جرمنی میں نیوزی لینڈ کی مساجد جیسے بڑے حملوں کا منصوبہ ناکام | حالات حاضرہ | DW | 17.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں نیوزی لینڈ کی مساجد جیسے بڑے حملوں کا منصوبہ ناکام

جرمن حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے گرفتار کر لیے جانے والے انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندوں کے ایک گروہ نے ملک میں مسلمانوں کی مساجد پر وسیع تر خونریزی کا سبب بننے والے دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔

جرمن دارالحکومت برلن سے پیر سترہ فروری کو ملنے والی رپورٹوں میں وفاقی حکومت کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ انتہائی دائیں بازو کے جس جرمن شدت پسند گروپ نے ملک میں وسیع پیمانے پر مساجد پر مسلح حملوں کا منصوبہ بنایا تھا، اور جسے قانون نافذ کرنے والے ملکی اداروں نے قبل از وقت ناکام بھی بنا دیا، اس کے لیے مثال گزشتہ برس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کو بنایا گیا تھا۔

زیر حراست انتہا پسندوں کی تعداد بارہ

ان انتہا پسند ملزمان کی تعداد 12 ہے اور انہیں پولیس نے گزشتہ جمعے کے روز جرمنی کے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر گرفتار کیا تھا۔

جرمن حکومتی ترجمان نے بتایا کہ ان ملزمان سے اب تک کی جانے والے تفتیش کے جو حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق ان شدت پسندوں نے متعدد مقامات پر جرمنی میں مسلم مذہبی اقلیت کی عبادت گاہوں پر بڑے دہشت گردانہ حملوں کا ارادہ بنا رکھا تھا۔

اسی بارے میں جرمن میڈیا میں کل اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹوں میں بھی ملکی تفتیش کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کے یہ جرمن شدت پسند اپنے طور پر یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ انہیں مختلف شہروں میں نماز کے دوران تقریباﹰ بیک وقت کئی ایسے مربوط خونریز حملے کرنا تھے، جن کا مقصد جرمنی میں مسلمان برادری کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔ دریں اثناء برلن میں وفاقی جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان بیورن گروئنے وَیلڈر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا، ''اب تک ان شدت پسندوں سے چھان بین کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ انتہائی حیران کن ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جرمنی میں ان شدت پسندوں کے ایسے چھوٹے چھوٹے گروہ موجود ہیں، جن کے ارکان حیران کن حد تک مختصر وقت میں انتہا پسندانہ نظریات کے حامل ہو چکے ہیں۔‘‘

ہر فرد کی حفاظت، مذہبی آزادی کا تحفظ حکومت کی ذمے داری

اسی بارے میں وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفن زائبرٹ نے آج پیر کے روز کہا، ''یہ ریاست کا کام ہے، اور ظاہر ہے کہ اس ریاست کی حکومت کا بھی، کہ وہ کسی بھی ملک میں ہر مذہب کے پیروکاروں کے لیے اپنے عقیدے پر آزادانہ عمل کر سکنے کو یقینی بنائے۔ اس بات کا اس امر سے کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی فرد کس مذہب کا ماننے والا ہے۔‘‘

اشٹیفن زائبرٹ نے کہا، ''جرمنی میں ملکی قوانین کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے مذہب پر عمل کرنے والے ہر فرد اور ہر برادری کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے عقیدے پر آزادانہ اور کسی بھی قسم کے خطرے کے بغیر عمل پیرا ہو سکے۔‘‘

ملکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے جرمن شدت پسندوں کے اس گروہ نے  منصوبہ بنا رکھا تھا کہ وہ ملک میں تقریباﹰ ایک ہی وقت پر کئی مسلم مساجد پر نیم خود کار ہتھیاروں سے ایسے خونریز حملے کرے گا، جیسے گزشتہ برس موسم بہار میں نیوزی لینڈ میں کیے گئے تھے۔ تب کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر کیےگئے ان دہشت گردانہ حملوں میں مجموعی طور پر 51 افراد مارے گئے تھے۔

Deutschland Sprengstoffanschläge in Dresden Moschee

جرمن شہر ڈریسڈن میں مسلمانوں کی ایک مسجد کے باہر 2016ء میں دھماکا خیز مواد سے کیے گئے ایک حملے کے بعد لی گئی ایک تصویر

دائیں باز وکی خطرناک شدت پسندوں کی تعداد پچاس سے زائد

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس زیر حراست گروہ کا سرغنہ ایک ایسا شدت پسند ہے، جو اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے جرمن اداروں کے حکام کی نظروں میں تھا اور جس کی آن لائن چیٹنگ پر بھی حکام نظر رکھے ہوئے تھے۔

گروہ کے اس سرغنے نے حملوں کے منصوبے کی تفصیلات اپنے ساتھیوں کو ایک ایسی ملاقات میں بتائی تھیں، جس کا اہتمام گزشتہ ہفتے ہی کیا گیا تھا۔ ملزمان کی اس باہمی ملاقات کے بعد ہی جرمن پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مار کر ان شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔

جرمن ہفت روزہ جرہدے ڈئر اشپیگل کے مطابق جرمن پولیس کے پاس اس وقت 53 ناموں پر مشتمل انتہائی دائیں بازو کے مشتبہ انتہا پسندوں کی ایک ایسی فہرست بھی موجود ہے، جو سب کے سب 'خطرناک‘ سمجھے جاتے ہیں اور ممکنہ طور پر خونریز حملے بھی کر سکتے ہیں۔

م م / ع ح (اے ایف پی، ڈی پی اے)

DW.COM