جاپان: دیوی کے مجسمے کو ماسک پہنا کر کووڈ انیس کے خاتمے کی منت مانی گئی | معاشرہ | DW | 17.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جاپان: دیوی کے مجسمے کو ماسک پہنا کر کووڈ انیس کے خاتمے کی منت مانی گئی

جاپان میں بدھ مت کی ایک دیوی کے دیو پیکر مجسمے کے چہرے پر ماسک پہنا کر کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے لیے علامتی طور پر دعا مانگی گئی۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دیگر ممالک کی طرح جاپان کو بھی بے حد متاثر کیا ہے۔ اس ملک میں بھی کووڈ انیس سے بچاؤ کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جاپان کا سرکاری مذہب شِنتو ہے، جس کی تاریخ جاپان کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے اور شِنتو عقیدے کے ساتھ ساتھ وہاں بدھ مت بھی بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ شِنتو ایک مقامی عقیدہ ہے، جس کے نام کا مطلب ہے: ''خداؤں کے راستے۔‘‘ تاہم بدھ مت بھی جاپان کے اہم ترین عقائد میں سے ایک ہے۔ جاپان کے مختلف شہروں میں بدھ عبادت گاہیں قائم ہیں۔

ٹوکیو اولمپک کھیل منسوخ ہو نے کا خدشہ

شہر فوکوشیما کے ایک مندر میں بدھ مت کی ایک دیوی کا ایک بہت بڑا مجسمہ نصب ہے۔ اس عقیدے کے پیروکار اسے 'رحمت کی دیوی‘ کہتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے خلاف جہاں دیگر اقدامات کیے گئے ہیں، وہیں پر فوکوشیما کے 'ہوکو کوجی آئزو‘ مندر میں اس دیوی کے سفید دیو ہیکل مجسمے کو خاص طور پر تیار کردہ ایک ماسک پہنا کر علامتی سطح پر دعا مانگی گئی تاکہ جاپان میں جلد از جلد کورونا کی وبا کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جاپان: نوجوان خواتین میں خودکُشی کی شرح میں نمایاں اضافہ

 

Japan Statue der buddhistischen Gottheit Kannon bekommt Mund-Nasen-Maske

یہ مجسمہ 33 سال قبل تیار کیا گیا تھا۔

منگل کو اس دیوی کو یہ ماسک پہنانے کی ذمہ داری چار کارکنوں نے نبھائی۔ یہ مجسمہ 57 میٹر اونچا ہے۔ 'رحمت کی دیوی‘ کے اس مجسمے کے چہرے تک اس ماسک کو پہنچانے میں ان کارکنوں کو تین گھنٹے لگے۔ انہوں نے ماسک کو ایک رسی کے ذریعے مجسمے کے چہرے تک پہنچایا۔

کووڈ انیس: جاپان ميں بھی نئے کورونا وائرس کی میوٹیٹڈ قسم دريافت

یہ مجسمہ جو 33 سال پہلے تراشا گیا تھا، اندر سے کھوکھلا ہے۔ یعنی اس بہت بڑے مجسمے کے کندھوں تک پہنچنے کے لیے اس کے اندر خول رکھا گیا اور اس خول میں سیڑھیاں تعمیر کی گئی ہیں تاکہ اندر سے ہی سیڑھیاں چڑھ کر دیوی کے کندھوں تک پہنچا جا سکے۔ 'رحمت کی دیوی‘ کا مجسمہ ایک بچے کو گود میں لیے ہوئے ہے۔ اس دیوی کے پجاری اس عقیدے کے ساتھ اس مجسمے کی گود میں بنے بچے تک پہنچتے اور اسے چھوتے ہیں کہ حاملہ خواتین کے لیے صحت اور سلامتی سے زچگی کی دعا مانگی جائے تو کوئی بھی نومولود بچہ اس دیوی کی برکتوں کے سائے میں دنیاوی طور پر کامیابی سے پرورش پائے گا۔

جاپان میں کورونا کا اقتصادی اثر: خودکشیوں میں اضافہ

 

Japan Statue der buddhistischen Gottheit Kannon bekommt Mund-Nasen-Maske

’رحمت کی دیوی‘ کا یہ مجسمہ 55 میٹر اونچا ہے۔

فوکو شیما کے 'ہوکو کوجی آئزو‘ مندر کے منتظم تاکااومی ہوریگین نے بتایا کہ اس مندر میں موجود اس مجسمے کو رواں سال فروری میں آنے والے زلزلے سے نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد اس مجسمے کو اس کی سابقہ حالت میں لانے کے لیے ماہر کاریگروں سے مشورے کیے گئے تھے۔ اسی مشاورت کے دوران اس دیوی کو علامتی طور پر ماسک پہنانے کا سوچا گیا۔ ہوریگین نے بتایا کہ 'رحمت کی دیوی‘ کے چہرے پر پہنایا گیا ماسک اس وقت تک وہیں رہے گا، جب تک جاپان میں کورونا وائرس کی وبا مکمل طور سے ختم نہیں ہو جاتی۔کورونا وائرس: جاپانی رقاصاؤں اور طوائفوں کے روزگار کا قاتل

 

ک م / م م (روئٹرز)