1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: picture-alliance/dpa

Meiler-Abbau wird teuer

عدنان اسحاق
18 فروری 2014

جرمنی میں حکومت اعلان کر چکی ہے کہ 2022ء تک ملک کے تمام جوہری بجلی گھر بند کر دیے جائیں گے اور توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔ تاہم ماہرین حکومت کے اس منصوبے پراپنے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/1BB3G

ماہرین کی رائے میں جوہری بجلی گھروں کو بند کرنے کے بعد جوہری فضلے کو ٹھکانے لگانے پراربوں یورو کے اخراجات آئیں گے اور حکومت کی جانب سے اس مقصد کے لیے مختص کردہ رقم ناکافی ہو گی۔ ماہرین کا موقف ہے کہ جوہری توانائی پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی پر فی الحال بہت زیادہ لاگت آتی ہے اور اسی وجہ سے جرمن صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس سے قبل جب جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جوہری توانائی سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کیا تھا تو ماحول پسند تنظیموں نے اس حکومتی فیصلے کی زبردست پذیرائی کی تھی۔ بعد ازاں ان تنظیموں کی جانب سے برلن حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جوہری توانائی پر انحصار فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر چانسلر میرکل نےکہا تھا کہ فی الفور تمام تر ایٹمی بجلی گھروں کو بند کر دینا ممکن نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان بجلی گھروں کی بندش کا ہدف وقت سے پہلے حاصل کرنے کے لیے قابل تجدید ذرائع سے بجلی کے حصول کے منصوبوں میں تیزی لائی جائے گی۔

Offizieller Start des Windparks Bard Offshore 1
تصویر: picture-alliance/dpa

جرمنی میں نیو کلیئر پلانٹس کے نگراں اداروں کی جانب سے اس مقصد کے لیے 34 ارب یورو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا موقف ہے کہ جوہری بجلی گھروں کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے یہ رقوم کافی نہیں ہوں گی۔ تابکاری سے تحفظ کے وفاقی جرمن ادارے کی فہرست کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 33 نیو کلیئر پلانٹس قائم ہیں۔ ان میں سے نو ابھی تک فعال ہے جبکہ جاپان میں فوکوشیما کے حادثے کے بعد آٹھ جرمن ری ایکٹرز کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 16 دیگر بجلی گھر ایسے ہیں، جو بند کیے جانے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ دوسری جانب جوہری فضلے کو ٹھکانے لگانے کے مقام کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جانا بھی ابھی باقی ہے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مؤلہائم کیئرلش کے جوہری بجلی گھر کو بند کرنے میں کم از کم 750 ملین یورو لگیں گے۔ جرمنی میں توانائی کی اس منتقلی کے عمل کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے مختص کی جانے والی رقوم کو محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک پبلک فنڈ کا قیام اچھا اقدام ہو گا۔ اس لیے کہ اگر ایسی رقوم محفوظ نہ کی گئیں، تو کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ جوہری بجلی گھروں کو بند کرنے پر جو اضافی اخراجات آئیں گے، وہ کون ادا کرے گا۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پشاور حملہ: کم از کم ساٹھ اموات، طالبان کا اظہار لاتعلقی

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں