جرمنی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف قانون سازی | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف قانون سازی

جرمنی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نئی قانون سازی کی گئی ہے، جس کے خلاف برلن میں بڑا مظاہرہ بھی دیکھا گیا۔

جرمنی میں بدھ کے روز منظور کردہ اس نئے قانون کے تحت وبائی صورت حال میں لاک ڈاؤن کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے کچھ اختیارات پارلیمان سے حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں۔ تاہم دائیں بازو کی جماعتیں اس پر شدید اعتراض کر رہی ہیں۔

ویکسین 60 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے زیادہ مؤثر، فائزر

سخت لاک ڈاؤن میں تاخیر پر میرکل کو افسوس

دوسرا لاک ڈاؤن اور مظاہرے

یورپ میں نئے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے ساتھ ہی کئی ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ آسٹریا میں منگل کے روز سے تمام ریستوران اور حجام کو کاروبار بند رکھنے کا کہا گیا ہے اور اب وہاں فقط انتہائی ضروری نوعیت کے سامان کی دکانیں کھلی ہیں۔ عوام سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ فقط ضروری اشیائے کی خریداری یا انتہائی ضروری کام ہی کی صورت میں گھروں سے نکلیں۔ فرانس اور بیلجیم میں بھی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ 

جرمن نے نومبر کے آغاز سے اختتام تک دوبارہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز اس نئے لاک ڈاؤن کے خلاف برلن کے قریب ایک بڑا مظاہرہ بھی ہوا۔ تاریخی برانڈن برگ دوازے کے قریب جمع افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی۔  بتایا گیا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف تیز دھار پانی اور مرچوں والے اسپرے کا استعمال بھی کیا۔ بدھ کے روز جرمنی میں کورونا وائرس کے انسداد سے متعلق پابندیوں پر عمل درآمد کا قانونی فریک ورک جرمن پارلیمان نے منظور کیا تھا۔ بتایا گیا ہےکہ پولیس نے اس دوران قریب ایک سو نوے افراد کو حراست میں لیے ہے، جب کہ مظاہرین سے جھڑپوں میں نو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس مظاہرے میں انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند بھی شامل تھے۔

عالمی صورت حال

عالمی سطح پر نئے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد پانچ کروڑ ترانوے لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اس وبا کے نتیجے میں ہونے والی مجموعی ہلاکتیں بھی ساڑھے تیرہ لاکھ کے قریب ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں چینی شہر ووہان میں سامنے آنے والا یہ وائرس اب دنیا کے قریب تمام علاقوں اور خطوں میں تشخیص ہو چکا ہے اور اس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وائرس کی دوسری لہر اب یورپ سمیت کئی خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں اب بھی امریکا سرفہرست ہے، جہاں اب تک ایک کروڑ تیرہ لاکھ اسی ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، جہاں کہ اس وبا کے نتیجے میں قریب ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں بھارت دوسرے نمبر پر ہے جہاں اب تک قریب نوے لاکھ افراد میں اس وائرس کی تشخص ہو چکی ہے جب کہ مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ اکتیس ہزار کے قریب ہیں۔ برازیل میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد قریب ساٹھ لاکھ ہے، جب کہ ہلاکتیں ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے زائد ہیں۔

اسپین میں ہلاکتیں تیس ہزار سے تجاوز کر گئیں

ہسپانوی حکام کے مطابق اسپین میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس وائرس کے مصدقہ کیسز کے اعتبار سے اسپین یورپ میں سب سے آگے ہیں۔ اسپین میں گزشتہ روز نو ہزار چار سو نئے کیسز سامنے آئے جب کہ اس عالمی وبا کے نتیجے میں مزید 156 ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ہلاکتوں کے اعتبار سے برطانیہ یورپ میں سب سے آگے ہے، جہاں پچاس ہزار سے زائد افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ع ت، ع ا (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)