جرمنی کا وزیر آباد ’زولنگن‘ روایتی استرا سازی میں نمبر ون | معاشرہ | DW | 01.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی کا وزیر آباد ’زولنگن‘ روایتی استرا سازی میں نمبر ون

جرمنی کے شہر زولنگن میں چاقو اور ریزر بنانے کے لیے مشہور کمپنی ' ڈو فو ' کے مطابق حالیہ برسوں میں ان روایتی استروں کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جن کی مانگ بیسویں صدی کے نصف میں نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔

Deutschland Rasiermesser Manufaktur DOVO Ulrich Wiethoff Solingen

ڈو فو فیکٹری کے ڈائریکٹر اولرش ویٹ ھوف کے مطابق مارکیٹ میں روایتی استرے ایک بار پھر مقبول ہو رہے ہیں

ایک جرمن کاریگراپنی ورک شاپ میں دھات کو ایک چھوٹے بلیڈ کی شکل میں ڈھال رہا ہے۔ یہاں اس کام کے لیے فضا بہت ساز گار ہے اور کاروبار بھی اچھا چل رہا ہے۔ یہ ڈو فو اسٹیل وارے‘ نامی کارخانے کا منظر ہے۔

ڈو فو فیکٹری کے ڈائریکٹر اولرش ویٹ ھوف نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے فخر سے بتایا، ''ہمارے ہاں زیادہ تر کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے''۔

یہ سب روایتی طریقے سے شیو بنانے کے ریزر کی مارکیٹ میں دوبارہ مانگ اور مقبولیت کی وجہ سے ہے۔ ڈوفو سٹیل وارے نامی یہ چھوٹی کاروباری کمپنی سن 1906 میں جرمنی کے شہر زولنگن میں قائم کی گئی تھی۔ اس شہر کو جرمنی میں بلیڈ بنانے کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ زولنگن کے کاریگر قرون وسطی میں تلواریں اور خنجر بنایا کرتے تھے لیکن اب یہ چاقو چھری اور کٹلری بنانے کے لیے مشہور ہے۔ ڈو فو کے لوگو میں ایک بہادر سردار دکھایا گیا ہے جو ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں ہتھوڑا تھامے کھڑا ہے۔ اس کارخانے میں اب 70 ملازمین کام کرتے ہیں۔

ویسے تو یہاں حجامت بنانے کی قینچیاں، چاقو، چھریاں، کٹلری کا سامان اور مینیکیور سیٹ بھی بنائے جاتے ہیں لیکن اس کی اصل وجہ شہرت اس کے شیونگ ریزرز ہیں۔ اس کارخانے کا شمار دنیا میں بہترین ریزر بنانے والے

کارخانوں میں ہوتا ہے۔ یہاں فولڈ ہو جانے والے لمبے بلیڈ کے ساتھ بڑے ہینڈل والے شیونگ ریزر بنائے جاتے ہیں جو بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں مارکیٹ میں قابل تلف اور الیکٹرک شیورز کی آمد کے بعد تقریباً غائب ہو گئے تھے۔

ویٹ ھوف نے شپمنٹ کے لیے تیار نفیس ریزرز سے بھرا ایک سوٹ کیس دکھاتے ہوئے کہا، '' گزشتہ 10 برسوں میں مردوں میں روایتی طور پر شیو بنانے کا رحجان پھر سے بڑھا ہے اور ان ریزرز کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے''۔

عمدہ لکڑی، کچھوے کے خول، ہاتھی دانت یا موتیوں سے مزین ان استروں کی بازار میں دوبارہ آمد کو با ذوق خریداروں میں لوازمات کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

سن 2000 کے آغاز سے ڈو فو کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ان ریزرز کی پیداوار ہر سال چند ہزار سے بڑھ کر دسیوں ہزارتک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی کے ملازمین میں سے 20 ملازم اب صرف ریزرز بنانے پر مامور ہیں جبکہ سن 2000 میں یہ تعداد 3 تھی۔

یہی کہانی سولنگن کے شہر میں ایک اور چاقو ساز کمپنی بوئیکر کی بھی ہے جس کے مطابق حالیہ سالوں میں ان استروں کی مانگ میں سالانہ دو گنا اضافہ ہوا ہے اور یورپ اور امریکا میں ان کی مقبولیت خاص طور پر بڑھ رہی ہے۔

روایتی ریزرز پر آج مختلف ویب سائٹس، بلاگز اور آن لائن ویڈیوز پر بحث کی جارہی ہے۔ جبکہ انٹر نٹ پرکاروبار کرنے والے اور حجام حضرات حجامت کے لیے درکار مختلف اشیا بیچ کے اچھا منافع بنا رہے ہیں۔

سولنگن کے کاریگر اوربوئیکر کے سربراہ کارسٹن فیلکس ڈالیچو کا کہنا ہے کہ، '' ہم بہت بڑے پیمانے پر ان مصنوعات کی پیداوار نہیں چاہتے بلکہ ہمارا مقصد کاریگری اور کارخانہ داری کی روح کو زندہ رکھنا ہے''۔

DW.COM

اشتہار