تھائی لینڈ میں آتش زدگی، 17 طالبات ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 23.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تھائی لینڈ میں آتش زدگی، 17 طالبات ہلاک

شمالی تھائی لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ آج پیر تئیس مئی کے روز بچوں کے ایک سکول کے ہوسٹل میں آگ لگنے سے سترہ کم سن طالبات ہلاک ہو گئی ہیں۔ اس سکول میں پہاڑی قبائل سے تعلق رکھنے والی بچیاں زیر تعلیم تھیں۔

Thailand Brand in Schulschlafsaal

سکول میں مقامی پہاڑی قبائل سے تعلق رکھنے والی بچیاں زیر تعلیم تھیں

خیراتی فنڈز سے چلائے جانے والے اس سکول کو گذشتہ رات آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور آگ کی شدت کے باعث بچے عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

تھائی لینڈ کے شہر چیانگ رائے میں پولیس کے اہلکار کرنل پرایاد سنگسِن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہوسٹل کی عمارت میں آگ گذشتہ رات گیارہ بجے لگی جس کے نتیجے میں سترہ بچیاں ہلاک اور پانچ زخمی ہوئیں۔ کرنل سنگسِن کے مطابق زخمیوں میں سے دو بچیوں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ دو طالبات، جن کے بارے میں خدشہ تھا کہ وہ لاپتہ ہیں، کو امدادی کارکنوں نے جلے ہوئے ملبے سے نکال لیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی اور اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔

China Thailand Kinder thailändische Minderheit

بیشترمقامی پہاڑی قبائل میانمار اور چین کے پناہ گزینوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

چیانگ رائے کے ایک صوبائی عہدیدار نے اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس نجی سکول میں 6 سے 13 برس کی بچیاں رہائش پذیر تھیں۔

اتوار کی رات سکول کے ہوسٹل میں حادثے کا شکار ہونے والی زیادہ تر بچیوں کا تعلق ان مقامی پہاڑی قبائل سے تھا، جو شہری علاقوں سے بہت دور رہتے ہیں اور جن کے بچوں کے لیے روزانہ سفر کرکے سکول آنا ممکن نہیں ہوتا۔

صوبے کے نائب گورنر ارکوم سوکاپن نے اے ایف پی کو بتایا کہ حادثے کے وقت ہوسٹل میں اڑتیس طالبات رہائش پذیر تھیں۔ آگ لگنے کے وقت کچھ طالبات جو کہ اس وقت بیدار تھیں، عمارت سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔

سکول کے فیس بک کے صفحے پر جاری کی گئی تصاویر میں فائر فائٹرز کو لکڑی سے تعمیر شدہ ہاسٹل کی عمارت میں آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف دکھایا گیا ہے۔

تھائی لینڈ میں کثیر النسل پہاڑی قبائل آباد ہیں جو ذیادہ تر لاؤس اور میانمار کی سرحد سے ملحق پسماندہ شمالی علاقے میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر میانمار اور چین کے پناہ گزینوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ قبائل اپنی مخصوص بولیوں اور رسم و رواج سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی گزر بسر کے لیے کاشت کاری کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر قبائل ریاستی وسائل تک رسائی سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں ان کے بچے تعلیم، صحت اور ترقی کے شعبوں میں پسماندہ رہ جاتے ہیں۔

الگ تھلگ رہنے والے یہ قبائل سیاحوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہیں تاہم ماضی میں سیاحوں کی جانب سے وہاں کھینچی گئی تصاویر کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ ان تصاویر میں بعض سیاحوں نے ان قبائل کی منفرد ثقافت اور طرز زندگی کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے علاوہ انہیں ’انسانوں کا چڑیا گھر‘ کی طرح پیش کیا تھا۔ چیانگ رائے کا قصبہ اور اس کے اردگرد موجود پہاڑ ہائکنگ اور ایڈونچر کھیلوں کے لیے بھی غیر ملکی سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔

DW.COM

اشتہار