ترک پارلیمانی الیکشن: ایردوآن کی تیسری فتح کا قوی امکان | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترک پارلیمانی الیکشن: ایردوآن کی تیسری فتح کا قوی امکان

ترکی میں اتوار بارہ جون کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی کسی حد تک اسلامی نظریات کی حامل جماعت اے کے پی کی بڑی واضح اکثریت سے مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی کا قوی امکان ہے۔

وزیر اعظم ایردوآن

وزیر اعظم ایردوآن

ترکی میں گزشتہ کئی برسوں سے ایردوآن اور ان کی جماعت کی زبردست مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس جماعت کی اپنی پارلیمانی اکثریت کی وجہ سے اکیلے ہی بنائی گئی گزشتہ دونوں حکومتوں نے ملک میں اقتصادی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے میں قابل رشک حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

ایردوآن کی پارٹی برائے انصاف اور ترقی AKP کی مسلسل کئی برسوں سے شاندار کارکردگی کا راز یہ بھی ہے کہ ترکی میں درمیانے اور نچلے سماجی اور اقتصادی طبقوں کے ووٹروں کی رائے میں قطعی جمہوری انداز میں اسلام پسندانہ سوچ کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ایردوآن ترکی میں اس سیاسی اور معاشی استحکام اور ترقی کی علامت بن گئے ہیں، جس کے تسلسل کی ضمانت دے سکنا ترک اپوزیشن کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔

Türkei NATO Libyen Anders Fogh Rasmussen bei Recep Tayyip Erdogan in Ankara

ایردوآن نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن کے ہمراہ، فائل فوٹو

رجب طیب ایردوآن کی قیادت میں ترکی میں اے کے پی نے اپنی پہلی یک جماعتی قومی حکومت سن 2002 میں بنائی تھی۔ پھر سن 2007 کے عام الیکشن میں اس پارٹی کو کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 47 فیصد ووٹ ملے اور وہ دوبارہ اقتدار میں آ گئی۔ بلکہ شاید یہ کہنا مناسب ہو گیا کہ گزشتہ انتخابات سے پہلے والی حکومت ہی الیکشن کے بعد بننے والی نئی حکومت بھی تھی۔

اب کل اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں سیاسی ماہرین کو یقین ہے کہ ایردوآن کی پارٹی برائے انصاف اور ترقی ایک بار پھر 45 اور 50 فیصد کے درمیان عوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی اور یوں ایردوآن ہی کی قیادت میں AKP مسلسل تیسری بار انقرہ میں حکومت بنا سکے گی۔

اس وقت ترکی میں استنبول سمیت ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایردوآن، ان کی جماعت اور اس جماعت کے انتخابی امیدواروں کے ان گنت پوسٹر اور بینر دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس پارٹی کا سب سے بڑا نعرہ ’ٹارگٹ 2023‘ ہے۔ اس ’ٹارگٹ‘ سے مراد اے کے پی اور اس وقت 57 سالہ ایردوآن کا وہ جامع سیاسی پروگرام ہے، جس پر موجودہ ترک حکومت جدید ترک ریاست کے ایک جمہوریہ کے طور پر قیام کی سو سالہ تقریبات کے موقع تک عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔

ان متاثر کن اہداف میں یہ بھی شامل ہے کہ تب تک ترکی کو دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں سے ایک ہونا چاہیے اور وہ فی کس سالانہ آمدنی جو اس وقت تقریباﹰ 10 ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے، تب تک واضح اضافے کے ساتھ 25 ہزار امریکی ڈالر کے برابر تک پہنچ جانی چاہیے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM