تشدد سے بھارت کا ’گولڈ مین‘ ہلاک | معاشرہ | DW | 15.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تشدد سے بھارت کا ’گولڈ مین‘ ہلاک

سن دو ہزار تیرہ میں شہرت حاصل کرنے والا بھارت کا ’گولڈ مین‘ ہلاک ہو گیا ہے۔ اس تاجر نے دنیا کی مہنگی ترین شرٹ خریدی تھی۔ بائیس کیرٹ خالص سونے سے بنی اس شرٹ کی قیمت ایک کروڑ بھارتی روپے سے بھی زائد تھی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق بھارت کے ’گولڈ مین‘ جس کا اصل نام دتا پھوگے تھا، کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس بھارتی تاجر کو اس وقت شہرت ملی تھی، جب اس نے تقریبا تیرہ ملین روپے کی صرف ایک شرٹ خریدی تھی اور اس شرٹ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ خالص سونے سے بنی ہوئی تھی۔

اس شرٹ کو سونے کے چودہ ہزار ٹکڑوں سے بنایا گیا تھا اور اس کا وزن 3.32 کلوگرام تھا۔ اس شرٹ کو پندرہ ماہرین نے مل کر کل سولہ دنوں میں تیار کیا تھا۔

دتا پھوگے ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کا ایک مشہور تاجر اور ساہوکار تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی عمر تقریبا پینتالیس برس تھی اور اسے جمعرات کی شب بارہ حملہ آورں نے مار مار کر ہلاک کیا۔ بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ’گولڈ مین‘ کو سنگ باری کرتے ہوئے اور تیز دھار ہتھیاروں سے قتل کیا گیا۔ اس نیوز ایجنسی کے مطابق مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک نے مقتول کو ایک پارٹی میں شرکت کے لیے بلایا تھا۔

مقامی پولیس کے افسر نیوناتھ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ابتدائی معلومات کے مطابق ایک مشتبہ حملہ آور نے اپنے بیٹے کی سالگرہ منانے کے لیے پھوگے کو بلایا تھا۔ تاہم ہم اس کیس کی آزادانہ تفتیش کر رہے ہیں اور چار مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔‘‘

اس کارروائی کے موقع پر مقتول کا بائیس سالہ بیٹا بھی اپنے والد کے ساتھ تھا لیکن اس کے والد کو کار سے اتار کر الگ کر لیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق پھوگے سونے اور شہرت کا دیوانہ تھا۔ سن دو ہزار تیرہ میں اس مقتول کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ مجھے علاقے میں ہر کوئی گولڈ مین کے نام سے جانتا ہے۔ دیگر امراء ایک کروڑ مرسیڈیز یا آؤڈی گاڑی خریدنے پر خرچ کر دیتے ہیں۔ میں نے اگر شرٹ خریدی ہے تو کیا جرم کر دیا ہے؟ میں سونے سے محبت کرتا ہوں۔‘‘

دنیا میں سب سے زیادہ سونے کا استعمال بھارت میں کیا جاتا ہے۔ یہ مذہبی رسومات اور شادیوں کا لازمی جزو بن چکا ہے۔