تضحیک آمیز بیان پر صوبائی وزیر اطلاعات سے استعفیٰ لے ليا گيا | حالات حاضرہ | DW | 05.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تضحیک آمیز بیان پر صوبائی وزیر اطلاعات سے استعفیٰ لے ليا گيا

ہندوؤں کے خلاف تضحیک آمیز بیان دینے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے استعفی لے لیا گیا ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

دارالحکومت لاہور میں گردش کرنے والی افواہوں کے مطابق ممبر صوبائی اسمبلی صمصام بخاری کو چوہان کی جگہ پنجاب کا نيا وزیر اطلاعات بنایا جا رہا ہے جو امکاناً بدھ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا سکتے ہيں۔ ايسی افواہوں کی البتہ سرکاری ذرائع سے تصديق فی الحال نہيں ہو سکی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کی طرف سے منگل کی شام جاری کيے جانے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کا ہندو مذہب کے ماننے والوں کے بارے ميں دیا گیا بیان حکومت کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس بیان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ بیان سے مکمل طور پر لا تعلقی اختیار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بیان پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بہت رنجیدہ ہیں اور انہیں دلی طور پر دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق وزیر اعلیٰ بزدار نے منگل کے روز فیاض الحسن چوہان سے ملاقات کر کے انہیں اپنی ناخوشی سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد چوہان نے استعفیٰ دیا، جسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے منظور کر لیا۔

دائيں جانب سے دوسرے نمبر پر: فياض الحسن چوہان

دائيں جانب سے دوسرے نمبر پر: فياض الحسن چوہان

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کے مطابق پنجاب حکومت اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کو پہنچنے والے صدمے پر ان سے معذرت خواہ ہے۔ قبل ازيں فیاض الحسن چوہان نے بھی اپنے ایک وضاحتی بیان میں ہندو برادری سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کی ہندو کمیونٹی کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کا ہدف بھارتی وزير اعظم نریندر مودی، بھارتی میڈیا اور افواج تھے۔

فیاض الحسن چوہان بعد ازاں اپنے استعفے کی منظوری کے بعد الحمرا میں سرکاری اہلکاروں سے الوداعی ملاقاتیں کر کے واپس راوالپنڈی روانہ ہو گئے۔ چوہان راولپنڈی سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے کئی مرتبہ تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ تحریک انصاف میں شموليت سے پہلے وہ جماعت اسلامی کا حصہ تھے اور اپنی تعليم کے دور ميں وہ اسلامی جمیعت طلبہ سے بھی منسلک رہے۔

پاکستان ميں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندو کميونٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب یونیورسٹی کے استاد اور ممتاز محقق اشوک کمار کھتری نے کہا کہ صوبائی حکومت کا اقلیتوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا یہ قدم قابل تحسین ہے۔ ان کے بقول اس سے ملک ميں بسنے والی اقلیتوں کو ایک اچھا پیغام پہنچا۔

ویڈیو دیکھیے 05:45

پاکستانی ہندو، خوف اور غیر یقینی کے بیچ

اسی دوران پاکستان میں سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھی فیاض چوہان سے استعفیٰ ليے جانے کو درست فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ اشوک کمار کا کہنا ہے کہ تقسیم کے بعد پاکستان میں رہنے والے ہندو اس ليے بھارت نہیں گئے تھے کيونکہ وہ اس مٹی سے پیار کرتے تھے۔ کمار کا مزيد کہنا تھا کہ بہت سے اقلیتی افراد پاکستان کی حفاظت کا فریضہ بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہندو کميونٹی سے تعلق رکھنے والے چیف جسٹس آف پاکستان بھگوان داس کی خدمات ہمارے سامنے ہیں۔ اسی طرح اور بھی لوگ ہیں۔‘‘ کمار کے مطابق شاید اسی ليے قائد اعظم نے اقلیتوں کے حقوق کے ليے بات کی تھی۔ کمار نے مزيد کہا، ’’پاکستانی پرچم میں سفید رنگ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کی اس پرچم کو سر بلند کرنے کی زیادہ ذمہ داری اقلیتوں کی ہے اور اس لیے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تضحیک آميزی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic