تمام مطالبات اور شواہد ثالثوں کے حوالے کر دیے، پاکستان
وقت اشاعت 7 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 7 نومبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- شام میں رواں سال 100 کے قریب افراد اغوا یا لاپتا، اقوام متحدہ
- امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ
- یورپی یونین کا روسی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں سختی کا اعلان
- تمام مطالبات اور شواہد ثالثوں کے حوالے کر دیے، پاکستان
- ترکی: فٹبال میں سٹے بازی کا اسکینڈل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری
- بلغاریہ میں تارکین وطن کی کار پولیس سے بھاگتے ہوئے حادثے کا شکار، چھ ہلاک
- امارات کا غزہ کے لیے امداد میں اضافہ، قبرص سے سمندری راستہ اہم قرار
- چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ نیوی کے سپرد
- فلپائن کے بعد سمندری طوفان ’کالمیگی‘ نے ویتنام میں تباہی مچا دی، پانچ ہلاک
شام میں رواں سال 100 کے قریب افراد اغوا یا لاپتا، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ شام میں رواں سال کے آغاز سے اب تک کم از کم 97 افراد کے اغوا یا لاپتہ ہونے کے واقعات درج کیے گئے ہیں، جبکہجبری گمشدگیوں کی نئی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔
او ایچ سی ایچ آر کے ترجمان ثمین الکیتان نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، ’’سابقہ حکومت کے خاتمے کو 11 ماہ گزرنے کے باوجود درجنوں اغوا اور جبری گمشدگیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔‘‘
یہ تعداد ان ایک لاکھ سے زائد افراد کے علاوہ ہے، جو معزول صدر بشارالاسد کے دورِ حکومت میں لاپتا ہوئے تھے۔ الکیتان نے بتایا کہ درست اعداد و شمار جاننا مشکل ہے۔ اسد کی حکومت گزشتہ سال اسلامی عسکریت پسند گروہ ’’حیات تحریر الشام‘‘ کے ہاتھوں 13 سالہ خانہ جنگی کے اختتام پر صرف 11 روزہ کارروائی میں گر گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے مطابق کچھ خاندان اپنے پیاروں سے دوبارہ مل گئے ہیں، لیکن بیشتر تاحال اپنے لاپتا رشتہ داروں کے انجام سے لاعلم ہیں۔
او ایچ سی ایچ آر نے کہا کہ شام کی غیر مستحکم سلامتی کی صورت حال، خاص طور پر ساحلی علاقوں اور جنوبی شہر سویدہ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد، لاپتا افراد کی تلاش کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ خوف کے باعث بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
الکیتان کے مطابق کچھ افراد نے اقوام متحدہ سے بات کرنے پر دھمکیاں ملنے کی شکایات بھی کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ادارہ شامی سول ڈیفنس کے رضاکار حمزہ الامرین کی گمشدگی کے معاملے کو بھی اٹھا چکا ہے، جو 16 جولائی کو سویدہ میں انسانی ہمدردی کی سرگرمی کے دوران لاپتا ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ نے بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔
مئی میں شامی صدراتی دفتر نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق کمشنز قائم کیے جائیں گے جو اسد خاندان کے دورِ حکومت میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات کریں گے۔
امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے غیر معمولی فیصلے کے تحت ملک بھر میں فضائی پروازوں میں کمی کا نفاذ جمعے سے شروع ہوگیا، جس کے بعد مسافروں کو اپنے سفری منصوبے بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
یہ فیصلہ امریکا میں جاری تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے اثرات کے باعث کیا گیا ہے، جس نے اس وقت بغیر تنخواہ کام کرنے والے ایئر ٹریفک کنٹرولرز پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ایف اے اے کے مطابق، ملک کی 40 ائیرپورٹس پر پروازوں میں چار فیصد کمی سے آغاز کیا گیا ہے جو 14 نومبر تک بتدریج 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ یہ کمی صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک تمام کمرشل پروازوں پر لاگو ہوگی۔
ائیرلائنز نے جمعرات ہی سے اپنے شیڈول میں تبدیلیاں شروع کر دی تھیں اور متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ ڈیلٹا ائیر لائنز نے 170 اور امریکن ائیر لائنز نے پیر تک روزانہ 220 پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایف اے اے نے کہا کہ یہ قدم کنٹرولرز پر دباؤ کم کرنے کے لیے ضروری ہے، جو کئی ہفتوں سے چھ روزہ کام اور جبری اوور ٹائم پر مجبور ہیں۔ مالی مشکلات اور تھکن کے باعث کئی اہلکاروں نے غیر حاضریاں شروع کر دی ہیں۔
ایئرلائنز نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مسافروں پر اثرات کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں گی، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کٹوتیوں سے پورے امریکی فضائی نظام پر نمایاں اثر پڑے گا۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق جمعے تک 815 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی تھیں۔
یورپی یونین کا روسی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں سختی کا اعلان
یورپی یونین نے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے روسی شہریوں کےملٹی پل انٹری یعنی متعدد بار داخلے کی اجازت والے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین میں جاری جنگ اور ماسکو کےخلاف پابندیوں کے سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’اب سے روسی شہریوں کو ملٹی انٹری ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے، یعنی انہیں یورپی یونین کے ہر نئے سفر کے لیے نیا ویزا حاصل کرنا ہوگا۔‘‘
روس کے خلاف یورپی یونین کی یہ تازہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلاک نے ماسکو کے خلاف درجنوں مالی، تجارتی اور سفری اقدامات پہلے ہی نافذ کر رکھے ہیں۔
یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپی ممالک نے روسی سرمایہ کاروں، سیاست دانوں اور سرکاری اہلکاروں پر بھی وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے باوجود مذاکرات جاری
پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی کے تازہ واقعہ کے باجود دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے مابین استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے آج سات اکتوبر بروز جمعہ ہفتہ واری میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستانی وفد نے افغانستان کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں اپنے مطالبات شواہد اور منطق کی بنیاد پر پیش کیے ہیں۔
اندرا بی نے بتایا، ’’پاکستانی وفد نے اپنا شواہد پر مبنی، جائز اور منطقی مطالبات ثالثوں کے حوالے کیے ہیں، جن کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے پاکستانی موقف کو فراہم کردہ شواہد اور بین الاقوامی قانون و اصولوں کی بنیاد پر مکمل طور پر تسلیم کیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا، ’’اب ثالث پاکستانی مطالبات پر افغان وفد کے ساتھ نکات وار بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ مذاکرات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جمعرات کی شب ہونے والی فائرنگ میں چار افغان شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
سرحدی کشیدگی برقرار
افغان حکام کے مطابق فائرنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے ہوا لیکن افغان فورسز نے مذاکرات کے پیشِ نظر جوابی کارروائی نہیں کی۔ افغان صوبے اسپن بولدک کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ علی محمد حقمل نے کہا، ’’پاکستان نے بلااشتعال فائرنگ کی، تاہم ہم نے امن مذاکرات کے احترام میں تحمل کا مظاہرہ کیا۔‘‘
اسلام آباد میں پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے افغان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’فائرنگ کا آغاز افغانستان کی طرف سے کیا گیا تھا،‘‘ تاہم ترجمان کے بقول بعد ازاں صورتحال قابو میں آ گئی۔
گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان مہلک جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد قطر کی ثالثی میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی طے پائی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان استنبول میں مذاکرات کےتین دور ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن کی ذمے داری اکثر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جا چکی ہے۔
ترکی: فٹبال میں سٹے بازی کا اسکینڈل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری
ترکی میں فٹبال میچوں پر سٹے بازی کے اسکینڈل کے سلسلے میں 21 افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جن میں 17 ریفری بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے استنبول کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے جمعے کو پلیٹ فارم ایکس پر تفصیلات جاری کیں۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ایوب اسپورٹس کلب کے صدر مرات اوزکایا کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کا مقصد اختیارات کے غلط استعمال اور میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
گزشتہ ماہ ترک فٹبال فیڈریشن (ٹی ایف ایف) نے انکشاف کیا تھا کہ 152 میچ آفیشلز نے خود سٹے بازی میں حصہ لیا۔ اس کے بعد کلبوں اور کھلاڑیوں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ٹی ایف ایف نے اب تک 149 ریفریوں اور ان کے معاونین کو آٹھ سے بارہ ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔
بلغاریہ میں تارکین وطن کی کار پولیس سے بھاگتے ہوئے حادثے کا شکار، چھ ہلاک
بلغاریہ کے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر برگاس کے قریب پولیس تعاقب کے دوران ایک کار کے حادثے میں چھ تارکین وطن ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ یہ بات جمعے کو بلغارین نیوز ایجنسی (بی ٹی اے) نے بتائی۔
رپورٹ کے مطابق رومانیہ میں رجسٹرڈ ایک کار میں دس افراد سوار تھے، جو جمعرات کی رات پولیس کے چیک پوائنٹ پر رکنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہو گئی۔ بارڈر پولیس کے چیف کمشنر انتون زلاتانوف نے بتایا کہ حادثے میں چھ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ رومانیہ نژاد ڈرائیور اور تین زخمی تارکین وطن کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ بی ٹی اے کے مطابق زندہ بچ جانے والے افراد کا تعلق افغانستان سے ہے۔
2015 سے بالکان ممالک مشرق وسطیٰ، افغانستان، ایشیا اور افریقہ سے یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے اہم گزرگاہ بن چکے ہیں، جو عموماً اسمگلروں کے نیٹ ورکس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔
رومانیہ کے حکام نے تاحال حادثے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔
امارات کا غزہ کے لیے امداد میں اضافہ، قبرص سے سمندری راستہ اہم قرار
متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے امداد کی ترسیل میں اضافے کی تیاری کر رہا ہے اور کہا ہے کہ قبرص سے سمندری راستہ زمینی اور فضائی راستوں کے ساتھ انتہائی ضروری ہے۔
اماراتی وزیرِ مملکت لانا نصیبہ نے جمعے کو کہا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں واقع جزیرہ قبرص سے پہلے سے جانچی گئی امداد بھیجنے کا بحری راستہ غزہ کے عوام کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امارات اور قبرص نے جنگ زدہ فلسطینی علاقے کے لیے بڑی مقدار میں امداد کی فراہمی میں شراکت قائم کر رکھی ہے۔
انہوں نے قبرص کے بندرگاہ لیماسول پر جمع امدادی سامان کا معائنہ کرتے ہوئے کہا، ’’غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے متعدد راستوں کا برقرار رہنا انتہائی اہم ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے منصوبہ آگے بڑھتا ہے، زمین، فضا اور سمندر کے ذریعے رسائی برقرار رکھنا اہم رہے گا۔
تقریباً ایک ماہ قبل اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت دو سال سے جاری غزہ کی تباہ کن جنگ میں وقفہ اور اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا۔
تاہم انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امداد کی مقدار انتہائی ناکافی ہے۔
نصیبہ کے مطابق 22 ہزار ٹن سے زائد جانچی گئی امداد قبرص سے بھیجی جا چکی ہے، جو ’’املتیا انیشی ایٹو‘‘ کے تحت گزشتہ سال شروع کی گئی تھی۔ اس میں سے کچھ امداد امریکہ کے عارضی عائمہ پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست غزہ پہنچی، جبکہ کچھ اسرائیل کی بندرگاہ اشدود کے ذریعے منتقل کی گئی۔
چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ نیوی کے سپرد
چین نے اپنا تیسرا اور اب تک کا سب سے جدید طیارہ بردار بحری جہاز ’’فوجیان‘‘ باضابطہ طور پر بحریہ کے حوالے کر دیا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ تقریب صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں منگل کو چین کے جنوبی جزیرہ نما صوبے ہینان میں ایک بحری اڈے پر منعقد ہوئی۔
’’فوجیان‘‘ کی کمیشننگ صدر شی کی اس مہم میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد چین کی فوجی طاقت کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور بحری اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے، خصوصاً بحیرہ جنوبی چین میں متنازع علاقائی دعووں اور تائیوان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں۔
چین بحیرہ جنوبی چین میں امریکہ کے ساتھ بحری برتری کی دوڑ میں شامل ہے، اور اگرچہ ماہرین کے مطابق وہ فوجی طاقت کے لحاظ سے واشنگٹن سے پیچھے ہے، مگر بیجنگ نے حالیہ برسوں میں دفاعی بجٹ میں اربوں ڈالر جھونک کر خطے کے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
چینی بحریہ میں تیزی سے توسیع کی جا رہی ہے تاکہ وہ بحرالکاہل میں اپنی موجودگی بڑھا سکے اور امریکی قیادت والے اتحادوں کو چیلنج دے سکے۔
گزشتہ مہینوں میں کامیاب سمندری آزمائشوں کے بعد “فوجیان” اب چین کے دیگر دو طیارہ بردار جہازوں ’’لیاوننگ‘‘ اور’’شینڈونگ‘‘ کے ساتھ فعال آپریشنل سروس میں شامل ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ’’فوجیان‘‘ میں نصب جدید ٹیک آف سسٹم چین کو ایسے لڑاکا طیارے تعینات کرنے کے قابل بنائے گا جو زیادہ ہتھیار اور ایندھن لے کر پرواز کر سکیں۔
سمندری طوفان ’کالمیگی‘ نے ویتنام میں تباہی مچا دی، پانچ ہلاک
طاقتور سمندری طوفان کالمیگی نے جمعے کو ویتنام کے وسطی علاقوں میں تباہ کن ہوائیں اور طوفانی بارشیں برسائیں، جس سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد صوبوں میں شدید تباہی پھیل گئی۔ چند روز قبل یہی طوفان فلپائن میں بھی قیامت خیز تباہی مچا چکا ہے، جہاں درجنوں افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے تھے۔
سیلابی پانی اترنے کے بعد متاثرہ قصبوں اور صنعتی علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ مقامی حکام اور شہری ملبہ صاف کرنے اور گھروں کی چھتوں کی مرمت میں مصروف ہیں۔
ریاستی میڈیا کے مطابق طوفان میں 52 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور تقریباً 2,600 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 2,400 سے زائد جیا لائی کے علاقے میں ہیں۔ اس دوران بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا اور 16 لاکھ سے زائد گھروں میں بجلی بند ہو گئی۔
دوسری جانب فلپائن میں، جہاں کالمیگی نے رواں ہفتے کے آغاز میں تباہی مچا دی تھی، صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے جمعرات کو قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ مخلتف جزیروں پر مشتمل یہ ملک اب ایک اور خطرناک طوفان، فنگ وونگ (مقامی نام ’اوان‘) کے لیے تیاری کر رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق فنگ وونگ کا قطر 1,400 کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے اور امکان ہے کہ وہ اتوار کی رات یا پیر کی صبح شمالی آرورا صوبے سے ٹکرائے، جس سے دارالحکومت منیلا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
فلپائن میں شہری دفاع کے دفتر کے مطابق کالمیگی کے باعث کم از کم 188 افراد ہلاک اور 135 لاپتا ہیں۔ طوفان نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا، جن میں سے چار لاکھ پچاس ہزار کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ تین لاکھ اٹھارہ ہزار تاحال وہیں مقیم ہیں۔
ادارت: عاطف توقیر