1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں مسلم طلبہ کے لیے اسکالرشپ

عدنان اسحاق17 جولائی 2013

اگلے برس موسم سرما سے شروع ہونے والے تعلیمی سال سے جرمنی میں طلبہ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے باصلاحیت مسلم طلبہ کو اسکالر شپ دی جائے گی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اسکالر شپ پروگرام ہے۔

https://p.dw.com/p/199N0
تصویر: picture-alliance/dpa

جرمن شہر اوفن باخ سے تعلق رکھنے والی طالبہ Siham Fet-Tahi نے اپنے دوستوں کے ہمراہ نیم سرکاری ادارے ابن سینا ’Avicenna ‘ قائم کیا۔ بو علی سینا کا شمار گیارہویں صدی کے مشہور ترین مسلم مفکرین میں ہوتا ہے۔ جرمنی میں تعلیم کے دوران طلبہ کی ہر طرح سے رہنمائی کے لیے نیم سرکاری ادارے کام کرتے ہیں اور عام طور پر ہر شہر میں اس قسم کا ایک ادارہ موجود ہوتا ہے۔ ابن سینا ہی وہ ادارہ ہے جو اگلے برس موسم سرما سے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں باصلاحیت مسلم طلبہ کو مختلف قسم کی اسکالرشپ دے گا۔ جرمنی میں مسیحی اور یہودی طالب علموں کے لیے اس طرح کے منصوبے پہلے ہی موجود ہیں۔

Abù'Alì al-Husayn Ibn Sina (980 - 1037)
بو علی سینا کا شمار گیارہویں صدی کے مشہور ترین مسلم مفکرین میں ہوتا ہےتصویر: npb

Siham نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے اس ادارے کی قیام کی کوششیں جاری تھیں اور تمام لوگ ہر ہفتے ملاقات کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ محنت اس وقت رنگ لائی جب سولہ جولائی کو تعلیم و تحقیق کی جرمن وزارت نے ان کے ادارے کو اگلے چار برسوں کے لیے سات ملین یورو دینے کا اعلان کیا۔ تاکہ یہ لوگ مستحق طالبہ کو اسکالرشپ دیں سکیں۔

جرمن وزارت کی جانب سے مالی تعاون سے چلنے والا ملک کا 13واں ایجوکیشنل ادارہ بن گیا ہے۔ اس سے قبل دیگر مذہب کے نمائندے بھی اس قسم کے ادارے قائم کر چکے ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کی حامی فاؤنڈیشن جیسا کہ فریڈرش ایبرٹ فاؤنڈیشن بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کی ایسی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں جن کا نہ تو کسی سیاسی جماعت اور نہ ہی کسی مذہب سے تعلق ہے۔

یونیورسٹی اوسنابروک میں اسلامیات کی پروفیسر Bülent Uçar کہتی ہیں کہ دیگر تنظیموں اور فاؤنڈیشنز کی جانب سے دی جانے والی اسکالرشپ میں مسلم طلبہ کی تعداد قدرے کم ہے۔ وہ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اکثر مسلم طلبہ پسماندہ پس منظر سے آتے ہیں اور انہیں تعلیم کے دوران امکانات کے بارے میں علم ہی نہیں ہوتا اور اکثر کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد وظیفے کے بارے میں پتا چلتا ہے۔ جرمنی میں طالب علموں کی کل تعداد کا تین فیصد مسلم طلبہ ہیں۔Bülent Uça مزید بتاتی ہیں کہ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت سے طلبہ اسکالرشپ کے لیے فارم پُر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ یہ جرمنی میں آباد چار ملین مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ اس موقع پر تعلیم و تحقیق کی جرمن وزیر یوہانہ وانکے نے بھی اس کوشش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہتر انضمام کے جانب مزید ایک قدم ہے۔