جب تک چاہیں گے، شام میں رہیں گے، امریکا | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جب تک چاہیں گے، شام میں رہیں گے، امریکا

امریکا اُس وقت تک شام میں موجود رہے گا جب تک ایران وہاں موجود ہے، تاہم امریکا کے اس کردار میں ضروری نہیں کہ فوجی دستے بھی شامل ہوں۔ ایک امریکی اہلکار نے یہ بات جمعرات کے روز کہی۔

شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے جیمز جیفری، اعلیٰ امریکی حکام کی جانب سے دیے گئے ایک حالیہ بیان کے حوالے سے صورتحال واضح کر رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجی ایران کے مقابلے کے لیے غیر معینہ مدت تک شام میں موجود رہیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے حاشیے میں صحافیوں نے جیمز جیفری سے جب یہ پوچھا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام سے امریکی فوجیوں کے نکالنے کو ایرانی فورسز کے نکلنے سے مشروط کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا، ’’صدر چاہتے ہیں کہ ہم اُس وقت تک وہاں موجود رہیں جب تک یہ اور دیگر شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔‘‘

USA Präsident Donald Trump im Weißen Haus in Washington

’’صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ہم اُس وقت تک وہاں موجود رہیں جب تک یہ اور دیگر شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔‘‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا، ’’امریکا کا یہ مطلب نہیں کہ لازمی طور پر امریکی فوجی ہی وہاں موجود رہیں۔ کئی طریقے ہو سکتے ہیں کہ ہم وہاں موجود رہیں۔ ہم یقیناﹰ سفارتی طور پر بھی وہاں موجود ہیں۔‘‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی بات حتمی نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’فوجی موجودگی موجودہ مشن تک لازمی ہے جس کا مقصد داعش کو شکست دینا ہے۔‘‘

شام میں اس وقت امریکا کے دو ہزار فوجی تعینات ہیں تاہم ان کی تعیناتی کا مقصد کُرد فورسز کے علاوہ شامی عرب جنگجوؤں کو تربیت فراہم کرنا ہے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

ٹرمپ کے سکیورٹی ایڈوائرز جان بولٹن نے شام کے حوالے سے پیر 24 ستمبر کو کہا تھا، ’’ہم اُس وقت تک وہاں سے نہیں نکلیں گے جب تک ایرانی فوجی دستے ایرانی سرحدوں کے اندر واپس نہیں چلے جاتے۔‘‘

USA | Sicherheitsberater Bolton droht dem Internationalen Strafgerichtshof

ٹرمپ کے سکیورٹی ایڈوائرز جان بولٹن نے شام کے حوالے سے کہا تھا، ’’ہم اُس وقت تک وہاں سے نہیں نکلیں گے جب تک ایرانی فوجی دستے ایرانی سرحدوں کے اندر واپس نہیں چلے جاتے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو براہ راست مدد فراہم کر رہا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ 26 ستمبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران حکومت دہشت گرد گروپ داعش کو شکست دینے کے لیے عمل پیرا ہے اور جب تک شامی حکومت درخواست کرے گی ایرانی فوجی شام میں موجود رہیں گے۔

حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا آخر کیوں اپنے گھر سے اتنا دور کہیں فوجی دخل دے رہا ہے۔

ا ب ا /ع ت (اے ایف پی)

DW.COM