جرمنی میں بے روزگاری مسلسل کم ہوتی ہوئی | معاشرہ | DW | 30.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں بے روزگاری مسلسل کم ہوتی ہوئی

جرمنی میں ایک مستحکم حکومت کے قیام کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائیں، لیکن اس سیاسی بے یقینی کے منفی اثرات جرمن معیشت پر دکھائی نہیں دے رہے۔ اس وقت ملک میں بے روزگاری کی شرح جرمن اتحاد کے بعد کم ترین سطح پر ہے۔

وفاقی جرمن دفتر روزگار (بی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے حامل اس ملک میں بے روزگاری کی شرح مزید کم ہو کر 5.3 فیصد پر آ گئی ہے۔ جرمنی میں رواں برس کے ملکی انتخابات کے بعد مخلوط حکومت کے قیام کے لیے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت دو دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھی۔ تاہم یہ مذاکرات ناکام ہو گئے اور ملک میں نئی حکومت کے قیام کا عمل متاثر ہوا۔

باویریا میں ملازمتوں کے ذریعے کامیاب سماجی انضمام

میرکل کی مایوس کُن فتح

اس سیاسی بے یقینی کے منفی اثرات تاہم جرمن معیشت پر مرتب نہیں ہوئے بلکہ اس ایک مہینے کے دوران ملک میں بے روزگاری کی شرح مزید کم ہوئی ہے۔ سن 1990 میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کے بعد سے اب تک ملک میں بے روزگاری یہ کم ترین شرح ہے۔

شماریات میں ان اعداد و شمار کے قابل بھروسہ ہونے کا معیار پرکھنے کے لیے رائج طریقہ کار کے مطابق بھی بے روزگاری کی شرح 5.6 فیصد ہے جو کہ معیشت سے متعلق امور کے ماہرین کی توقعات سے مطابقت رکھتی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو اور ہم خیال جماعت سی ایس یو نے مخلوط حکومت کے قیام کے لیے سہ طرفہ مذاکرات شروع کر رکھے تھے جو آخرکار ناکام ہو گئے۔ اس پیش رفت کے بعد بھی صارفین اور کارباری طبقے میں عدم اعتماد دکھائی ظاہر نہیں ہوا۔

یورپی مرکزی بینک کے بے پناہ تعاون کی موجودگی اور غیر ملکی منڈیوں میں جرمن مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اقتصادی ماہرین اور حکومت نے حالیہ مہینوں کے دوران معیشت میں اضافے کی شرح کے تخمینے بھی بڑھا دیے ہیں۔

تیز رفتار اور مستحکم معاشی ترقی کے باعث چانسلر میرکل اس قدر پراعتماد تھیں کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سن 2025 تک ملک سے بے روزگار مکمل طور پر ختم کرنے، یا اس کی شرح تین فیصد تک لانے کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا۔ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کو پیش نظر رکھا جائے تو جرمنی کا سب سے امیر صوبہ باویریا مقررہ وقت میں اس ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’جرمنی اور جنوبی کوریا نے چھوٹی صنعتوں پر توجہ مرکوز کی تھی‘

جرمنی میں کم پڑھے لکھے مہاجرین کے لیے مشکلات زیادہ

DW.COM

اشتہار