جرمنی ميں تعليم بالغاں کا معيار دنيا ميں سب سے بلند، يونيسکو | معاشرہ | DW | 05.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی ميں تعليم بالغاں کا معيار دنيا ميں سب سے بلند، يونيسکو

تعليم و ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے يونيسکو نے اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں خبردار کيا ہے کہ عمر رسيدہ افراد، مہاجرين اور پناہ گزينوں کو تعليم بالغاں کے سلسلے ميں سب سے زيادہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

يونيسکو کے مطابق جرمنی ميں فراہم کی جانے والی تعليم بالغاں کا معيار دنيا ميں سب سے اعلیٰ ہے۔ تعليم و ثقافت سے متعلق اقوام متحدہ کے ذيلی ادارے کے مطابق اس يورپی ملک ميں تعليم بالغاں کا نہ صرف معيار بلکہ اس کی مد ميں خرچ کی جانے والی رقوم بھی قابل ذکر ہيں۔ تعليم پر مختص بجٹ کا چار فيصد تعليم بالغاں پر خرچ کيا جاتا ہے۔ تمام ملکوں کا جائزہ ليا جائے، تو 20 فيصد ممالک تعليم کی فراہمی کے ليے مختص اپنے بجٹ کا اعشاريہ پانچ فيصد تعليم بالغاں پر خرچ کرتے ہيں۔

جرمنی میں يونيسکو کميشن کی صدر ماريا بوہمر نے اس بارے ميں کہا، ''ہم جرمنی ميں بہت کچھ حاصل کر چکے ہيں ليکن ايک ايسے دور ميں کہ جب ملازمت اور اس سے جڑا ماحول ہر وقت تبديل ہوتا رہتا ہے، زندگی بھر سيکھنے کا عمل جاری رکھنا اور بھی ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے مطلع کيا کہ مستقبل ميں اس مد ميں اور بھی زيادہ رقوم خرچ کی جائيں گی۔

دوسری جانب اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں يونيسکو نے خبردار کيا ہے کہ عالمی سطح پر تعليم بالغاں کی فراہمی ميں کمی کا رجحان ديکھا جا رہا ہے اور بہت ہی کم بالغ افراد کو يہ سہولت ميسر ہے کہ وہ تعليم حاصل کر سکيں۔ رپورٹ کے مطابق دنيا کے تمام ملکوں ميں صرف 20 فيصد تعليم کی فراہمی کے ليے اپنے مجموعی بجٹ کا اعشاريہ پانچ فيصد خرچ کرتے ہيں۔ 14 فيصد رياستيں اس مد ميں تعليم کی فراہمی کے ليے اپنے داخلی بجٹ کا ايک فیصد سے بھی کم خرچ کرتی ہيں۔ اس کے برعکس جرمنی کا شمار ان 19 فيصد ملکوں ميں ہوتا ہے، جو  تعليم کے ليے مختص اپنے داخلی بجٹ کا چار فيصد سے زائد حصہ بالغ افراد کو ملازمت کے مواقع ميں بہتری، ديگر ضروريات اور نئے دور سے ہم آہنگ رکھنے کے ليے ان کی تعليم کے ليے خرچ کرتے ہيں۔

يونيسکو نے خبردار کيا ہے کہ عمر رسيدہ افراد، مہاجرين اور پناہ گزين اس ضمن ميں سے سے زيادہ متاثرہ ہيں۔

ع س / ا ب ا، نيوز ايجنسياں