جرمنی میں مسلمانوں اور مساجد پر حملوں میں کمی | حالات حاضرہ | DW | 27.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں مسلمانوں اور مساجد پر حملوں میں کمی

جرمنی میں رواں سال مسلمانوں، مساجد اور مسلمانوں کے دیگر اداروں پر حملوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ جرمنی کی بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے پارلیمانی گروپ نے وفاقی حکومت سے اس بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار طلب کیے تھے۔

جرمن صوبی لوور سیکسنی کے ایک روزنامے 'نوئے اُسنابروکر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت 'ڈی لنکے‘ کے پارلیمانی دھڑے نے  وفاقی جرمن حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں جرمنی میں آباد مسلمانوں، ان کی عبادت گاہوں یعنی مساجد اور ان کے دیگر اداروں پر ہونے والے حملوں کے نئے اعداد و شمار پیش کرے۔ اس کے جواب میں وفاقی حکومت نے  سال 2021 ء کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ تک کے جو اعداد و شمار جاری کیے اُن سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ عرصے کے دوران جرمنی بھر میں اسلام دشمن یا اسلام مخالف جذبات کے تحت مسلمانوں، مساجد اور دیگر مسلم اداروں پر ہونے والے حملوں کی تعداد 91 رہی جبکہ اس سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی کے دوران ایسے واقعات کی تعداد 197 ریکارڈ کی گئی تھی اور گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی میں اسلام دشمن رجحان کے ضمن میں 275 حملے دیکھنے میں آئے تھے۔ علاوہ ازیں 2021 ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسلام دشمن جذبات کے اظہار میں کیے جانے والے حملوں میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ اُس سے پہلے والی سہ ماہی میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ

Symbolbild Islamophobie in Deutschland

2010ء میں جرمنی کے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں مساجد کی تعیمر کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔

رُجحان میں تبدیلی؟

جرمنی میں ان واقعات میں کمی کی نشاندہی کے باوجود محض ریاضی کی اصطلاح  کے طور پر اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے تو جرمنی میں روزانہ ایک 'اسلامو فوبک‘ واقعہ ضرور رونما ہوتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعت ' ڈی لنکے‘ کے پارلیمانی دھڑے کی رکن اولا ژیلپکے نے وفاقی جرمن حکومت کے سامنے یہ سوال رکھا تھا اور ان واقعات کے تازہ ترین اعداد شمار پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔

جرمنی، مسلمانوں کو تابوت کے بغیر تدفین کی اجازت

دریں اثناء بائیں بازو کے دھڑے نے کہا ہے کہ ان واقعات کے اندراج کے بعد حتمی اعداد و شمار میں اضافے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں حالیہ دنوں میں مساجد کے خلاف چھ کارروائیوں کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ان کارروائیوں کے دوران اشتعال انگیز بیانات، توہین، زبانی اذیت دینے یا جھڑکنے، مذہبی رسم و رواج میں خلل ڈالنے اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے عوامل شامل تھے۔  جرمنی میں مسلمان، دیگر اقلیتیں کیسے ’کونے میں دھکیلی‘ جا رہی ہیں

 

Symbolbild Antirassismus Deutschland Demonstration

برلن کی ایک تاریخی شاہراہ پر ’بلیک لائیوز میٹر‘ مظاہرہ۔

معاشرتی بیداری خوش آئند

بائیں بازو کی جماعت ' ڈی لنکے‘ کے پارلیمانی دھڑے کی رکن اور جرمنی کی داخلہ سیاسی امور کی ماہر اولا ژیلپکے نے تاہم ان نئے اعداد و شمار پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول جرمنی میں کئی برسوں کے بعد اسلام مخالف جذبات پر مبنی حملوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اولا اس کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں شعور کی بیداری قرار دیتی ہیں اور اس سلسلے میں میڈیا کا سیاست اور معاشرت میں کردار بہت مثبت سمجھتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ میڈیا میں گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح نسل پرستی کی مذمت کی گئی ہے اُس کا اس نئے رجحان میں بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے خاص طور سے تحریک (Black lives Matter) کو نسل پرستی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کے جذبے کو اجاگر کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ''اس رجحان میں جس قدر کمی دیکھنے میں آنے لگی ہے وہ میرے تصور سے کہیں زیادہ ہے اور اس پر مکمل اعتبار کرنا میرے لیے مشکل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ابھی اس تمام صورتحال کا بغور جائزہ لینا اور اس پر مزید توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ بائیں بازو کی جرمن سیاستدان کے مطابق، ''جرمن معاشرے میں ذہنیت میں بدلاؤ آیا ہے یا نہیں، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال تمام حالات و واقعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

 

ک م/ ا ب ا ) اے پی ڈی(