جرمنی میں ریکارڈ سرپلس بجٹ | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں ریکارڈ سرپلس بجٹ

ایک ایسے وقت میں جب کئی ملک لگاتار بجٹ کے خسارے سے نمٹنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، جرمنی غیر معمولی معاشی استحکام کی مثال کیسے بنا؟

جرمن حکام نے سال دو ہزار انیس میں ساڑھے تیرہ ارب یورو کے ریکارڈ سرپلس بجٹ کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ پانچ برس میں یہ تیسری بار ہے کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کا بجٹ سرپلس ہو گیا ہے۔ سن دو ہزار پندرہ میں جرمنی کا بجٹ بارہ ارب یورو سے کچھ زیادہ سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

پاکستان جیسے ملکوں میں اس وقت شرح سود کافی زیادہ ہے اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کاروباری لوگ ٹیکس نہیں دیتے، جس کے باعث حکومت کا خزانہ خالی رہتا ہے اور ملک  بیرونی قرضوں اور امداد پر چلتا ہے۔

جرمنی میں صورتحال اس کے بر عکس ہے۔ حکام کے مطابق پچھلے سال ملک میں ریکارڈ بجٹ سرپلس کی بڑی وجہ توقع سے زیادہ ٹیکس آمدنی اور منفی شرح سود رہی۔

 

ٹیکس آمدنی کے اس غیر متوقع اعلان پر جرمنی کی حکمراں جماعت سی ڈی یو اور بعض دیگر سیاستدانوں نے کاروباری طبقے کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ کا مطالبہ دہرایا ہے۔ سرمایہ دار حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیکس محصولات کی اچھی صورتحال کے پیش نظر اس کی گنجائش موجود ہے تاکہ کاروبار کو فروغ ملے۔

دیگر یورپی ممالک بجٹ کا جتنا حصہ بڑے منصوبوں پر لگاتے ہیں، جرمنی اس سے کہیں کم خرچ کرتا آیا ہے۔ اسی لیے بعض ملک جرمنی پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ حکومت بڑے تعمیراتی منصوبوں پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے خزانے میں جمع کرتی آئی ہے۔ ناقدین کے بقول اس حکمت عملی سے ملک کی معاشی ترقی متاثر ہوئی ہے۔

جرمن وزیر خزانہ اولاف شُلز اقرار کرتے ہیں کہ ماضی میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں پیسہ نہیں لگایا جا سکا، جس کی وجہ سرکاری نظام کی سست روی اور جرمن بیوروکریسی کی پیچیدگیاں ہیں۔

تاہم جرمن وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ اب جرمنی کو اپنے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اسکولوں، ہسپتالوں اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق منصوبوں میں پیسہ لگانا ہو گا۔

DW.COM