1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: Jens Büttner/dpa-Zentralbild/picture alliance

تمام سمارٹ فونز کے لیے ایک ہی چارجر، نیا یورپی قانون منظور

5 اکتوبر 2022

یورپ میں آئندہ تمام موبائل فونز، ٹیبلٹس اور کیمروں کا یو ایس بی سی کنکشن کے ذریعے چارجنگ کے قابل ہونا لازمی ہو گا۔ اس کا مطلب یہ کہ ہر قسم کی موبائل ڈیوائسز کو صرف ایک ہی قسم کی چارجنگ کیبل کے ذریعے چارج کیا جا سکے گا۔

https://p.dw.com/p/4Hmwu

اس فیصلے کا عملی نتیجہ یہ ہو گا کہ ستائیس ممالک پر مشتمل پوری یورپی یونین میں تمام سمارٹ اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کو چارج کرنے کے لیے چارجرز کا معیار یکساں نوعیت کا ہو گا اور ایسے تمام چارجر لازماﹰ USB-C قسم کے ہوں گے۔ لیکن یہ پیش رفت خاص طور پر آئی فون تیار کرنے والی امریکی کمپنی ایپل کے لیے مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

یورپی پارلیمان میں قانون سازی

اس سلسلے میں یورپی پارلیمان نے منگل چار اکتوبر کے روز ایک ایسے نئے قانون کی بہت بڑی اکثریت سے منظوری دے دی، جس کا اطلاق 2024ء سے ہو گا اور جس کے تحت سمارٹ اور موبائل ڈیوائسز تیار کرنے والے اداروں کے لیے لازمی ہو گا کہ ان کی تمام مصنوعات ایک ہی چارجر سے چارج کی جا سکیں۔

کیا آپ کے بچے بھی آن لائن ہوتے ہیں؟ برطانیہ میں ٹک ٹاک پر ’جرمانہ‘

اپنی پارلیمانی منظوری کے تقریباﹰ 15 ماہ بعد یکم جنوری 2024ء سے نافذالعمل ہونے والے اس نئے یورپی قانون کا سب سے زیادہ اثر ایپل اور اس کی مصنوعات پر پڑے گا۔ اس لیے کہ اس کے نفاذ کے بعد ایپل کو بھی کم از کم یورپ کے لیے اپنی تمام موبائل ڈیوائسز کی چارجنگ پورٹ تبدیل کرتے ہوئے عمومی طور پر زیادہ استعمال ہونے والا یو ایس بی (سی) فارمیٹ ہی اپنانا پڑے گا۔

یورپی صارفین کو کیا فائدہ؟

ماضی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی طرف سے اس ممکنہ تبدیلی کی اس دلیل کے ساتھ طویل عرصے تک مخالفت کی جاتی رہی تھی کہ ایسا کرنے سے الیکٹرانک کوڑے کرکٹ کے نئے پہاڑ وجود میں آ جائیں گے۔

تین سال بعد دنیا کا ہر چوتھا آئی فون بھارت میں بنا ہوا ہو گا

اس کے برعکس کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس تبدیلی کے بعد دراصل یورپ میں ایپل کی نئی مصنوعات کی فروخت میں اس لیے اضافہ ہو جائے گا کہ بہت سے صارفین کی یہ کوشش ہو گی کہ اگر مختلف طرح کے چارجر استعمال کرنا مجبوری نہ ہو، تو وہ بھی ایپل کی یو ایس بی سی چارجنگ پورٹ والی مصنوعات ہی خریدیں۔

اس نئے یورپی قانون کے نفاذ سے سمارٹ اور موبائل ڈیوائسز کے ساتھ ساتھ ای ریڈرز، ایئر بڈز اور ایسی ہی دیگر سمارٹ پروڈکٹس کے لیے استعمال ہونے والے چارجر بھی متاثر ہوں گے۔ اس لیے سام سنگ، ہواوے اور ایمیزون جیسے بڑے پیداواری اداروں کو بھی اپنی مصنوعات کی چارجنگ کے حوالے سے یہ تبدیلی متعارف کرانا ہو گی۔

سائبر حملوں کا خطرہ، اسمارٹ ڈیوائسز کے لیے قانون سازی

نیا قانون کئی سالہ بحث کا نتیجہ

یورپی پارلیمان نے اب جس نئے قانون کی منظوری دی ہے، وہ اس موضوع پر کئی سالہ بحث کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ یورپی صارفین برسوں سے یہ شکایت کرتے آئے تھے کہ انہیں اپنی مختلف سمارٹ ڈیوائسز کے لیے کئی طرح کے چارجر خریدنا پڑتے ہیں، جو مالی وسائل کے ضیاع کا سبب بھی بنتا ہے اور الیکٹرانک کوڑے میں بلاوجہ اضافے کی وجہ بھی۔

کیا بھارت سستے چینی موبائل فون کی فروخت پر روک لگا رہا ہے؟

یورپی کمیشن کا اندازہ ہے کہ صرف اس ایک نئے قانون سے یورپی یونین کے شہری سالانہ تقریباﹰ 250 ملین یورو کی مالی بچت کر سکیں گے۔

یورپی کمیشن کی طرف سے 2019ء میں کرائے گئے ایک مطالعاتی جائزے کے نتائج کے مطابق پوری یورپی یونین میں سالانہ جتنے بھی سمارٹ فون فروخت ہوتے ہیں، ان میں سے تقریباﹰ نصف کی چارجنگ پورٹ میں یو ایس بی مائیکرو بی کنکٹر استعمال ہوتا ہے، 29 فیصد میں یو ایس بی سی فارمیٹ اور باقی ماندہ 21 فیصد میں ایپل کا تیار کردہ لائٹننگ چارجر۔ اب لیکن 2024ء سے یہ فرق ختم ہو جائے گا۔

م م / ش ر (روئٹرز، اے ایف پی)

موبائل انٹرنیٹ اسپیڈ بڑھانے کے پانچ طریقے

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

G20 Bali | Bundesaußenministerin Baerbock

جرمن وزیر خارجہ اپنے پہلے دورہ بھارت پر دہلی میں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں