1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: Sven Simon/imago images
سیاستجرمنی

توانائی کے بحران کے تناظر میں جرمنی میں ایک مرتبہ پھر

14 اگست 2022

جرمنی میں پہلے جوہری توانائی کا جشن منایا گیا، پھر اس کی مذمت دیکھنے میں آتی رہی پھر اس پر پابندی عائد کی گئی اور اب دوبارہ جوہری توانائی کے حق میں آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AC%D8%B1%D9%85%D9%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%81/a-62802262

جرمنی میں جوہری توانائی سے استفادے کا آغاز 'انڈے‘ سے ہوا۔ جرمنی میں پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر اکتوبر 1957ء میں جنوبی شہر میونخ کے قریبی علاقے گارچنگ میں لگایا گیا۔ اس کی عمارت کو اس کی شکل کی بنیاد پر 'ایٹمی انڈا‘ پکارا جاتا تھا اور یہ میونخ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے زیرانتظام چلتا تھا۔ اسے دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی میں جوہری تحقیق کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا تھا۔ یہ ری ایکٹر سن 2000 تک فعال رہا۔

اس ری ایکٹر کے قیام کے تین برس بعد باویریا صوبے ہی کے علاقے کاہل ام مائن میں سن 1960 میں سویلین مقاصد کے لیے توانائی پیدا کرنے کی غرض سے جوہری ری ایکٹر لگایا گیا۔ اس کے بعد متعدد دیگر مقامات پر جوہری پلانٹس لگائے جاتے رہے۔ تب جوہری توانائی کو صاف اور محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ سن 1973 کے تیل کے بحران میں جوہری توانائی کو مزید تقویت ملی۔

جوہری توانائی کے خلاف آوازیں

جوہری توانائی کے مخالفین نے جوہری فضلے کے ٹھکانے لگانے سے متعلق آوازیں اٹھانا شروع کیں۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ تھی کہ جوہری فضلے کو اگر محفوظ انداز سے ٹھکانے لگانا آسان نہیں، تو جوہری توانائی کیسے محفوظ سمجھی جا سکتی ہے؟ اسی تناظر میں شمالی جرمن ریاست شلیسوِگ ہولشٹائن کے برکڈورف جوہری پلانٹ کے باہر ہزاروں افراد نے پہلی دفعہ ایک بڑا مارچ کیا اور یہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

جرمنی میں اسی تناظر میں ماحول دوستوں کی جانب سے 'جوہری توانائی؟ نہیں شکریہ‘‘ کا نعرہ سامنے آیا، جو اس بابت تقریباﹰ ہر احتجاج کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔ سن 1980 میں مغربی جرمنی میں اسی تناظر میں ایک نئی جماعت قائم کی گئی، جس کا نام تھا 'گرین پارٹی‘‘۔ اس جماعت میں جوہری توانائی کے مخالفین، ماحول دوست، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور امن پسند افراد پیش پیش تھے۔

سن 1983 میں یہ جماعت جرمن پارلیمان میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

28 مارچ  سن 1979 کو امریکی ریاست پینسیلوینیا میں قائم ایک جوہری حادثے کے بعد جوہری توانائی کے خطرات مزید واضح ہو گئے۔ 26 اپریل 1986ء کو سابقہ سوویت یونین میں چرنوبل کے جوہری ری ایکٹر کے تباہ کن حادثے اور جرمنی سمیت یورپ بھر میں پھیلنے والی تابکاری کے بعد یہ خوف اور خدشات مزید تقویت پکڑ گئے۔

جرمنی تب کمیونسٹ مشرقی جرمنی اور جمہوری مغربی جرمنی میں منقسم تھا۔ مشرقی جرمنی میں حکومت کو اس حادثے سے متعلق کسی حد تک معلومات فراہم کی گئیں تھیں تاہم مغربی جرمنی میں مکمل غیر یقینی کی صورت حال تھی۔ اسی صورت حال میں ہنگامی حالت سے نمٹنے والی ایک ٹیم بنائی گئی اور پھر اسے تحلیل کر دیا گیا۔

آئیوڈین کی گولیوں، ٹنوں پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیاء کو خرید کر تلف کیا گیا۔ بچوں کو ریت میں کھیلنے سے روک دیا گیا اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ بارش میں گھر سے باہر نہ نکلیں۔ جرمنی میں گو کہ صحت کے حوالے سے بہت زیادہ اثرات تو نہ دیکھے گئے، تاہم ملک میں اسی تناظر میں تابکاری کی حد متعارف کروائی گئی اور ساتھ ہی وزارت ماحولیات بھی بنائی گئی۔

باویریا کے قصبے ویکرسڈورف میں جوہری فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ وہ فسادات پھوٹ پڑے اور متعدد مظاہرین اور سرکاری اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ جوہری پلانٹس کی تعمیر پر سن 1989 میں پابندی عائد کر دی گئی، جسے جرمن ماحول دوست اپنی پہلی فتح قرار دیتے ہیں۔‍

جوہری توانائی مسئلہ بھی اور مسئلے کا حل بھی

الوداع جوہری توانائی

1998ء میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی  گیرہارڈ شرؤڈر کی قیادت میں گرین پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت میں آئی تو توانائی کی اہم کمپنیوں کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ملک بھر سے جوہری پلانٹس کے خاتمے کے لیے 2021 ء کی ڈیڈلائن طے کی گئی۔ اس سلسلے میں جرمنی میں واقع تمام 19 جوہری پلانٹس کی بندش پر اتفاق کیا گیا تھا۔

چانسلر انگیلا میرکل کی قیادت میں قدامت پسند جماعت سی ڈی یو نے یہ معاہدہ ختم کر دیا اور جوہری پلانٹس کی فعالیت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ گیارہ مارچ 2011 ء کو تاہم جاپانی شہر فوکوشیما کے جوہری پلانٹ کے حادثے کے بعد ایک مرتبہ پھر جرمنی سمیت دنیا بھر میں جوہری توانائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا۔ جرمنی میں اس سلسلے میں عوامی رائے شدید تھی۔

اسی تناظر میں چانسلر میرکل نے ایک مرتبہ پھر جوہری پلانٹس کے خاتمے کے لیے دو ہزار بائیس کی ڈیڈلائن مقرر کر دی۔ اس سلسلے میں 30 جولائی 2011 کو جرمن پارلیمان نے بھی جوہری ری ایکٹروں کی بندش کے حق میں ووٹ دے دیا۔

نظرثانی

یوکرین پر روسی حملے کے بعد جرمنی سمیت یورپ بھر میں توانائی کے بحران کے تناظر میں ایک مرتبہ پھر جرمنی میں یہ بحث عام ہے کہ آیا جوہری پلانٹس بند کرنا چاہییں؟ قدامت پسند جماعت سی ڈی یو کے رہنما ایک مرتبہ پھر مطالبہ کر رہے ہیں کہ جوہری توانائی کا حصول جاری رکھا جائے، تاکہ گیس کی جگہ بجلی بنائی جاتی رہے۔ حکمران اتحاد میں شامل ایف ڈی پی بھی جوہری توانائی کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے، دوسری جانب گرین پارٹی اور ایس پی ڈی اس سلسلے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ گرین پارٹی اور ایس پی ڈی اپنی انتخابی مہم میں دو ٹوک الفاظ میں جوہری پلانٹس کی بندش اور توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب بڑھنے کے وعدے کرتی رہی ہیں۔ فی الحال ایسی صورت حال  میں جرمنی جوہری توانائی کے موضوع پر ایک مرتبہ پھر تقسیم کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

رینا گولڈن برگ، رالف بوسن (ع ت، ع ا)

روسی صدر کا ’جوہری ہتھیاروں‘ کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم

یوکرین: یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر صورتحال ’کنٹرول سے باہر‘

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Kundgebung der Opposition in Pakistan

مریم کی بریت کے ممکنہ قانونی اور سیاسی اثرات

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں