جرمنی ميں مہاجرین کی جعلی شادیاں کرانے والا گروہ گرفتار | مہاجرین کا بحران | DW | 15.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی ميں مہاجرین کی جعلی شادیاں کرانے والا گروہ گرفتار

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پولیس نے وسیع پیمانے پر چھاپے مارنے کے بعد مشتبہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ افراد ویت نامی مہاجرین کی جعلی شادیاں کرانے کے کاروبار میں ملوث بتائے گئے ہیں۔

برلن میں پولیس کے ایک ترجمان نے آج بروز منگل بتایا،’’ہم نے تین مرکزی مشتبہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے اور ابھی متعدد رہائشی فلیٹوں کی تلاشی جاری ہے۔‘‘

پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان چھاپوں میں وفاقی اور ریاستی پولیس کے دو سو افسران نے حصہ لیا۔ کارروائی کا آغاز صبح چھ بجے سے کیا گیا تھا۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس دوران برلن کے مشرقی اضلاع میں کم ازکم بیس فلیٹوں کی تلاشی لی جا چکی ہے۔ اس بیان کے مطابق شبہ ہے کہ یہ افراد ویت نام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی ڈنمارک میں جعلی شادیاں کراتے تھے۔ پولیس ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈنمارک میں مبینہ طور پر جعلی شادی کے بعد مہاجر جوڑا جرمنی واپسی پر علیحدگی اختیار کر لیتا تھا۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جرمن ویتنامی گروہ دس افراد پر مشتمل ہے۔ گرفتار شدگان میں دو ویتنامی مرد اور ایک جرمن خاتون شامل ہيں۔ اس دوران جعلی کاغذات بھی تحویل میں لیے گئے ہیں۔

ڈنمارک میں ہوئی شادی اور اس کے نتیجے میں پڑوسی ملک جرمنی میں رہائش کے حق کی قیمت ایک ویت نامی مہاجر کو چند ہزار یورو میں پڑتی ہے۔ پولیس کے مطابق ان کے پاس کم از کم دس کامیاب جعلی شادیوں کے ثبوت اور ولدیت کے پانچ جعلی سرٹیفیکیٹ موجود ہیں۔

ص ح/ ڈی پی اے

DW.COM