جرمنی: یہودی عبادت گاہ پر حملے اور قتل کے مجرم کو سزا | حالات حاضرہ | DW | 21.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: یہودی عبادت گاہ پر حملے اور قتل کے مجرم کو سزا

جرمن عدالت نے یہودی عبادت گاہ پر حملہ کر نے اور دو افراد کا قتل کرنے والے دائیں بازو کے انتہا پسند مجرم کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ واقعہ 2019 ء میں مشرقی جرمن شہر ہالے کے ایک سیناگوگ میں پیش آیا تھا۔

 

9 اکتوبر 2019 ء کو مشرقی شہر ہالے کے ایک یہودی عبادت خانے پر ہونے والے اُس حملے کو جرمنی میں عالمی جنگ کے بعد کی تاریخ کا سامیت مخالف جذبات کے تحت کیا جانے والا بدترین حملہ قرار دیا جاتا ہے۔

 

یہودی عبادت گاہ پر حملہ کیسے کیا؟

گزشتہ برس 9 اکتوبر کو دراصل یہودیوں کا سب سے مقدس دن 'یوم کپور‘ کے موقع پر ایک دائیں بازو کے انتہا پسند جرمن باشندے نے مشرقی شہر ہالے میں قائم یہودیوں کی عبادت گاہ سیناگوگ یا عبادت گاہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔  'یوم کپور‘  دراصل 'یوم کفارہ‘  ہے جو یہودی سال کا اہم ترین دن مانا جاتا ہے اور یہودی اسے اپنے سال نو کے شروع ہونے کے ٹھیک دس روز بعد مناتے ہیں۔ اس دن 28 سالہ اشٹیفن بالئیے نے پہلے ایک یہودی مخالف پوسٹ کے ذریعے اپنے تعصب کا اظہار کیا اور اس کے بعد اُس نے ہالے کے سیناگوگ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ایک گیمنگ سائٹ پر اُس کے حملے کی تمام کارروائی نشر ہو رہی تھی۔ یہ مجرم جب سیناگوگ میں داخل ہونے کی کوشش میں ناکامیاب ہوا، تو اُس نے راستے میں بلا تفریق ایک عورت اور ایک مرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

نورنمبرگ کی عدالت کی کارروائی

نورنمبرگ کی ریاستی عدالت کے ججوں نے  پیر 21 دسمبر کو اشٹیفن بالئیے کی قتل کے کیس کی سماعت کے لیے ریاستی دارالحکومت ماگڈیبرگ میں ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی اور کافی جگہ کی فراہمی کے سلسلے میں کیا گیا۔ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ججوں نے  اشٹیفن بالئیے کو سنگین مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آئندہ  15 سال سے پہلے کسی صورت رہائی حاصل نہیں کر سکتا۔ جرمنی میں عمر قید کی سزا پانے والوں کے ساتھ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔

Halle | Gedenken an Anschlag auf Synagoge | Bundespräsident Steinmeier

ہالے کے سیناگاگ میں حملے کے بعد جرمن صدر نے وہاں کا دورہ کیا تھا۔

اس کیس کی سماعت کی پریزائیڈننگ جج  اُرزولا میٹرنز نے اپنے بیان میں اس مجرمانہ کارروائی کو ' بزدلانہ حملہ‘ قرار دیا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران جس وقت سزا سنائی جا رہی تھی اُس وقت مجرم اشٹیفن بالئیے بالکل خاموش تھا اور ایک کاغذ پر نوٹس لکھ رہا تھا۔

قتل کے مقدمے کی کارروائی 

اشٹیفن بالئیے کے مقدمے کی کارروائی دراصل جولائی میں شروع ہوئی تھی جس میں اُس نے اس امر کا اقرار کیا تھا کہ وہ ہالے میں سیناگوگ میں داخل ہو کر وہاں اُس وقت موجود تمام 51 افراد کا قتل کرنا چاہتا تھا۔ جب اُسے اس عبادت گاہ میں داخل ہونے کا موقع نہیں ملا کیونکہ وہ اس سیناگوگ کے بہت بھاری آہنی دروازے کو کھول نہیں پایا تو اُس نے قریی سڑک پر ایک 40 سالہ خاتون اور نزدیک ہی قائم ایک ڈونر کباب کی شاپ پر کھڑے 20 سالہ نوجوان مرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اس کارروائی میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اشٹیفن بالئیے نے عدالت کے سامنے اس جرم کا اعتراف کیا ساتھ ہی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ '' سفید فام افراد کا قتل نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘‘

جرمن حکام ملک بھر میں دائیں بازہ کی انتہا پسندی اور اس سے جُڑے جذبات اور جرائم کے سد باب کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے اور معاشرے میں سامیت دشمن کو ختم کرنے کا مکمل عزم رکھتی ہے۔ مشرقی جرمنی کے اس ہی علاقے میں نیو نازیوں کی طرف سے ایک سیاستدان کے قتل اور شہر ہناؤ میں تارکین وطن کے پس منظر والے افراد پر ہونے والی خونریز اور مہلک شوٹننگ، جس کے نتیجے میں 9 جانیں ضایع ہوئی تھیں،  جیسے واقعات اسی ایک سال کے دوران عمل میں آئے۔

ک م/  ع آ ) ایجنسیاں(

DW.COM

Audios and videos on the topic