جرمنی: کیا لاک ڈاؤن میں رمضان نے مسلمانوں کی زندگی آسان کر دی ہے؟ | معاشرہ | DW | 18.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی: کیا لاک ڈاؤن میں رمضان نے مسلمانوں کی زندگی آسان کر دی ہے؟

کورونا وبا کے بعد جرمنی میں مسلمان دوسری بار لاک ڈاؤن کے دوران روزے رکھ رہے ہیں۔ جرمنی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی تعداد چھ فیصد ہے جو کہ نسبتا کم عمر ہے۔

جرمنی میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی تعداد چھ فیصد ہے جو کہ نسبتا کم عمر ہے۔ جرمنی میں مسلمانوں کی اوسط عمر اکتیس برس ہے۔ یوں یہ کمیونٹی باقی آبادی سے تیرہ برس کم عمر ہے۔

لاک ڈاؤن میں سکون ہے

جرمن شہر ویزباڈن کی انیس سالہ طالبہ ہما اللہ کا کہنا ہے کہ اس سال گھر کے اندر روزہ رکھنا قدرے آسان ہے کیونکہ سارے گھر والے ساتھ ہوتے ہیں۔

ہما کا کہنا ہے کہ پچھلے رمضانوں میں انہیں کم و بیش ایک ہی طرح کے سوالوں کا سامنا ہوتا تھا۔ اکثر لوگوں کو رمضان اور روزے کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں۔

Deutschland Ramandan in Corona-Zeiten

جرمنی میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مساجد میں سماجی فاصلے کا احترام کیا جاتا ہے

تجسُس کے باعث ساتھی طلبہ ان سے جاننا چاہتے تھے کہ آیا روزہ رکھنا صحت کے لیے ٹھیک ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی پوچھتے تھے کہ نوجوان لوگ روزے اپنی مرضی سے رکھتے ہیں یا پھر اُن پر والدین کا دباؤ ہوتا ہے۔ ہما کے مطابق اب چونکہ کلاسیں آن لائن ہیں اس لیے انہیں ایسے سوالوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

روزوں میں کلاس روم جانا

ایک اور سولہ سالہ طالب علم امین کا کہنا کہ روزے میں کلاس روم جانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ روزے میں مسلسل ماسک لگا کر رکھنے سے اکثر طلبا کے منہ خشک ہوجاتے تھے۔ امین کا کہنا ہے کہ ماسک کے ساتھ کلاس روم میں جانا انتہائی ناخوشگوار عمل ہے کیونکہ اپنے ہی منہ سے نکلنے والا سانس واپس پھیپھڑوں میں جاتا ہے اور جو کہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوسکتا۔

Ramadan Lockdown | Huma Ullah

ہما اللہ جرمن شہر ویزباڈن میں زیر تعلیم ہیں

 زوم کی مشقت

گھر پر رہ کر کلاسیں والے روزہ دار طالب علموں کے لیے خالی پیٹ یونیورسٹی آنے جانے کی مشکل تو کم ہو گئی لیکن زوم کی وجہ سے کام کچھ بڑھ گیا۔

بعض مسلمان روزہ دار طلبہ کے مطابق روزے میں گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا مشکل ہے اور اکثر پوری توجہ مرکوز نہیں رہ پاتی۔

ہما اللہ کا کہنا ہے کہ زوم پر کلاس یا کوئی کانفرنس میں شرکت کے بعد ہوم ورک کرنے سے بہت ہی زیادہ تھکن ہو جاتی ہے اور پیاس بھی زیادہ لگتی ہے۔

رمضان میں تنہائی کا احساس

لاک ڈاؤن کے دوران مسجد میں نماز کی ادائیگی کم ہوگئی اور تراویح کے اجتماعات بھی نہیں ہو پا رہے۔

Weltspiegel 16.04.2021 | Corona | Türkei Ankara | Desinfektion vor Kocatepe-Moschee

ترکی میں ایک مسجد کو جراثیم کش اسپرے سے صاف کیا جا رہا ہے

مسلم گھروں میں افطاری ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ ایک ترک خاتون یسر المظفر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں خاندان کے میل ملاپ کا دائرہ بالکل سکڑ کر رہ گیا ہےاور افطار کی رونقیں اجڑ کر رہ گئی ہیں۔

یسر المظفر کا کہنا ہے کہ افطار پر ہونے والی ملاقاتیں بچوں،  بزرگوں اور رشتہ داروں کو قریب لانے کا ذریعہ ہوا کرتی ہے لیکن کورونا لاک ڈاؤن نے ان مسرتوں سے بھی محروم کر دیا ہے۔

تریان آسیہ (ع ح، ش ج)