تمام یورپی کارکنوں کے لیے کم از کم اجرت کا قانون، جرمنی کا ہدف | حالات حاضرہ | DW | 12.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تمام یورپی کارکنوں کے لیے کم از کم اجرت کا قانون، جرمنی کا ہدف

یورپی یونین کے رکن کئی ممالک میں کارکنوں کے لیے کم از کم فی گھنٹہ اجرت کے قوانین تو پہلے ہی سے موجود ہیں لیکن اب جرمنی نے پوری یورپی یونین میں عام کارکنوں کے لیے کم از کم اجرت کے ایک مشترکہ قانون کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔

وفاقی جرمن وزیر محنت ہوبیرٹس ہائل کے مطابق برلن حکومت نے یورپی یونین کی سطح پر عام کارکنوں کے لیے فی گھنٹہ کم از کم قانونی اجرت کے ایک نئے قانون کی منظوری کو اپنا ہدف بنا لیا ہے، جس کے لیے جرمنی کی طرف سے اس پورے بلاک کی سطح پر بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔

Berlin Hubertus Heil stellt Rentenkonzept vor

وفاقی جرمن وزیر محنت ہوبیرٹس ہائل

اپنے اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے جرمن وزیر محنت ہائل نے کہا کہ یورپ کے اقتصادی اتحاد سے دیگر ممالک کی طرح جرمنی نے خود بھی بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن اس مثبت نتیجے کے باوجود یہ بات بھی سچ ہے کہ یونین کے رکن ممالک میں عام کارکنوں کو اپنے ممالک سے جا کر دوسری ریاستوں میں کام کر سکنے کا جو حق حاصل ہے، اسے آج بھی بہت زیادہ حد تک کارکنوں کے معاشی استحصال کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

’محنت کا منصفانہ معاوضہ‘

ہائل نے کہا، ’’اسی لیے یہ ضروری ہے کہ یونین کی رکن تمام ریاستوں میں سماجی سطح پر ایک ہی طرح کی کم از کم فی گھنٹہ اجرتوں کا ایک ایسا مشترکہ قانون نافذ کیا جائے، جو اس استحصال کا راستہ روک سکے اور یورپی کارکنوں کو، چاہے وہ کسی بھی رکن ملک میں کام کر رہے ہوں، ان کی محنت کا ہمیشہ ایسا مالی معاوضہ ملے، جو منصفانہ ہو۔‘‘

اس بارے میں جرمن اخبار ’نوئے اوسنابروکر سائٹنگ‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں جرمن وزیر محنت ہوبیرٹس ہائل نے ہفتہ بارہ جنوری کے روز کہا، ’’ہم دیگر رکن ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش کریں گے، جو یورپی کارکنوں کے لیے ان کی کم از کم فی گھنٹہ قانونی اجرتوں کا تعین کرتے اور ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ان کی خوشحال بقا کی ضمانت دے سکے۔‘‘

اگلا سال انتہائی اہم

جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک جماعت ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے اس سیاستدان نے زور دے کر کہا کہ اس حوالے سے جرمنی اپنے لیے چھ ماہ کے اس عرصے کو بنیادی اہمیت کا حامل بنائے گا، جب ہر ششماہی کے بعد بدلنے والی یورپی یونین کی صدارت اگلے برس جرمنی کے پاس آ جائے گی۔

جرمنی، جو پہلے بھی کئی بار یورپی یونین کا صدر ملک رہ چکا ہے، اگلے برس (2020ء) کی دوسری ششماہی میں ایک بار پھر اس بلاک کا صدر ملک بن جائے گا۔

اس بارے میں روزگار کے وفاقی جرمن وزیر ہائل نے کہا، ’’یورپی یونین کو مضبوط اور متحد اسی وقت رکھا جا سکتا ہے، جب ہم سماجی سطح پر بھی اس اتحاد کا عملی مظاہرہ کریں۔ اس سماجی اتحاد کی منزل صرف امن کو یقینی بنانے اور عام شہریوں اور کارکنوں کے لیے سماجی خوشحالی کی ضمانت کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘

جرمن وزیر انصاف بھی حامی

ہوبیرٹس ہائل سے قبل چانسلر میرکل کی قیادت میں موجودہ جرمن حکومت میں ہائل ہی کی جماعت کی ایک اور سیاستدان اور وفاقی وزیر انصاف کاتارینا بارلی نے بھی قریب چار ہفتے قبل یہی کہا تھا کہ یورپی یونین کی سطح پر کارکنوں کی کم از کم اجرتوں کا ایک مشترکہ قانون ہونا چاہیے۔

جرمنی میں چار برس قبل ایس پی ڈی ہی کی کوششوں کے نتیجے میں کارکنوں کے لیے کم از کم قانونی اجرتوں کا ایک قانون پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت کارکنوں کی اس سال یکم جنوری سے کم از کم فی گھنٹہ اجرت 9.19 یورو بنتی ہے، جو جنوری 2020ء سے بڑھ کر 9.35 یورو ہو جائے گی۔

بارہ یور فی گھنٹہ‌

اس کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اولاف شولس کی ایک تجویز تو یہ بھی ہے کہ جرمنی میں اس وقت 9.19 یورو فی گھنٹہ کی کم از کم قانونی اجرت کو بڑھا کر 12 یورو فی گھنٹہ کر دیا جائے اور پھر اس میں اگلے سال یکم جنوری سے اسی شرح سے مزید اضافہ کر دیا جائے۔

م م / ا ا / ڈی پی اے، اے ایف پی

DW.COM