جرمن اتحاد سے متعلق حقائق | حالات حاضرہ | DW | 02.10.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمن اتحاد سے متعلق حقائق

جرمنی میں ہر سال تین اکتوبر کو یوم اتحاد منایا جاتا ہے۔ سابقہ مشرقی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کے بعد دونوں حصوں میں ترقیاتی فرق کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ رفتار سست ہے۔

سن 1989ء کے موسم خزاں میں ہزاروں افراد کا سابقہ مشرقی جرمن ریاست کے شہر لائپزگ میں احتجاج کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم ایک قوم ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ سوشلسٹ نظام مزید نہیں چاہتے۔ نومبر میں دیوار برلن کو گرا دیا گیا اور آخر کار تین اکتوبر 1990ء کو وفاقی جمہوریہ جرمنی کی متحدہ ریاست وجود میں آئی۔ اس دن دونوں جرمن ریاستیں فیڈرل ریپبلک آف جرمنی اور جرمن ڈیموکریٹک ریبپلک ایک دوسرے میں ضم ہو گئیں۔ اتحاد کے بعد جرمن سیاستدانوں کے سامنے ایک ہی مقصد تھا کہ متحدہ جرمنی کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو ایک ہی ترقیاتی سطح پر لایا جائے۔ اتحاد کے بعد 23 برسوں میں کیا کچھ ہوا، اس بارے میں ایک موازنہ پیش ہے۔

سرمایہ کاری

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سن 1990ء سے 2010ء تک سابق مشرقی جرمنی کی تعمیر و ترقی کے لیے 1.6 ٹریلین یورو کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ اس رقم کا تقریباﹰ 70 فیصد حصہ سماجی کاموں پر خرچ کیا گیا۔ ایک ٹریلین اس وقت بنتا ہے، جب 1 کے ہندسے کے ساتھ 12 مرتبہ صفر لکھا جائے۔ 1.000.000.000.000 دوسرے لفظوں میں ایک ٹریلین ایک ہزار بلین یا دس لاکھ مرتبہ ایک ملین یورو کے برابر بنتا ہے۔

انفراسٹرکچر

وفاقی حکومت کی طرف سے 40 ارب یورو مشرقی حصے میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 17 نئے ریلوے ٹریک، متعدد سڑکیں اور کئی نئے پل بنائے گئے ہیں۔

تعلیم و تربیت

جرمنی کے مشرقی حصے میں 30 یونیورسٹیاں اور 55 ٹیکنیکل کالج ہیں۔ موجودہ جرمنی کے مشرق میں واقع ڈریسڈن یونیورسٹی کا شمار جرمنی کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ مشرقی حصے کی یونیورسٹیوں کا معیار سابقہ مغربی جرمنی کی یونیورسٹیوں کے برابر ہے۔ مجموعی طور پر متحدہ جرمنی میں 370 یونیورسٹیاں اور تقریباﹰ 200 ٹیکنیکل کالج ہیں۔ متحدہ جرمنی کے نئے وفاقی صوبوں میں مجموعی قومی پیداوار کا 2.4 فیصد تعلیم و تحقیق پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ پرانے وفاقی صوبوں میں یہ تناسب 2.9 فیصد بنتا ہے۔

برآمدات

سن 2011ء میں متحدہ جرمنی کے مشرقی حصے سے 77 ارب یورو مالیت کا سامان برآمد کیا گیا اور یہ شرح متحدہ جرمنی کی مجموعی برآمدات کے صرف نو فیصد کے برابر تھی۔ مغربی حصے کی برآمدات اس سے دس گنا سے بھی زائد رہی تھیں اور ان کی مجموعی مالیت 787 ارب یورو رہی تھی۔

ملازمتیں اور بےروزگاری

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سن 1992 تک جرمنی کے مشرقی حصے میں ہر تیسرا فرد بےروزگار تھا۔ تاہم سن 2005ء کے بعد سے حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔ لیکن ابھی بھی موجودہ جرمنی کے مشرقی صوبوں میں بےروزگاری کی شرح 10 فیصد بنتی ہے، جو کہ مغربی حصے کی وفاقی ریاستوں میں بےروزگاری کی شرح کے مقابلے میں قریب دگنی ہے۔

آمدنی

سابق مغربی جرمنی کے مقابلے میں ماضی کی مشرقی جرمن ریاست میں تنخواہوں کا تناسب اب 50 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مشرقی صوبوں میں رہنے والا ایک کار مکینک ماہانہ اوسطاﹰ قریب 1600 یورو کماتا ہے جبکہ مغربی حصے میں رہنے والے ایسے ہی ایک کار مکینک کی ماہانہ آمدنی ابھی بھی تقریباﹰ دو ہزار یورو بنتی ہے۔ ملک کے مشرق میں نئے وفاقی صوبوں میں اوسط فی کس سالانہ آمدنی اس وقت 33 ہزار 427 یورو ہے جبکہ مغربی صوبوں میں یہی ماہانہ اوسط 46 ہزار 680 یورو بنتی ہے۔