٹیفین زائبرٹ نے کہا تھا کہ اس حوالے سے کابینہ کمیٹی سن 2021 کی پہلی سہ ماہی میں اپنے نتائج وفاقی پارلیمنٹ  کے سامنے پیش کرے گي۔

اس برس مارچ میں کمیٹی نے اس امر پر غور و فکر کا آغاز کیا تھا جبکہ حالیہ مہینوں میں باویریا سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر جرمن پولیس کے اہلکاروں کے نسل پرستانہ رویے پر نگرانی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

سویلین گروپ کی تربیت اہم ہے

اسکین کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے حامی سول گروپوں نے اس سلسلے میں بہت اچھا کام کیا ہے، ''اس لیے انہیں ان کی فنڈنگ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ حرمنی میں اس طرح کے تقریباً ساٹھ سول گروپ، لبرل اور کھلی جہوری اقدار کے لیے نوجوانوں پر کام کرتے ہیں۔ تاہم اس گروپ نے مقامی اخبار سے بات چیت میں کہا کہ ان پر پہلے کے مقابلے اب زیادہ حملے ہونے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں ایسے سول گروپ کے لیے حمایت کا طریقہ کار مددگار ہونے کے بجائے تباہ کن ہے۔

گرین کی جانب سے بھی قانون کی حمایت

جرمنی میں حزب اختلاف کی گرین پارٹیوں نے بھی جمہوریت کے فروغ اور اس کے تحفظ کے لیے ماہ ستمبر میں پارلیمان میں ایک قرارداد پيش کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائے۔ اس قرار داد میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ہونے والے متعدد جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کی روک تھام کے لیے احتیاطی طور پر تعلیم و آگاہی کی ضرورت ہے۔

اسکولوں میں سوک ایجوکیشن کی کمی

 اس ماہ کے اوائل میں پيش کردہ بچوں اور نوجوانوں سے متعلق ایک تحقیقی رپورٹ میں يہ بتايا گيا تھا کہ جرمنی کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے تمام شعبوں میں سوک ایجوکیشن کی کافی کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی کی وفاقی اور ریاستیں حکومتوں کی جانب سے سوک ایجوکیشن ایجنسیز میں اساتذہ کی تمام کوششوں کے باوجود یہ حال ہے۔

کلاسوں میں شاگردوں کے ساتھ جمہوری اقدار سے متعلق تعلیم و تریبت کے پروگرام  پر رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے ایک سینیئر رکن کا کہنا تھا کہ انہیں تفتیش کے دوران پتا چلا کو جو اساتذہ سیاسی امور کی آگاہی کے لیے متعین ہیں انہوں نے خود کبھی سیاسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔

اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ اس دور میں بچے کئی بار ابتداء میں ہی سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسندانہ خیال سے روبرو ہو جاتے ہیں اور اس پر قابو پانے کے لیے ہفتے میں کم سے کم دو گھنٹے تک سوک ایجوکیشن  فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ص ز / ع س (ای پی ڈی، اے ایف پی، کے این اے)

ویڈیو دیکھیے 01:38

’یہ ایک احساس ہے، قبول نہ کیے جانے کا‘

DW.COM