جرمنی میں جِن نکالتے ہوئے عورت کا قتل، پانچوں ملزم غیر ملکی | معاشرہ | DW | 16.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں جِن نکالتے ہوئے عورت کا قتل، پانچوں ملزم غیر ملکی

جرمنی میں مبینہ طور پر ایک جِن کے قبضے میں آئی ہوئی عورت کو آزاد کرانے کے لیے اسے مار مار کر ہلاک کر دینے کے الزام میں پانچ جنوبی کوریائی باشندوں پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یہ قتل فرینکفرٹ کے ایک ہوٹل میں ہوا تھا۔

Hölle Feuer Symbolbild

ملزمان نے جن نکالنے کے لیے اپنی ہم وطن ایک خاتون کا اتنا پیٹا کہ وہ دم توڑ گئی

جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ سے جمعرات سولہ جون کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس شہر میں ریاستی دفتر استغاثہ نے بتایا کہ مقتولہ کی عمر 41 برس تھی۔ اس قتل کے سلسلے میں جو پانچ افراد زیر حراست ہیں، ان میں سے تین ایک جنوبی کوریائی خاندان سے تعلق رکھنے والے بالغ افراد ہیں جبکہ باقی دو نابالغ ہیں اور ان کی عمریں 15 اور 16 برس ہیں۔

ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے فرینکفرٹ کے ایک ہوٹل کے کمرے میں ایک ایسی 41 سالہ خاتون کو، جس میں مبینہ طور پر ایک جِن داخل ہو گیا تھا، اس جِن سے نجات دلانے کے لیے اتنا مارا تھا کہ وہ خاتون ہلاک ہو گئی تھی۔ دفتر استغاثہ کے مطابق ملزمان پر اب قتل کے الزام میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

وفاقی جرمن دفتر استغاثہ کی فرینکفرٹ میں مقامی ترجمان نادیہ نِیزن نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’یہ ملزمان ایک خاتون کو کسی جِن کے مبینہ قبضے سے آزاد کرانے کے لیے اسے پیٹتے ہوئے اپنی کوئی ثقافتی روحانی رسم پوری کر رہے تھے۔‘‘

نادیہ نِیزن نے بتایا کہ پانچ ملزمان میں ایک 44 سالہ خاتون، اس کا 22 سالہ بیٹا اور 19 سالہ بیٹی بھی شامل ہیں جبکہ باقی دونوں ملزمان دو ایسے لڑکے ہیں، جن کی عمریں 15 اور 16 برس ہیں۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق مقتولہ بھی، جس کا نام نہیں بتایا گیا، جنوبی کوریا ہی کی ایک شہری تھی اور اسے گزشتہ برس دسمبر میں قتل کیا گیا تھا۔

Symbolbild Whistleblower kapuze

یہ جرم جرمنی میں کیا گیا لیکن تمام ملزمان جنوبی کوریائی باشندے ہیں

ڈی پی اے نے استغاثہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ مقتولہ کے سینے اور پیٹ پر تشدد کے واضح نشانات تھے لیکن پوسٹ مارٹم سے یہ پتہ بھی چلا تھا کہ اس کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی تھی۔ یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ آیا انتقال کر جانے والی خاتون نے خود ان ملزمان کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ اس طرح تشدد کر کے اس کا ’جِن نکال دیں‘۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جس تین رکنی جنوبی کوریائی خاندان پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے، وہ اس قتل کے واقعے سے قریب چھ ہفتے قبل فرینکفرٹ پہنچا تھا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس خاندان کا تعلق کس مذہب سے ہے۔ زیر حراست دونوں نابالغ لڑکوں میں سے ایک کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ شاید مقتولہ کا کوئی رشتے دار ہے۔

اس مقدمے کے سلسلے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ جرمن تفتیشی ماہرین کو اس ہلاکت کی چھان بین کے دوران ’روحانی طور پر جِن نکالنے یا شیطان کے قبضے سے نجات دلانے‘ کے ایک اور واقعے کا علم بھی ہوا تھا۔ اس واقعے میں بھی متاثرہ فرد ایک خاتون ہی تھی۔

اس خاتون کو تاہم حکام فرینکفرٹ کے نواحی قصبے زُلس باخ میں کرائے کے ایک مکان سے زندہ بچا لینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ خاتون بھی مار پیٹ کے نتیجے میں شدید زخمی تھی اور اس کا جسم پانی کی شدید کمی کا شکار تھا۔ اس خاتون کا ’جِن نکالنے‘ کا کام بھی ایک ہی جنوبی کوریائی خاندان کے وہی تین بالغ ارکان کر رہے تھے، جو تب تک حراست میں لیے جا چکے تھے۔

DW.COM

اشتہار