جرمنی میں خطرناک سمندری طوفان کی آمد | حالات حاضرہ | DW | 08.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں خطرناک سمندری طوفان کی آمد

جرمنی کے بعض حصوں میں اتوار نو فروری کو ایک طاقتور سمندری طوفان داخل ہو رہا ہے۔ عام لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 اتوار نو فروری کی رات سے منگل تک جرمنی کے شمالی اور مغربی علاقوں میں ایک طوفان آ رہا ہے۔ طاقتور جھکڑ اور امکاناً موسلا دھار بارش ان علاقوں کو اپنی گرفت میں لے لیں گے۔ اس دوران شدید آسمانی بجلی چمکنے کا بھی قوی امکان ہے۔

 سمندری طوفان زابینے کے ساتھ چلنے والی تیز ہواؤں کی رفتار ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ ہو گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جھکڑوں اور بارشوں کے سلسلے کا آغاز اتوار نو فروری کی شام سے شروع ہو جائے گا اور اس میں بتدریج شدت پیدا ہو جائے گی۔

جرمنی کے گنجان آباد صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہروں کولون اور بون کے تعلیمی اداروں نے اپنے طلبہ کو گھروں پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مناسبت سے تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی جانب سے والدین کو آن لائن مطلع کر دیا گیا ہے۔

Spanien Sturmtief Gloria

عام لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اتوار سے منگل تک گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں

اسی طرح عام لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اتوار سے منگل تک گاڑیوں پر سفر سے اجتناب برتیں اور اپنے تجویز کردہ سفر کو ملتوی کر دیں۔ جرمن محکمہ موسمیات نے اس طوفان کو خاصا خطرناک قرار دیا ہے۔

ریل گاڑیوں کو زابینے طوفان کے جھکڑ اور بارش شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ اس باعث شمالی اور مغربی جرمنی میں ٹرین سروس میں خلل پیدا ہونے کا یقینی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

زابینے طوفان بحر اوقیانوس سے اٹھ رہا ہے اور جرمن علاقوں میں داخل ہونے کے بعد بتدریج جنوب کی طرف بڑھتا جائے گا اور اس طرح باویریا کا وسیع علاقہ سمندری طوفان کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ باویریا کے علاقے میں یہ طوفان پیر کی رات میں داخل ہو جائے گا۔ ماہرین موسمیات کے مطابق پیر کی شام سے موسم بہتر ہونا شروع ہو جائے گا۔

ع ح ⁄ ا ا (ڈی پی اے)

DW.COM