جرمنی ميں مہاجرين کو فراہم کردہ سہوليات ميں کمی زير غور | مہاجرین کا بحران | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی ميں مہاجرين کو فراہم کردہ سہوليات ميں کمی زير غور

جرمنی ميں گزشتہ برس ستمبر ميں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تھا تاہم ابھی تک حکومت سازی کا عمل مکمل نہيں ہو سکا ہے۔ آئندہ حکومت کے قيام کے ليے جاری مذاکرات ميں مہاجرين کو دی جانے والی مراعات ميں کمی ايک اہم معاملہ ہے۔

جرمنی ميں چانسلر انگيلا ميرکل کی جماعت کرسچيئن ڈيموکريٹک يونين (CDU) کی صوبہ باويريا ميں اتحادی پارٹی کرسچيئن سوشل يونين (CSU) کارپوريٹ ٹيکسوں کی شرح ميں کمی اور ملک ميں موجود سياسی پناہ کے متلاشی افراد کو فراہم کی جانے والی سہوليات ميں کٹوتی کی حامی ہے۔ تاہم مہاجرين والا معاملہ سوشل ڈيموکريٹس (SPD) کے ساتھ حکومت سازی کے عمل کو مزيد پيچيدہ بنا سکتا ہے۔ حکومت سازی کے ليے ان سياسی جماعتوں کے مابين مذاکرات سات تا بارہ جنوری منعقد ہوں گے۔

سی ايس يو کے پاليسی دستاويزات اس بات کی نشاندہی کرتے ہيں کہ مذاکراتی عمل مشکل ہو گا۔ ايک ايسے وقت پر کہ جب انتخابات کو کئی ماہ گزر چکے ہيں اور ابھی تک حکومت قائم نہيں ہو سکی ہے يہ بات ذرا پريشان کن ہے۔ فری ڈيموکريٹس (FDP) اور ماحول دوست گرين پارٹی کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد چانسلر انگيلا ميرکل جلد از جلد ايک مستحکم حکومت کا قيام چاہتی ہيں ليکن يہ ذرا مشکل دکھائی دے رہا ہے کيونکہ فريقين کے مابين کئی اہم معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہيں۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ انتخابات ميں ناقص کارکردگی کے بعد ايس پی ڈی کی جانب سے يہ اعلان کيا جا چکا تھا کہ وہ اپوزيشن ميں بيٹھے گی۔ ليکن اور کوئی راستہ نہ بچنے کے سبب ملک کو ايک سياسی بحران کا سامنا تھا، جس کا حل تلاش کرنے کے ليے صدر اور ديگر سياست دانوں کے بے حد اصرار پر ايس پی ڈی نے دوبارہ ايک گرينڈ کوليشن حکومت کے قيام کے ليے مذاکرات کا راستہ اختيار کيا۔ سابقہ حکومت ميں بھی ايس پی ڈی ميرکل کی مشروط حکومت کا حصہ تھی۔

گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ايک دستاويز کے مطابق سی ايس يو ملکی دفاعی بجٹ کو نيٹو کے مقرر کردہ مجموعی قومی پيداوار کے دو فيصد کے برابر کرنے کے حق ميں ہے۔ پارٹی اميگريشن کے حوالے سے سخت پاليسی کی خواہاں ہے اور يورپی سطح پر زيادہ انضمام کے بھی خلاف ہے۔ يہ تمام معاملات ايسے ہيں، جو اسے ايس پی ڈی کے ساتھ تصادم کے راستے پر کھڑا کر ديں گے۔ سی ايس يو کی ايک دستاويز ميں سياسی پناہ کے متلاشی افراد کو دی جانے والی سماجی مراعات ميں کٹوتی کا مطالبہ کيا گيا ہے۔

 اس بارے ميں خبر يکم جنوری پير کو ’آؤگسبرگر الگمائنے‘ نامی اخبار ميں رپورٹ کی گئی۔ يہ جماعت چاہتی ہے کہ پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کے دوران مہاجرين کو اونچی سطح کی يعنی زيادہ مراعات چھتيس ماہ بعد دی جائيں اور وہ بھی اس ترميم کے ساتھ کہ چھتيس ماہ بعد پناہ کے متلاشی افراد کو مقابلتاً کم سہوليات مليں۔ اس وقت پندرہ ماہ جرمنی ميں قيام کے بعد مہاجرين کو اونچی سطح کی يا زيادہ سہوليات فراہم کی جاتی ہيں۔

سی ايس يو کے ايک اعلیٰ رکن اليگزانڈر ڈوبرنٹ نے کہا، ’’ہم سماجی سہوليات و مدد ميں کمی اس ليے چاہتے ہيں تاکہ جرمنی دنيا بھر کے تارکين وطن کے ليے اولين ترجيح ہی نہ بنا رہے۔‘‘

دريں اثناء انگيلا ميرکل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سابق وزير خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے پچھلے ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ وہ مائنورٹی حکومت کو خارج از امکان قرار نہيں دے سکتے۔ ايک اور متبادل دوبارہ اليکشن کا ہے تاہم سياسی مبصرين کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے زيادہ فائدہ انتہائی دائيں بازو کی جماعت جرمنی کے ليے متبادل يا (AfD) کو ہو گا، جو مرکزی دھارے کی کوئی بھی جرمن سياسی جماعت نہيں چاہتی۔

ویڈیو دیکھیے 02:11
Now live
02:11 منٹ

’یو ٹیوب اسٹار بننا چاہتا ہوں،‘ افغان مہاجر

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار