ترک خفیہ ایجنسی نے اسلحے کے ڈیلر کو یوکرائن میں پکڑ لیا | حالات حاضرہ | DW | 03.02.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترک خفیہ ایجنسی نے اسلحے کے ڈیلر کو یوکرائن میں پکڑ لیا

اغوا کیے گئے ترک اسلحہ ڈیلر نے ’وسل بلوؤر‘ کی حیثیت اختیار کر لی تھی اور وہ صدر ایردوان کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔ اس اسلحے کے ڈیلر نے الزام لگایا کہ ترکی میں اسلحے کے کاروبار میں رشوت اعلی ترین حکام تک پہنچتی تھی۔

ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ ترک اسلحے کے ڈیلر نوری بوزکر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے لیے خطرہ بن گئے تھے۔ اندازوں کے مطابق مغوی نوری بوزکر ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو ترک حکومت میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ ہتھیاروں کے اس سوداگر کا ترکی کی جانب سے مختلف جنگ زدہ علاقوں کو خفیہ اسلحے کی ترسیل میں بھی اہم کردار بیان کیا جاتا ہے۔

Türkei | Gökhan Nuri Bozkir der Täter

نوری بوزکر پر الزام ہے کہ وہ سن 2002 میں ترک پروفیسر تعلیم نجیب اولو کے قتل میں ملوث ہیں

نوری بوزکر کی حراست

ترک خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی نے نوری بوزکر کو یوکرائن کے کسی مقام پر ڈھونڈ کر مغوی بنا لیا ہے۔ اس کا انکشاف خود صدر رجب طیب ایردوآن نے کیا۔ ایردوآن نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملکی خفیہ ایجنسی نے اِس شخص کو یوکرائن میں سے ڈھونڈ نکالا ہے اور اس کے پکڑے جانے کی بابت انہوں نے یوکرائنی صدر زیلینسکی سے بات بھی کی ہے۔

توہین آمیز جملوں پر ترک خواتین کے خلاف قانونی کارروائی

نوری بوزکر کی گرفتاری کو ترک صدر نے خفیہ ایجنسی کا ایک بڑا کارنامہ قرار دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ بوزکر اپنے ملک سے فرار ہو کر سن 2015  سے یوکرائن میں مقیم تھے۔

نوری بوزکر کے انکشافات

اسلحے کے اس ڈیلر نے یوکرائنی نیوز سائیٹ اسٹرانا (Strana) کو دیے گئے انٹرویو میں ترکی کے شام اور لیبیا میں عسکریت پسندوں کے ساتھ خفیہ تعلقات اور ان کو ڈھکے چھپے انداز میں اسلحے کی مبینہ ترسیل کی تفصیلات بیان کی تھیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی کے کارکن اس اسلحے کی ترسیل کی فراہمی سے حاصل ہونے والی آمدن میں سے اپنا حصہ بھی حاصل کرتے تھے۔

Türkei Istanbul | Hauptquartier der Nationalen Nachrichtendienstorganisation

ترک خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی کا صدر دفتر استنبول میں واقع ہے

بوزکر کا دعویٰ ہے کہ وہ مشرقی یورپی ممالک سے قانونی انداز میں اسلحہ خرید کر ترکی لاتے تھے اور وہاں سے ترک خفیہ ایجنسی وہ ہتھیار اور گولہ بارود مختلف جنگ زدہ مقامات کی جانب منتقل کرتی تھی۔ مغوی نوری بوزکر ترک فوج میں کیپٹن کے رینک پر بھی رہ چکے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعاون کو تیار ہیں، ترک صدر

بوزکر کے مطابق پچاس کے قریب ہتھیاروں کی کھیپ شام میں عسکریت پسندوں کو پہنچائی گئی تھی اور آخری ترسیل انہوں نے خفیہ ایجنسی کے بغیر مکمل کرنے کی کوشش کی تھی، اور انہیں ترک پولیس نے راستے میں روک لیا تھا۔ اس مبینہ تنازعے کی وجہ سے وہ اپنا ملک چھوڑ کر یوکرائن بھاگ آئے تھے۔

ترکی کو منتقلی رکوانے کی جد و جہد

یوکرائن میں نوری بوزکر سیاسی پناہ کی درخواست جمع کروا چکے ہیں کیونکہ انہیں کئی خدشات لاحق ہیں۔ سیاسی پناہ کی درخواست کے بعد ترک حکومت نے بین الاقوامی پولیس کے ادارے انٹرپول کی جانب سے ان کا ریڈ وارنٹ اس الزام کی بنیاد پر جاری کروایا کہ وہ سن 2002 میں ترک پروفیسر تعلیم نجیب اولو کے قتل میں ملوث ہیں۔ یہ مقدمہ بیس برسوں سے نامکمل ہے۔ بوزکر اس الزام کو رد کرتے ہیں اور اسے ایک جھوٹا الزام قرار دیتے ہیں۔

Türkei I Präsident Recep Erdogan und der ukrainische Präsident Volodymyr Zelensky

کییف حکومت ترکی کو اپنا اقتصادی پارٹنر قرار دیتی ہے

بوزکر کے نمائندے رومن ڈینیسیوک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ترک دستاویزات کا انہوں نے بغور مطالعہ کیا ہے اور اس میں کئی باتیں واضح نہیں ہیں اور اس قتل میں بوزکر کے براہِ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوکرائنی سکیورٹی سروس نے بوزکر کے حوالے سے جو بھی کیا ہے وہ غیر قانونی ہے اور یہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔

ترکی کے مسلح ڈرونز کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

مبصرین کے مطابق بوزکر کی ترکی کو منتقلی ممکن ہے کیونکہ یوکرائن اس وقت سرحدوں پر روسی فوج کے جمع ہونے سے شدید دباؤ میں ہے۔ کییف حکومت ترکی کو اپنا اقتصادی پارٹنر بھی قرار دیتی ہے اور موجودہ بحرانی حالات میں وہ ترکی کے تعاون اور تعلق کو اہمیت دے گی۔

لوئیس زانڈر، بریگیٹا شلکے گِل (ع ح/ ع س)