1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی میں ریل ڈرائیوروں کی یونین کا چھ روزہ ہڑتال کا اعلان

22 جنوری 2024

جی ڈی ایل کے مطالبات میں تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ورکروں کے کام کرنے کے اوقات کار میں کمی لانا شامل ہے۔ جرمن ریلوے کے محمکے کا کہنا ہے کہ یونین تنخواہوں میں اضافے کی ان کی پیشکش ٹھکرا چکی ہے۔

https://p.dw.com/p/4bXGw
Deutschland | Reisende am Bahnsteig
تصویر: Bodo Marks/dpa/picture alliance

جرمنی میں ٹرین ڈرائیوروں کی اکثریت پر مشتمل جی ڈی ایل ٹریڈ یونین نے بدھ کے دن سے ملک بھر میں چھ روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس یونین کے اراکین میں ریل نیٹ ورک کے دیگر ملازمین بھی شامل ہیں۔

جی ڈی ایل کی جانب سے آج پیر کے روز جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ ہڑتال بدھ کی صبح دو بجے شروع ہوکر آئندہ پیر کی شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔ جی ڈی ایل کی طرف سے کیا گیا یہ اعلان ان کی پہلے سے جاری ہڑتالوں کے سلسلے کا حصہ ہے تاہم اس مرتبہ اس ہڑتال کا دورانیہ پہلے کی ہڑتالوں کے مقابلے میں طویل ہے۔

جرمن ریل آپریٹر ڈوئچے بان (ڈی بی) نے جمعہ کے روز تنخواہوں میں اضافے کی ایک نئی پیشکش کے ساتھ یونین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی تھی، جسے جی ڈی ایل نے مسترد کر دیا۔

Deutschland Warnstreik bei der Bahn
جی ڈی ایل نتخواہوں میں اضافے اور کام کے اوقات کار میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہےتصویر: Fabrizio Bensch/REUTERS

اس یونین کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے، "اپنی تیسری اور قیاس کے مطابق بہتر پیشکش کے ساتھ ڈوئچے بان نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ عدم تعمیل اور تصادم کے اپنے سابقہ ​​راستے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں مصالحت کے لیے آمادگی کا کوئی نشان نہیں ہے۔''

موجودہ تنازعہ میں چوتھی ہڑتال

نئی ہڑتال ڈی بی اور جی ڈی ایل کے مابین تنخواہوں پر موجودہ  تنازعے کے دوران چوتھی ہڑتال ہوگی۔ جی ڈی ایل نے 2023 ٔکے آخر میں دو بڑی انتباہی ہڑتالوں کا انعقاد کیاتھا اور پھر جنوری کے شروع میں تین دن تک جاری رہنے والیایک اور ہڑتال کی تھی، جس کے سبب ریلوے خدمات کی فراہمی میں زبردست روکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں ۔

یہاں تک کہ ڈی بی نے اس ماہ کے شروع میں عدالتی حکم امتناعی کے ذریعے ان ہڑتالوں کو روکنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ڈوئچے بان کے ملازمین کے شعبے کے سربراہ مارٹن سیلر نے جمعہ کو جی ڈی ایل پر تنقید کرتے ہوئے دلیل دی کہ وہ ہڑتالوں کو آخری حربے کے طور پر نہیں بلکہ خود کو فروغ دینے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

Deutschland | Reisende am Bahnsteig
گزشتہ نسبتاً کم دورانیے کی ہڑتالوں کے باوجود جرمنی میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا تھاتصویر: Fabian Sommer/dpa/picture alliance

 تنخواہوں میں اضافے اور کام کے اوقات کار میں کمی کا مطالبہ 

ڈی بی کے مطابق جی ڈی ایل کے لیے اس کی تازہ ترین پیشکش میں ملازمین کے لیے اگست سے اوسطاً 4.8 فیصد اور اپریل 2025 سے مزید پانچ فیصد اضافے کی پیشکش کی گئی تھی۔ ڈی بی نے کہا ہے کہ اس کی پیشکش  میں افراط زر کے حساب سے معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہوگی، جو 32 ماہ کی مدت کے لیے طے کی جائے گی۔

ڈی بی کے مطابق 2026  سے شفٹوں میں کام کرنے والے ملازمین کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ ہفتے میں اوسطاً 38 گھنٹے سے لے کر 37 گھنٹے تک کام کر سکتے ہیں یا اگر وہ اپنے کام کا بوجھ کم نہیں کرنا چاہتے تو اضافی تنخواہ وصول کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب جی ڈی ایل ملازمین کے لیے ٹیکس سے مستثنٰی ایک ماہ قبل اضافی550 یورو اور بارہ ماہ تک افراط زر کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ یونین معاوضے میں کسی تبدیلی کے بغیر شفٹ ورکرز کے اوقات کار کو 38 سے کم کر کے 35  گھنٹے تک کرنے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔

ڈی بی کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے ہی نئے عملے کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور موجودہ ملازمین کے اوقات کار کو اس حد تک کم کرنے سے اہلکاروں کی کمی بڑھ جائے گی۔

 ش ر / ع ت (اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز)