1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایشیا

جرمنی اپنی شرائط پر طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا

23 ستمبر 2021

طالبان حکومت اس وقت بین الاقوامی برادری سے اپنے آپ کو تسلیم کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جرمنی نے اس کے لیے بعض اہم شرائط رکھی ہیں، جن کی تکمیل کے بعد ہی طالبان سے بہتر تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/40gWV
USA New York | 76. Generaldebatte der UN-Vollversammlung | Heiko Maas
تصویر: Bernd von Jutrczenka/dpa/picture alliance/dpa

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت کو بین الاقومی برادری سے تعلقات قائم کرنے ہیں تو اس کے لیے انہیں پہلے بعض شرائط کو پورا کرنا ہو گا۔ انہوں نے اس کے لیے مطالبات کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے جس پر طالبان کو عمل کرنا ضروری ہو گا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں ہائیکو ماس نے کہا کہ طالبان کے ساتھ روابط کا انحصار ان اہم شرائط سے مربوط ہو گا۔

ان کا کہنا تھا، ''اہم بات یہ ہے کہ جو مطالبات ہم نے طالبان سے کیے ہیں، وہ انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق اور ایک جامع شمولیتی حکومت کے قیام کے بارے میں ہیں۔ یہ بھی کہ وہ خود کو واضح اور بغیر کسی لاگ لپٹ کے دہشت گرد گروہوں سے خود کو دور رکھتے ہیں یا نہیں اور آخر میں یہ کہ محض خوش نما الفاظ سے کام نہیں چلنے والا بلکہ اس پر حقیقی عمل بھی ضروری ہے۔''

طالبان کی اپنے آپ کو تسلیم کرانے کی کوششیں

طالبان حکومت نے اس ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ (یو این)کے سکریٹری جنرل کو ایک خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا تھا کہ یو این کے لیے ان کے نئے سفیر سہیل شاہین کو 76ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے کی اجازت دی جائے۔ جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس نیویارک میں اس ہفتے منگل کو شروع ہوا ہے۔

اس درخواست پر اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کو ابھی فیصلہ کرنا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ شاید رواں اجلاس کے اختتام سے قبل اس پر فیصلہ نہ ہو پائے۔ اس دوران طالبان کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے مقرر کردہ نئے سفیر سہیل شاہین نے کہا ہے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

 خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ''ہمارے پاس حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے درکار تمام ضروری چیزیں موجود ہیں، لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ ایک غیر جانبدار عالمی ادارے کی حیثیت سے، اقوام متحدہ، افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لے گا۔''

Afghanistan Taliban Suhail Shaheen, Sprecher der afghanischen Taliban
تصویر: Alexander Zemlianichenko/AP Photo/picture alliance

لیکن جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس طالبان کی ان باتوں سے متاثر نہیں نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا، ''مجھے نہیں لگتا کہ اقوام متحدہ میں اس طرح کی کارکردگی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ میری رائے میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اس معاملے میں پیش رفت لانے کے لیے کوئی مناسب فورم نہیں ہے۔''

طالبان سے بات چیت اہم ہیں

جرمنی پہلے ہی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی سطح پر سیاسی بات چیت بہت ضروری ہے کیونکہ اب ملک میں ہر طرح کی انسانی امداد کی نگرانی انہی کے ذمہ ہو گی۔ اور یہ کام ان سے مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں ہو پائے گا۔ 

طالبان کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ''میرے خیال سے یہی درست ہو گا کہ ہم طالبان سے بات کریں۔ اس کے لیے حالیہ ہفتوں میں کئی چینل سامنے بھی آئے ہیں۔''

جرمن وزیر خارجہ نے جی 20 کانفرنس میں بھی جب ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا تو اس موقع پر بھی انہی اہم نکات پر روشنی ڈالی تھی۔ ہائیکو ماس کے مطابق افغانستان اس وقت دنیا کا، ''سب سے بڑا خوفناک چیلنج'' ہے جس کا عالمی برادری کو سامنا ہے۔

طالبان نے جس عبوری حکومت اور کابینہ کا اعلان کیا ہے اس میں سبھی برادریوں کی شمولیت کا فقدان ہے اور اس طرح سے ایک کلیدی شرط پہلے سے ہی غائب ہے۔ جرمن وزیر خارجہ کے مطابق اس طرح کی روش سے طالبان کے ساتھ راوبط کر برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)

جرمنی افغان پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے، جرمن سفیر

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

صوفی بزرگ علاؤالدین علی احمد صابر کلیری کی درگاہ
ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں