جرمنی: مہاجرین کی مدد کرنے والوں پر شدت پسندوں کے حملے | مہاجرین کا بحران | DW | 15.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجرین کی مدد کرنے والوں پر شدت پسندوں کے حملے

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے نسل پرست شدت پسندوں کی جانب سے مہاجرین کی پناہ گاہوں پر حملوں میں اضافے کے بعد اب تارکین وطن کی مدد کرنے والے رضاکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جرمنی آنے والے مہاجرین کی امدد کرنے والے ایک رضاکار جوڑے کو اب تک یقین نہیں آ رہا کہ ان کی اُس وین کو نذر آتش کر دیا گیا جسے وہ اپنے رضاکارانہ کاموں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ گھر کے باہر جہاں کبھی ان کی یہ وین کھڑی ہوتی تھی، اب وہاں جلی ہوئی زمین اور جھلسے ہوئے پودے دکھائی دیتے ہیں۔

دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے رضاکاروں کی وین کو جلائے جانے کا یہ واقعہ نوئے ہاڈنبرگ نامی ایک گاؤں میں پیش آیا۔

جرمن وزارت داخلہ کے خیال میں وین جلائے جانے کے اس واقعے اور ایسے دیگر واقعات کے پیچھے سیاسی محرکات کار فرما ہیں اور ان کے مشاہدے کے مطابق ایسے حملوں میں مہاجرین کی مدد کرنے والوں کی املاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہانا ہرٹزوگ (فرضی نام) نے بتایا، ’’مجھے باہر کچھ شور سنائی دی اور میری آنکھ کھُل گئی۔ میرے خاوند نے کہا کہ کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے۔ اتنی دیر میں ہماری بس آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔‘‘ ہانا اور ان کے خاوند دو دن قبل ہی وین کے ساتھ چھٹیاں منا کر لوٹے تھے، لیکن اب ان کی وین جل کر راکھ ہو چکی تھی۔ ہرٹزوگ نے بتایا، ’’ہمارے لیے وہ ایک سیاہ دن تھا، جب کباڑیے وین کو اٹھا کر لے جا رہے تھے تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ جنازہ اٹھا کر لے جا رہے ہوں۔‘‘

مشرقی شہر برانڈن بُرگ میں 2010ء اور 2013ء کے درمیان تارکین وطن کے خلاف کسی بھی نوعیت کا کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن 2014ء میں اس شہر میں بھی دو حملے ہوئے تھے اور رواں برس ستمبر تک حملوں کی تعداد 16 تک جا پہنچی تھی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق، ’’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بطور پراپیگنڈا استعمال کر رہے ہیں اور وہ اس ضمن میں تشدد کے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے بھی اجتناب نہیں کر رہے۔‘‘

وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق پناہ گزینوں کی مدد کرنے والوں پر کیے گئے حملوں کے بارے میں کوئی ٹھوس اعداد و شمار تو موجود نہیں، تاہم دھمکی، تضحیک اور مہاجرین سے متعلقہ املاک پر حملوں اور نقصان میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ روزنامہ زوڈ ڈوئچے زائٹنگ نے حال ہی میں ایک خبر شائع کی تھی جس کے مطابق جرمن شہر بیلے فیلڈ میں ایک فوٹوگرافر کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ یہ فوٹوگرافر تارکین وطن کی مدد کے لیے فوٹو کیلنڈر بیچ کر پیسے جمع کر رہا تھا۔

پولیس حکام نے اس معاملے پر جامع تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ایسے واقعات سے متاثر ہونے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے کچھ رضاکاروں کو سکیورٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ کلون شہر میں میئر کے انتخابات کے دوران میئر کے عہدے کی امیدوار ہنریٹے ریکر پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا۔ ریکر انتخابات سے قبل مہاجرین کی رہائش اور جرمن معاشرے میں ان کے انضمام کے بندوبست میں مصروف تھیں۔ حملے کے باوجود وہ میئر منتخب ہو گئی تھیں۔

یہ واقعہ بھی اس بات کا غماز ہے کہ دائیں بازو کے مہاجرین مخالف شدت پسندوں کا نشانہ صرف مہاجرین ہی نہیں، بلکہ مہاجرین کی مدد کرنے والے جرمن لوگوں کو بھی بنایا جا رہا ہے۔

ہرٹزوگ نے بتایا کہ ان کی کسی سے دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کسی پر شبہ ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ تارکین وطن کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے منعقدہ ایک کانسرٹ کے دوران انہوں نے سیاہ لباس میں ملبوس چند نوجوانوں کو دیکھا تھا جو کانسرٹ میں شریک ہونے والوں کی گاڑیوں کے نمبر لکھ رہے تھے۔ وزارت داخلہ نے اس کیس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

ہرٹزوگ اور ان کے خاوند کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کے باوجود تارکین وطن کی مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حملے کے بعد کچھ مہاجرین ان کی خیریت دریافت کرنے آئے اور کہا، ’’آپ کے ساتھ یہ واقعہ ہماری وجہ سے پیش آیا۔‘‘ ہرٹزوگ کہتی ہیں اس وقت انہیں احساس ہوا کہ ان مہاجرین اور ہمارے درمیان ایک بات مشترک ہے، ہم دونوں بے بس ہیں لیکن ہمیں ان کی طرح ہجرت نہیں کرنا پڑی، جذباتی سطح پر ہم ایک ساتھ اور ایک جیسے ہیں۔