جرمنی اور روس کی شام میں ترک فوجی ایکشن پر تنقید | حالات حاضرہ | DW | 21.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی اور روس کی شام میں ترک فوجی ایکشن پر تنقید

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ترکی کی طرف سے شام کے کُرد علاقوں میں فوجی پیش قدمی کو "جارحیت" قرار دیا ہے جبکہ روس نے بھی ترک فوجی ایکشن پر تنقید کی ہے۔

جرمن براڈکاسٹر زیڈ ڈی ایف سے بات کرتے ہوئے ہائیکو ماس نے کہا کہ جرمنی سمجھتا ہے کہ کُرد ملیشیا پر ترکی کے حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اُن کا ملک ترکی کے اس اقدام کو غیر قانونی سمجھتا ہے اور قوی امکان ہے کہ یورپی یونین ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دے۔

وزیر خارجہ کے بیان سے ملتا جلتا موقف جرمن وزیر دفاع کی طرف سے بھی سامنے آیا۔ حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آنے گرَیٹ کرامپ کارین باؤر نے کہا کہ ترکی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم  نظام کی خلاف ورزی کی ہے، جس میں تنازعات کا حل سفارتکاری سے ہونا چاہیے نا کہ طاقت کے زور پر۔

اُدھر روس نے بھی شام میں ترکی کی فوجی پیش قدمی پر تنقید کی ہے۔ روسی نیوز ایجنسی طاس کے مطابق روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگو نے کہا کہ ترکی کی اس کارروائی کی وجہ سے شمالی شام میں داعش کے دہشت گردوں کے لیے قائم حراستی مراکز کی سکیورٹی متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ترک فوج کی کارروائی میں آٹھ پناہ گزین کیمپ اور  بارہ جیلوں کی سکیورٹی  کا نظام متاثر ہوا۔ روسی حکام کے مطابق ان جیلوں میں قریب پندرہ ہزار  مبینہ دہشت گردوں کو بھاگنے کا موقع ملا۔

ترکی کا موقف ہے کہ شام کی کُرد وائی پی جی ملیشیا ترُک ریاست کے خلاف سرگرم کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے منسلک ہے اور ترکی کی فوجی چڑھائی "دہشتگروں" کے خلاف ہے۔

شمالی شام میں نو اکتوبر سے ترک فوج کی پیش قدمی کے نتیجے میں کم از کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ بے گھر اور  متعدد مارے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس عسکری کارروائی کے دوران ترک افواج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہیں۔ ترک فوج پر الزام ہے کہ انہوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور فوری موت کی سزائیں دیں۔

ترکی کی فوجی کارروائی کی جرمنی سمیت دیگر یورپی ملکوں نے بھی مخالفت کی ہے۔ متعدد یورپی شہروں میں مظاہروں دیکھنے میں آئے ہیں جن میں کردوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔ جرمنی میں رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے میں اکیانوے فیصد لوگوں نے ترکی کو جرمن اسلحے کی فراہمی کی مخالفت کی ہے۔ 

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں فوجی کارروائی فوری طور پر روک دیں۔

DW.COM