1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Symbolbild Exxon Logo
تصویر: Spencer Platt/Getty Images
اقتصادیاتیورپ

توانائی کاعالمی بحران مگر تیل کمپنیوں کی چاندی

4 اگست 2022

دنیا بھر میں تیل کی پیداواری کمپنیاں رواں برس اب تک مسلسل اپنے منافع میں ریکارڈ اضافہ رپورٹ کرتی آئی ہیں۔ سیاست دانوں، ٹریڈ یونین کے عہدیداروں اور ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے اس منافع خوری پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%D8%AA%DB%8C%D9%84-%DA%A9%D9%85%D9%BE%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C/a-62706819

توانائی اور افراط زر کے عالمی بحران عالمی سطح پر صارفین کے لیے تکلیف اور غیر یقینی صورتحال کا سبب بن رہے ہیں، لیکن تاریخی طور پر اس صورتحال کا مطلب دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کے لیے اچھا کاروبار ہے۔ منگل دو اگست کو برطانوی تیل کمپنی برٹش پٹرولیم (بی پی) رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں اپنے منافع میں زبردست اضافے کا اعلان کرنے والی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی بن گئی۔ اس برطانوی کمپنی کی طرف سے گزشتہ 14 سالوں میں ظاہر کیا گیا یہ سب سے زیادہ سہ ماہی منافع  ہے۔ بی پی کا بنیادی منافع 8.5 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

امریکی توانائی کی دیو ہیکل کمپنیوں ایگزون موبل اور شیورون نے بھی حال ہی میں ریکارڈ سہ ماہی منافع کا اعلان کیا ہے۔ ایگزون نے 30 جون کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 17.9 ارب ڈالر کما کر اپنا سابقہ ریکارڈ دو ارب ڈالر اضافے کے ساتھ توڑ دیا۔ شیورون نے بھی دوسری سہ ماہی میں  11.6 ارب ڈالر کا ریکارڈ منافع کمایا۔

یورپ کی سب سے بڑی تیل کمپنی شیل نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے 11.5 ارب ڈالر کما تے ہوئے مسلسل دوسری سہ ماہی میں اپنے منافع کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

Finanzminister Christian Lindner
جرمن وزیر خزانہ کرسٹیان لنڈرتصویر: Stefan Boness/Ipon/IMAGO

ٹیکسوں کے نفاذ کا سوال

ریکارڈ منافع توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور یوکرین میں روس کی جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ہوا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک مشاورتی ادارے ریپڈ ان انرجی گروپ کے صدر باب میکنلی کا کہنا ہے کہ منافع زیادہ تر خام تیل کی قیمت کی گردش سے ہوتا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''تیل کی صنعت اپنے زیادہ تر اخراجات پیداواری اثاثوں کی تلاش اور  پیداوار کی شروعات پر خرچ کرتی ہیں۔ اس کے بعد، آپریٹنگ لاگت کافی کم ہے۔ چنانچہ جب قیمتوں میں تیزی آتی ہے تو منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ‘‘ دنیا بھر میں افراط زر میں زبردست اضافے اور تیل کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے منافع کو دیکھتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ تیل کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کیے جائیں۔

برطانوی حکومت نے مئی کے مہینے میں تیل و گیس پیدا کرنے والوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جبکہ اٹلی میں بھی اسی نوعیت کا بل پیش کیا گیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی جماعت کے ارکان کی طرف سے تیل و گیس کی پیداواری کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ البتہ جرمن وزیر خزانہ اس طرح کے ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے ٹیکس، افراط زر کو مزید ہوا دے سکتے ہیں اور معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

Großbritannien Ölmulti BP
تصویر: BEN STANSALL/AFP/Getty Images

ماحول دوست سرمایہ کاری

تیل کمپنیاں منافع پر عائد  ٹیکسوں کے سخت خلاف رہی ہیں اور اس کے بجائے وہ صنعت میں ماحول دوست سرمایہ کاری بڑھانے کی حامی ہیں۔ بی پی کے منافع کا اعلان ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اور الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں سرمایہ کاری کے وعدوں کے ساتھ کیا گیا۔ شیل کے چیف ایگزیکٹو نے بھی ٹیکسوں کے نفاذ کے متبادل کے طور پر ''گرین انویسٹمنٹ‘‘ کے حق میں بات کی۔

بحرانی حالات: خام تیل کی قیمت چار سال بعد سب سے اونچی سطح پر

تیل کی قیمتوں پر نظر

توانائی اور افراط زر کے بحران کے تناظر میں سیاست دانوں، ٹریڈ یونین کے عہدیداروں اور ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے زیادہ منافع پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ برطانیہ میں ٹریڈ یونین کانگریس کے جنرل سیکرٹری فرانسس او گریڈی کا کہنا ہے، ''یہ آنکھوں میں پانی لانے والا منافع ان لاکھوں محنت کش لوگوں کی توہین ہے جو توانائی کے بڑھتے ہوئے بلوں کی وجہ سے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔‘‘

اس سال کے اوائل میں ''گرین پیس‘‘ نے تیل کمپنیوں کی ان کے بقول ''بے شرم منافع خوری‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے پہلی سہ ماہی کے منافع کو ''غیر اخلاقی‘‘ قرار دیا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن جو خود بھی اس منافع کے ناقد ہیں، انہوں نے حال ہی میں کہا کہ ایگزون موبل جیسی کمپنیاں ''خدا سے زیادہ پیسہ‘‘کماتی ہیں۔

تاہم اس صورتحال کے با وجود ایسا لگتا ہے کہ قیمتوں میں جلد ہی کسی بھی وقت کمی نہیں ہونے والی۔

آرتھر سولیوان ( ش ر⁄ اب ا)

یوکرین جنگ سے منافع کون حاصل کر رہا ہے؟

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پاکستان کی جملہ سیاسی، معاشی صلاحیتیں استعمال کیوں نہ ہوئیں؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں