1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولعالمی

تمام مطالبات اور شواہد ثالثوں کے حوالے کر دیے، پاکستان

شکور رحیم اے پی، ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز
وقت اشاعت 7 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 7 نومبر 2025

استنبول میں مذاکرات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں، جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جمعرات کی شب ہونے والی فائرنگ میں چار افغان شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

https://p.dw.com/p/53FL5
استنبول میں جاری مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں
استنبول میں جاری مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • شام میں رواں سال 100 کے قریب افراد اغوا یا لاپتا، اقوام متحدہ
  • امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ
  • یورپی یونین کا روسی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں سختی کا اعلان
  • تمام مطالبات اور شواہد ثالثوں کے حوالے کر دیے، پاکستان
  • ترکی: فٹبال میں سٹے بازی کا اسکینڈل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری
  • بلغاریہ میں تارکین وطن کی کار پولیس سے بھاگتے ہوئے حادثے کا شکار، چھ ہلاک
  • امارات کا غزہ کے لیے امداد میں اضافہ، قبرص سے سمندری راستہ اہم قرار
  • چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ نیوی کے سپرد
  • فلپائن کے بعد سمندری طوفان ’کالمیگی‘ نے ویتنام میں تباہی مچا دی، پانچ ہلاک
شام میں رواں سال 100 کے قریب افراد اغوا یا لاپتا، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

شام میں رواں سال 100 کے قریب افراد اغوا یا لاپتا، اقوام متحدہ

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق شام کی غیر مستحکم سلامتی کی صورت حال، خاص طور پر ساحلی علاقوں اور جنوبی شہر سویدہ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد،  لاپتا افراد کی تلاش کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق شام کی غیر مستحکم سلامتی کی صورت حال، خاص طور پر ساحلی علاقوں اور جنوبی شہر سویدہ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد،  لاپتا افراد کی تلاش کو انتہائی مشکل بنا رہی ہےتصویر: Stringer/Getty Images

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ شام میں رواں سال کے آغاز سے اب تک کم از کم 97 افراد کے اغوا یا لاپتہ ہونے کے واقعات درج کیے گئے ہیں، جبکہجبری گمشدگیوں کی نئی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔

او ایچ سی ایچ آر کے ترجمان ثمین الکیتان نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، ’’سابقہ حکومت کے خاتمے کو 11 ماہ گزرنے کے باوجود درجنوں اغوا اور جبری گمشدگیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔‘‘

شامی صدر احمد الشرع
شامی صدر احمد الشرع تصویر: Bashir Daher/IMAGO

یہ تعداد ان ایک لاکھ سے زائد افراد کے علاوہ ہے، جو معزول صدر بشارالاسد کے دورِ حکومت میں لاپتا ہوئے تھے۔ الکیتان نے بتایا کہ درست اعداد و شمار جاننا مشکل ہے۔ اسد کی حکومت گزشتہ سال اسلامی عسکریت پسند گروہ ’’حیات تحریر الشام‘‘ کے ہاتھوں 13 سالہ خانہ جنگی کے اختتام پر صرف 11 روزہ کارروائی میں گر گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق کچھ خاندان اپنے پیاروں سے دوبارہ مل گئے ہیں، لیکن بیشتر تاحال اپنے لاپتا رشتہ داروں کے انجام سے لاعلم ہیں۔

او ایچ سی ایچ آر نے کہا کہ شام کی غیر مستحکم سلامتی کی صورت حال، خاص طور پر ساحلی علاقوں اور جنوبی شہر سویدہ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد،  لاپتا افراد کی تلاش کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ خوف کے باعث بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

الکیتان کے مطابق کچھ افراد نے اقوام متحدہ سے بات کرنے پر دھمکیاں ملنے کی شکایات بھی کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ادارہ شامی سول ڈیفنس کے رضاکار حمزہ الامرین کی گمشدگی کے معاملے کو بھی اٹھا چکا ہے، جو 16 جولائی کو سویدہ میں انسانی ہمدردی کی سرگرمی کے دوران لاپتا ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ نے بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔
مئی میں شامی صدراتی دفتر نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق کمشنز قائم کیے جائیں گے جو اسد خاندان کے دورِ حکومت میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات کریں گے۔

https://p.dw.com/p/53HOm
امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ

فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق جمعے تک 815 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی تھیں
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق جمعے تک 815 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی تھیںتصویر: Elijah Nouvelage/REUTERS

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے غیر معمولی فیصلے کے تحت ملک بھر میں فضائی پروازوں میں کمی کا نفاذ جمعے سے شروع ہوگیا، جس کے بعد مسافروں کو اپنے سفری منصوبے بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

یہ فیصلہ امریکا میں جاری تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن کے اثرات کے باعث کیا گیا ہے، جس نے اس وقت بغیر تنخواہ کام کرنے والے ایئر ٹریفک کنٹرولرز پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

ملک کی 40 ائیرپورٹس پر پروازوں میں چار فیصد کمی سے آغاز کیا گیا ہے جو 14 نومبر تک بتدریج 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی
ملک کی 40 ائیرپورٹس پر پروازوں میں چار فیصد کمی سے آغاز کیا گیا ہے جو 14 نومبر تک بتدریج 10 فیصد تک بڑھائی جائے گیتصویر: Elijah Nouvelage/REUTERS

ایف اے اے کے مطابق، ملک کی 40 ائیرپورٹس پر پروازوں میں چار فیصد کمی سے آغاز کیا گیا ہے جو 14 نومبر تک بتدریج 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ یہ کمی صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک تمام کمرشل پروازوں پر لاگو ہوگی۔

ائیرلائنز نے جمعرات ہی سے اپنے شیڈول میں تبدیلیاں شروع کر دی تھیں اور متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔ ڈیلٹا ائیر لائنز نے 170 اور امریکن ائیر لائنز نے پیر تک روزانہ 220 پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایف اے اے نے کہا کہ یہ قدم کنٹرولرز پر دباؤ کم کرنے کے لیے ضروری ہے، جو کئی ہفتوں سے چھ روزہ کام اور جبری اوور ٹائم پر مجبور ہیں۔ مالی مشکلات اور تھکن کے باعث کئی اہلکاروں نے غیر حاضریاں شروع کر دی ہیں۔

ایئرلائنز نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مسافروں پر اثرات کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں گی، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان کٹوتیوں سے پورے امریکی فضائی نظام پر نمایاں اثر پڑے گا۔

فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق جمعے تک 815 سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی تھیں۔
 

https://p.dw.com/p/53HOy
یورپی یونین کا روسی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں سختی کا اعلان سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

یورپی یونین کا روسی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں سختی کا اعلان

یورپی یونین کی جانب سے روسی شہریوں کے لیے ویزوں میں سختی کا اقدام یوکرین میں جاری جنگ اور ماسکو کےخلاف پابندیوں کے سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے
یورپی یونین کی جانب سے روسی شہریوں کے لیے ویزوں میں سختی کا اقدام یوکرین میں جاری جنگ اور ماسکو کےخلاف پابندیوں کے سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے تصویر: Thomas Koehler/photothek/picture alliance

یورپی یونین نے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے روسی شہریوں کےملٹی پل انٹری یعنی متعدد بار داخلے کی اجازت والے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین میں جاری جنگ اور ماسکو کےخلاف پابندیوں کے سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’اب سے روسی شہریوں کو ملٹی انٹری ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے، یعنی انہیں یورپی یونین کے ہر نئے سفر کے لیے نیا ویزا حاصل کرنا ہوگا۔‘‘

روس کے خلاف یورپی یونین کی یہ تازہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلاک نے ماسکو کے خلاف درجنوں مالی، تجارتی اور سفری اقدامات پہلے ہی نافذ کر رکھے ہیں۔
یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپی ممالک نے روسی سرمایہ کاروں، سیاست دانوں اور سرکاری اہلکاروں پر بھی وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔


منجمد روسی اثاثے، یورپی کمیشن یوکرین کو کیسے دے گا؟

https://p.dw.com/p/53H05
پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے باوجود مذاکرات جاری سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

پاکستان اور افغانستان کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے باوجود مذاکرات جاری

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امن مذاکرات کے سبب پاکستانی کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کا جواب نہیں دیا
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امن مذاکرات کے سبب پاکستانی کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کا جواب نہیں دیاتصویر: AFP

پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی کے تازہ واقعہ کے باجود دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں کے مابین استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے آج سات اکتوبر بروز جمعہ  ہفتہ واری میڈیا بریفنگ میں کہا  کہ پاکستانی وفد نے افغانستان کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں اپنے مطالبات شواہد اور منطق کی بنیاد پر پیش کیے ہیں۔

اندرا بی نے بتایا، ’’پاکستانی وفد نے اپنا شواہد پر مبنی، جائز اور منطقی مطالبات ثالثوں کے حوالے کیے ہیں، جن کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے پاکستانی موقف کو فراہم کردہ شواہد اور بین الاقوامی قانون و اصولوں کی بنیاد پر مکمل طور پر تسلیم کیا ہے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب تاجروں کو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب تاجروں کو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےتصویر: Fayaz Aziz/REUTERS

ترجمان نے مزید کہا، ’’اب ثالث پاکستانی مطالبات پر افغان وفد کے ساتھ نکات وار بات چیت کر رہے ہیں۔‘‘
یہ مذاکرات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جمعرات کی شب ہونے والی فائرنگ میں چار افغان شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
سرحدی کشیدگی برقرار
افغان حکام کے مطابق فائرنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے ہوا لیکن افغان فورسز نے مذاکرات کے پیشِ نظر جوابی کارروائی نہیں کی۔ افغان صوبے اسپن بولدک کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ علی محمد حقمل نے کہا، ’’پاکستان نے بلااشتعال فائرنگ کی، تاہم ہم نے امن مذاکرات کے احترام میں تحمل کا مظاہرہ کیا۔‘‘
اسلام آباد میں پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے افغان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا،  ’’فائرنگ کا آغاز افغانستان کی طرف سے کیا گیا تھا،‘‘ تاہم ترجمان کے بقول بعد ازاں صورتحال قابو میں آ گئی۔
گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان مہلک جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد قطر کی ثالثی میں 19 اکتوبر کو جنگ بندی طے پائی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان استنبول میں مذاکرات کےتین دور ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ مہینوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن کی ذمے داری اکثر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔ یہ تنظیم اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جا چکی ہے۔

پاک افغان تنازعات سے عوام سخت پریشان

https://p.dw.com/p/53HKT
ترکی: فٹبال میں سٹے بازی کا اسکینڈل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

ترکی: فٹبال میں سٹے بازی کا اسکینڈل، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری

گزشتہ ماہ ترک فٹبال فیڈریشن (ٹی ایف ایف) نے انکشاف کیا تھا کہ 152 میچ آفیشلز نے خود سٹے بازی میں حصہ لیا
گزشتہ ماہ ترک فٹبال فیڈریشن (ٹی ایف ایف) نے انکشاف کیا تھا کہ 152 میچ آفیشلز نے خود سٹے بازی میں حصہ لیاتصویر: Dilara Senkaya/REUTERS

ترکی میں فٹبال میچوں پر سٹے بازی کے اسکینڈل کے سلسلے میں 21 افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جن میں 17 ریفری بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے استنبول کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے جمعے کو پلیٹ فارم ایکس پر  تفصیلات جاری کیں۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق ایوب اسپورٹس کلب کے صدر مرات اوزکایا کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کا مقصد اختیارات کے غلط استعمال اور میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات ہے۔

ترکی میں فٹبال کا جنون کی حد تک شوق پایا جاتا ہے اور متعدد مقامی کلب عالمی سطح کے کھلاڑیوں کے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی لیگ میچوں میں حصہ لیتے ہیں
ترکی میں فٹبال کا جنون کی حد تک شوق پایا جاتا ہے اور متعدد مقامی کلب عالمی سطح کے کھلاڑیوں کے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی لیگ میچوں میں حصہ لیتے ہیںتصویر: Liesa Johannssen/REUTERS

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ماہ ترک فٹبال فیڈریشن (ٹی ایف ایف) نے انکشاف کیا تھا کہ 152 میچ آفیشلز نے خود سٹے بازی میں حصہ لیا۔ اس کے بعد کلبوں اور کھلاڑیوں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ٹی ایف ایف نے اب تک 149 ریفریوں اور ان کے معاونین کو آٹھ سے بارہ ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/53Gxf
بلغاریہ میں تارکین وطن کی کار پولیس سے بھاگتے ہوئے حادثے کا شکار، چھ ہلاک سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

بلغاریہ میں تارکین وطن کی کار پولیس سے بھاگتے ہوئے حادثے کا شکار، چھ ہلاک

اطلاعات کے مطابق تارکین وطن کی کار  پولیس کے چیک پوائنٹ پر رکنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش میں  حادثے کا شکار ہوئی (فائل فوٹو)
اطلاعات کے مطابق تارکین وطن کی کار پولیس کے چیک پوائنٹ پر رکنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہوئی (فائل فوٹو)تصویر: Georgi Paleykov/NurPhoto/IMAGO

بلغاریہ کے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر برگاس کے قریب پولیس تعاقب کے دوران ایک کار کے حادثے میں چھ تارکین وطن ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ یہ بات جمعے کو بلغارین نیوز ایجنسی (بی ٹی اے) نے بتائی۔

رپورٹ کے مطابق رومانیہ میں رجسٹرڈ ایک کار میں دس افراد سوار تھے، جو جمعرات کی رات پولیس کے چیک پوائنٹ پر رکنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہو گئی۔ بارڈر پولیس کے چیف کمشنر انتون زلاتانوف نے بتایا کہ حادثے میں چھ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ رومانیہ نژاد ڈرائیور اور تین زخمی تارکین وطن کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ بی ٹی اے کے مطابق زندہ بچ جانے والے افراد کا تعلق افغانستان سے ہے۔

بلغاریہ مشرق وسطیٰ، افغانستان، ایشیا اور افریقہ سے یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی ایک اہم گزرگاہ ہے
بلغاریہ مشرق وسطیٰ، افغانستان، ایشیا اور افریقہ سے یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی ایک اہم گزرگاہ ہےتصویر: Georgi Paleykov/NurPhoto/IMAGO

2015 سے بالکان ممالک مشرق وسطیٰ، افغانستان، ایشیا اور افریقہ سے یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے اہم گزرگاہ بن چکے ہیں، جو عموماً اسمگلروں کے نیٹ ورکس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

رومانیہ کے حکام نے تاحال حادثے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔
 

https://p.dw.com/p/53FWX
امارات کا غزہ کے لیے امداد میں اضافہ، قبرص سے سمندری راستہ اہم قرار سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

امارات کا غزہ کے لیے امداد میں اضافہ، قبرص سے سمندری راستہ اہم قرار

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود  کھانے پینے کی اور دیگر ضروری اشیا کی اشد قلت ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود کھانے پینے کی اور دیگر ضروری اشیا کی اشد قلت ہےتصویر: Mohammed Arafat/AP Photo/picture alliance

متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے امداد کی ترسیل میں اضافے کی تیاری کر رہا ہے اور کہا ہے کہ قبرص سے سمندری راستہ زمینی اور فضائی راستوں کے ساتھ انتہائی ضروری ہے۔
اماراتی وزیرِ مملکت لانا نصیبہ نے جمعے کو کہا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں واقع جزیرہ قبرص سے پہلے سے جانچی گئی امداد بھیجنے کا بحری راستہ غزہ کے عوام کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امارات اور قبرص نے جنگ زدہ فلسطینی علاقے کے لیے بڑی مقدار میں امداد کی فراہمی میں شراکت قائم کر رکھی ہے۔

انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امداد کی مقدار انتہائی ناکافی ہے
انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امداد کی مقدار انتہائی ناکافی ہےتصویر: Mahmoud Issa/REUTERS


انہوں نے قبرص کے بندرگاہ لیماسول پر جمع امدادی سامان کا معائنہ کرتے ہوئے کہا، ’’غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے متعدد راستوں کا برقرار رہنا انتہائی اہم ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے منصوبہ آگے بڑھتا ہے، زمین، فضا اور سمندر کے ذریعے رسائی برقرار رکھنا اہم رہے گا۔
تقریباً ایک ماہ قبل اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت دو سال سے جاری غزہ کی تباہ کن جنگ میں وقفہ اور اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا۔
تاہم انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امداد کی مقدار انتہائی ناکافی ہے۔
نصیبہ کے مطابق 22 ہزار ٹن سے زائد جانچی گئی امداد قبرص سے بھیجی جا چکی ہے، جو ’’املتیا انیشی ایٹو‘‘ کے تحت گزشتہ سال شروع کی گئی تھی۔ اس میں سے کچھ امداد امریکہ کے عارضی عائمہ پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست غزہ پہنچی، جبکہ کچھ اسرائیل کی بندرگاہ اشدود کے ذریعے منتقل کی گئی۔
 

غزہ جنگ بندی کے بعد بھی امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار

https://p.dw.com/p/53GTX
چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ نیوی کے سپرد سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ نیوی کے سپرد

 چین کا سب سے جدید طیارہ بردار بحری جہاز ’’فوجیان‘‘ باضابطہ طور پر بحریہ کے حوالے کر دیا گیا ہے
چین کا سب سے جدید طیارہ بردار بحری جہاز ’’فوجیان‘‘ باضابطہ طور پر بحریہ کے حوالے کر دیا گیا ہے تصویر: Ding Ziyu/Xinhua/IMAGO

چین نے اپنا تیسرا اور اب تک کا سب سے جدید طیارہ بردار بحری جہاز ’’فوجیان‘‘ باضابطہ طور پر بحریہ کے حوالے کر دیا ہے۔  چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ تقریب صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں منگل کو چین کے جنوبی جزیرہ نما صوبے ہینان میں ایک بحری اڈے پر منعقد ہوئی۔

