جرمنی: خواتین کی نازیبا تصاویر اور حادثوں میں مرنے والوں کی تصاویر کھینچنا جرم قرار | حالات حاضرہ | DW | 13.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: خواتین کی نازیبا تصاویر اور حادثوں میں مرنے والوں کی تصاویر کھینچنا جرم قرار

جرمنی کی وفاقی کابینہ نے ایک ایسا قانونی بل منظور کر لیا ہے جس میں خفیہ طور پر خواتین کے جسمانی اعضا کی تصاویر کھینچنے کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ حادثوں میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر لینا بھی قابل سزا جرم ہو گا۔

'اپ سکرٹنگ‘ یعنی خواتین کی مرضی کے بغیر اسکرٹ یا کپڑوں کے نیچے خفیہ طور پر نازیبا تصاویر کھینچنا اب جرمنی میں قابل سزا جرم ہو گا۔ جرمنی کی وفاقی کابینہ نے آج بدھ کے روز وفاقی کابینہ سے منظور کردہ قانونی بل میں اپ سکرٹنگ کے ساتھ ساتھ حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر کھینچنے کے عمل کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کو 'ربر نیکنگ‘ کہا جاتا ہے۔

جرمنی کی وزیر انصاف کرسٹینے لامبریشٹ کا کہنا تھا، ''خواتین کی سکرٹ کے نیچے سے تصاویر کھینچنا توہین آمیز اور خاتون کی نجی زندگی میں بے جا مداخلت ہے۔‘‘ انہوں نے حادثوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر لیے جانے کے حوالے سے کہا، ''ہمیں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو ان کے مر جانے والے عزیزوں کی تصویریں پھیلا کر مزید اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

نئے قوانین کے تحت 'اپ سکرٹنگ' اور 'ربر نیکنگ‘ کرنے والوں کو دو برس قید کی سزا دی جا سکے گی۔

'اپنے جگر کے ٹکڑوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے‘

دو نوجوان لڑکیوں کی آن لائن جدوجہد

خواتین کی مرضی کے بغیر ان کے جسم کی نازیبا تصاویر کھینچنا جرمن قوانین کے تحت غیر اخلاقی حرکت تو تھی لیکن قابل سزا جرم نہیں تھا۔ جرمن شہر لڈوگس برگ سے تعلق رکھنے والی دو نوجوان خواتین ہانا سائیڈل اور ماری ساسنبرگ نے اس عمل کو جرم قرار دینے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی تھی اور کچھ ہی عرصے میں 90 ہزار سے زائد جرمن شہریوں نے اس پر دستخط کر دیے تھے۔

اپریل میں پٹیشن شروع کرتے وقت ہانا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ''آپ کہیں مارکیٹ میں کھڑے ہیں یا کسی کنسرٹ میں ہیں اور سکرٹ کے نیچے سے آپ کی تصویر لے لی گئی۔ یہ بھی نہیں پتا چلتا کہ تصاویر کا کیا بنا، انہیں کسی پورن ویب سائٹ پر شائع کر دیا گیا، آن لائن شیئر کیا گیا یا تصویر لینے والے نے خود ہی انہیں دیکھ کر اپنی جنسی تسکین کی۔ اپ سکرٹنگ میں سب سے بری بات یہ بھی ہے کہ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ آپ کے جسم کی تصویر کھینچی جا چکی ہے۔‘‘

جرمنی میں جنسی ہراسیت، ہر گیارہ میں سے ایک ورکر متاثر

جرمن کابینہ کے آج منظور کردہ قانونی بل میں ایسی تصاویر کو پورن سائٹوں یا سوشل میڈیا پر براہ راست شیئر کرنے والے افراد کے لیے بھی دو برس قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

اس بل کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور منظوری کے بعد اسے قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

ش ح / ک م (ڈی پی اے، ای پی ڈی)

DW.COM