توبورے اوويوری: بے آواز لوگوں کے لیے آواز اٹھانے والی صحافی | حالات حاضرہ | DW | 03.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

توبورے اوويوری: بے آواز لوگوں کے لیے آواز اٹھانے والی صحافی

ڈی ڈبلیو کی جانب سے اس سال کا 'فریڈم آف اسپیچ' ایوارڈ توبورے اوويوری کو دیا گیا ہے۔ اس صحافی کی وجہ سے نائیجیریا میں  بے آوازافراد کو نمائندگی حاصل ہوئی۔ توبورے کی دلیری کے باعث وہ قتل ہونے سے بھی بال بال بچیں۔

ایک سکیورٹی کیمپ کے تاریک کمرے چیخوں سے گونج رہے ہیں۔ نوجوان خواتین توبورے  کے ہمراہ کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کر ہی ہیں۔ توبورے بظاہر خوفزدہ تھی۔ اس کا لباس خون میں لت پت تھا اور اس کی آنکھیں سر کٹی ان دو لاشوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں جن سے  بھاگتے وقت اس کی ٹانگیں ٹکرا گئی تھیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا، اسے لگا وہ بے ہوش ہو جائے گی۔

توبورے آٹھ سال پہلے اپنے ساتھ ہونے والے اس تجربے کو دھراتے ہوئے رو پڑتی ہے۔ اس وقت وہ ایک عام خاتون کا روپ دھار کر نائیجریا میں جسم فروشی میں ملوث ایک گروہ کو بے نقاب کرنے گئی تھی۔ اس کی رپورٹنگ کے باعث نائیجریا میں جسم فروشی، انسانی اسمگلنگ اور انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت کرنے والے گروہوں کا پتا چلا تھا۔

مہاجرت کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق نائیجریا سے یورپ پہنچنے والی اسی فیصد لڑکیاں جسم فروشی کے گروہوں کا شکار ہوتی ہیں۔ توبورے کی ایک قریبی دوست کو بھی اسی طرح یورپ اسمگل کیا گیا تھا اور اسی باعث اسے ایڈز کی بیماری لاحق ہو گئی۔ سن 2013 میں توبورے کا ہدف واضح تھا اور وہ جاننا چاہتی تھی کہ اس کی سہیلی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ نائیجیریا پریمیم ٹائمز نامی اخبار میں اپنے دیگر صحافی ساتھیوں کی مدد سے تینتیس سالہ صحافی اپنا روپ بدل کر نائیجریا کے سیکس ٹریفیکنگ گینگز میں شامل ہو گئی۔ سات ماہ تک اس نے اپنی شناخت بدل لی، اپنے کپڑے، میک اپ اور یہاں تک بولنے کا طریقہ بھی۔

پاکستان میں ڈیجیٹل آزادی پر ’ایک اور قدغن‘

بھارت میں آزادی رائے پر قدغن، احتجاج: ماہرین تعلیم مستعفی

 اس نے اپنے آپ کو ایک جسم فروش خاتون کے طور پر پیش کیا اور اسے پہلے لاگوس اور پھر ابوجا لے جایا گیا۔ اس دوران اسے مارا پیٹا گیا، اس کے بال کاٹے گئے اور وہ قتل ہونے سے بھی بال بال بچی۔ کچھ ماہ میں اسے پتا چلا کہ اسے اٹلی بھیجا جا رہا ہے۔ وہ اور کچھ دیگر لڑکیوں کو بنین بھیج دیا گیا۔ اس دوران توبورے اسمگل ہونے والی دو لڑکیوں کے سروں کو ان کے دھڑوں سے علیحدہ ہوتے دیکھا۔ ان کے جسمانی اعضاء کو ممکنہ طور پر غیر قانونی مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھیجا گیا۔

جب وہ کوٹونو پہنچی تو اپنے صحافی ساتھیوں کی مدد سے وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی۔      

اپنے اس کام کے حوالے اے توبورے نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،'' ہمیں اس مرحلے میں سے خود گزرنا تھا اور ایسا کیے بغیر کہانی نامکمل رہتی۔'' ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لیمبورگ کا کہنا ہے کہ توبورے کی دلیرانہ رپورٹنگ کے باعث اسے اس سال کا 'فریڈم ایوارڈ' دیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کے ذریعے ڈی ڈبلیو صحافت میں شفافیت اور ہمارے معاشروں میں بہادری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ '' پیٹر لیمبرگ نے مزید کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ ایوارڈ توبورے کے کام میں مدد کرے گا اور ان کی سکیورٹی میں بھی۔

ب ج، ع ق