جان بولٹن ’جنگ کے سوداگر‘، شمالی کوریا | حالات حاضرہ | DW | 27.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جان بولٹن ’جنگ کے سوداگر‘، شمالی کوریا

شمالی کوریا نے امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو ’جنگ کا سوداگر‘ اور ’انسانی خرابی‘ قرار دے دیا ہے۔ قبل ازیں بولٹن نے کہا تھا کہ پیونگ یانگ کے نئے میزائل تجربات اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے شمالی کوریائی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیونگ یانگ نے چھوٹے فاصلے تک مار کرنے والے ان میزائلوں کے تجربات سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ’جنگ کے سوداگر اور انسانوں کے لیے خرابی‘ ہیں۔

اس اہلکار نے مزید کہا کہ بولٹن ایک ’مغرور‘ انسان ہیں اور انہوں نے ماضی میں دیگر حکومتوں میں رہتے ہوئے بھی شمالی کوریائی کے خلاف اشعال انگیز اقدامات اٹھائے تھے۔ وزارت کے مطابق بولٹن نے شمالی کوریا میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کے علاوہ حملوں کی بھی حمایت کی تھی۔

 شمالی کوریا کی طرف سے یہ بیان بازی ایک ایسے وقت میں کی گئی، جب بولٹن نے ہفتے کے دن ہی کہا کہ شمالی کوریائی کے یہ نئے تجربات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ پیونگ یانگ ان قراردادوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ اس کمیونسٹ ملک کے مطابق یہ تجربات دفاعی نوعیت کے ہیں جبکہ امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سے عالمی امن کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جاپان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران وہ جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے کے ساتھ ملاقاتوں میں علاقائی امن اور شمالی کوریائی کی طرف سے لاحق خطرات پر بھی گفتگو کریں گے۔

امریکی صدر نے شمالی کوریا کی طرف سے ان نئے تجربات پر ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کچھ لوگ ناراض ہوئے ہیں لیکن انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ امریکا کی کوشش ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کو بند کرا دیا جائے۔

ع ب / ع ح / خبر رساں ادارے

DW.COM