 ’’فوجیان‘‘ کی کمیشننگ صدر شی کی اس مہم میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد چین کی فوجی طاقت کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور بحری اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے، خصوصاً بحیرہ جنوبی چین میں متنازع علاقائی دعووں اور تائیوان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں۔
چین بحیرہ جنوبی چین میں امریکہ کے ساتھ بحری برتری کی دوڑ میں شامل ہے، اور اگرچہ ماہرین کے مطابق وہ فوجی طاقت کے لحاظ سے واشنگٹن سے پیچھے ہے، مگر بیجنگ نے حالیہ برسوں میں دفاعی بجٹ میں اربوں ڈالر جھونک کر خطے کے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

فوجیان کی  چینی بحریہ میں شمولیت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے
فوجیان کی چینی بحریہ میں شمولیت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہےتصویر: Li Tang/Xinhua/IMAGO

چینی بحریہ میں تیزی سے توسیع کی جا رہی ہے تاکہ وہ بحرالکاہل میں اپنی موجودگی بڑھا سکے اور امریکی قیادت والے اتحادوں کو چیلنج دے سکے۔

گزشتہ مہینوں میں کامیاب سمندری آزمائشوں کے بعد “فوجیان” اب چین کے دیگر دو طیارہ بردار جہازوں ’’لیاوننگ‘‘ اور’’شینڈونگ‘‘ کے ساتھ فعال آپریشنل سروس میں شامل ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق  ’’فوجیان‘‘ میں نصب جدید ٹیک آف سسٹم چین کو ایسے لڑاکا طیارے تعینات کرنے کے قابل بنائے گا جو زیادہ ہتھیار اور ایندھن لے کر پرواز کر سکیں۔
 

https://p.dw.com/p/53FNa
سمندری طوفان ’کالمیگی‘ نے ویتنام میں تباہی مچا دی، پانچ ہلاک سیکشن پر جائیں
7 نومبر 2025

سمندری طوفان ’کالمیگی‘ نے ویتنام میں تباہی مچا دی، پانچ ہلاک

ریاستی میڈیا کے مطابق طوفان میں 52 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور تقریباً 2,600 گھروں کو نقصان پہنچا
ریاستی میڈیا کے مطابق طوفان میں 52 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور تقریباً 2,600 گھروں کو نقصان پہنچاتصویر: Nhac Nguyen/AFP

طاقتور سمندری طوفان کالمیگی نے جمعے کو ویتنام کے وسطی علاقوں میں تباہ کن ہوائیں اور طوفانی بارشیں برسائیں، جس سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد صوبوں میں شدید تباہی پھیل گئی۔ چند روز قبل یہی طوفان فلپائن میں بھی قیامت خیز تباہی مچا چکا ہے، جہاں درجنوں افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے تھے۔

سیلابی پانی اترنے کے بعد متاثرہ قصبوں اور صنعتی علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ مقامی حکام اور شہری ملبہ صاف کرنے اور گھروں کی چھتوں کی مرمت میں مصروف ہیں۔

ریاستی میڈیا کے مطابق طوفان میں 52 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے اور تقریباً 2,600 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 2,400 سے زائد جیا لائی کے علاقے میں ہیں۔ اس دوران بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا اور 16 لاکھ سے زائد گھروں میں بجلی بند ہو گئی۔

سیلابی پانی اترنے کے بعد متاثرہ قصبوں اور صنعتی علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کا کام شروع ہو گیا ہے
سیلابی پانی اترنے کے بعد متاثرہ قصبوں اور صنعتی علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کا کام شروع ہو گیا ہےتصویر: Thanh Hue/Getty Images

دوسری جانب فلپائن میں، جہاں کالمیگی نے رواں ہفتے کے آغاز میں تباہی مچا دی تھی، صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے جمعرات کو قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ مخلتف جزیروں پر مشتمل یہ ملک اب ایک اور خطرناک طوفان، فنگ وونگ (مقامی نام ’اوان‘) کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق فنگ وونگ کا قطر 1,400 کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے اور امکان ہے کہ وہ اتوار کی رات یا پیر کی صبح شمالی آرورا صوبے سے ٹکرائے، جس سے دارالحکومت منیلا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

فلپائن  میں شہری دفاع کے دفتر کے مطابق کالمیگی کے باعث کم از کم 188 افراد ہلاک اور 135 لاپتا ہیں۔ طوفان نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا، جن میں سے چار لاکھ پچاس ہزار کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ تین لاکھ اٹھارہ ہزار تاحال وہیں مقیم ہیں۔

ادارت: عاطف توقیر 

https://p.dw.com/p/53FND
مزید پوسٹیں