جرمنی اور بھارت کے درمیان 5250 کروڑ روپے تعاون کا معاہدہ | حالات حاضرہ | DW | 01.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی اور بھارت کے درمیان 5250 کروڑ روپے تعاون کا معاہدہ

بھارت اور جرمنی میں ترقیاتی تعاون کے ساٹھ برس مکمل ہو گئے ہیں۔ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے دونوں ملکوں نے آج 5250 کروڑ روپے کے مالی اور تکنیکی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

بھارت میں جرمنی کے سفیر ڈاکٹر مارٹن نئے اور بھارتی وزارت خزانہ میں اقتصادی امور کے جوائنٹ سکریٹری سمیر کما ر نے آج بدھ کے روز ایک تقریب میں بھارت جرمنی ترقیاتی تعاون فریم ورک کے تحت مالی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ امدادی رقم تقریباً 8500 کروڑ روپے کے اس معاہدہ کا حصہ ہے، جس کا وعدہ جرمنی نے گزشتہ برس دسمبر کے اوائل میں نئی دہلی میں منعقدہ بھارت جرمنی بین الحکومتی مذاکرات کے دوران کیا تھا۔
اس معاہدہ کے تحت جرمنی کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی اس امداد کا استعمال عوامی ترقیاتی پروگراموں کو جاری رکھنے کے لئے کیا جائے گا۔ ان پروگراموں کے تحت پائیدار شہری ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور مودی حکومت کے اسمارٹ شہروں کے منصوبے کو فروغ دینے کے لئے بنیادی ڈھانچے، شہری آمدورفت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے منصوبوں پر یہ امدادی رقم خرچ کی جائے گی۔گنگا ندی کی صفائی، انرجی سیکٹر کے لئے اضافی وسائل کا حصول، شمسی توانائی کو فروغ دینے اور توانائی کے دیگر وسائل کو بہتر بنانے کے اقدامات میں تعاون بھی اس معاہدے میں شامل ہیں۔


خیال رہے کہ جرمنی گنگا ندی کی صفائی کے بھارت کے قومی پروگرام نیشنل کلین گنگا مشن میں خصوصی تعاون کر رہا ہے۔ گنگا ندی کو ہندؤں میں انتہائی مقدس مذہبی مقام حاصل ہے۔ وہ اسے ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے گنگا کا پانی نہانے کے لائق بھی نہیں رہ گیا ہے۔
ڈاکٹر مارٹن  نے جرمنی بھارت ترقیاتی تعاون کے ساٹھ برس مکمل ہونے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ ہمیں غربت کا خاتمہ کر کے، ہر ایک کو بہتر ذریعہ معاش فراہم کر کے اور ماحولیات کا تحفظ کر کے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے مل کر کام کرنے کے ہمارے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو بھارت کا ترقیاتی شریک کار ہونے پر فخر ہے۔
جرمن سفیر کا مزید کہنا تھا،’’ آج جرمنی اور بھارت کے درمیان امداد دینے اور لینے والے کی شناخت ختم ہو گئی ہے اور ہم برابر کے شریک کار ہیں۔ دنیا کو بہتر بنانے کے لئے باہمی ترقیاتی تعاون آج ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں۔‘‘


خیال رہے کہ جرمنی گزشتہ چھ دہائیوں سے بھارت میں کروڑوں افراد کی ضروریات زندگی کو بہتر بنانے کے لئے بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ تقریباً 8.5 ملین یورو کے ساتھ بھارت جرمنی کی طرف سے دنیا بھر میں باہمی ترقیاتی امداد کے لئے سب سے زیادہ رقم حاصل کرنے والا ملک ہے۔ جرمنی یورپ میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور تکنیکی تعاون کے معاملے میں دوسرا سب سے اہم ترین پارٹنر ہے۔
جرمنی بھارت میں غربت کے خاتمے اور قدرتی وسائل کو محفوظ رکھنے کے لئے بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے غیر سرکاری تنظیموں کی مدد کر رہا ہے۔ جرمنی بھارت کے متعدد حکومتی ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد کر رہا ہے۔ ان میں روزگار کے مواقع میں اضافے کے لئے ووکیشنل ایجوکیشن، ٹریننگ اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں کی مدد شامل ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بھارت اور جرمنی کے درمیان ترقیاتی اور تکنیکی تعاون کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعلقات میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ دو برسوں میں دونوں ملکوں کے مابین مجموعی طور پر 18.76 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔ اس میں بھارت نے 7.18 ارب ڈالر کی اشیاء جرمنی کو برآمد کیں جب کہ جرمنی سے 11.58ارب ڈالر مالیت کے مصنوعات درآمد کی گئیں۔ سن 2017ء میں جرمن کمپنیوں نے بھارت میں 1.2 ارب یوروکی سرمایہ کاری کی تھی۔گزشتہ دس برسوں میں باہمی تجارت کا حجم تین گنا بڑھ چکا ہے۔ اٹھارہ سو جرمن کمپنیوں نے بھارت میں چار لاکھ سے زائد ملازمت کے مواقع پیدا کئے ہیں۔